جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ اب محض ایک آئینی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عوامی اعتماد، وفاقی اصولوں اور جمہوری اقدار کی آزمائش بن چکا ہے۔ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کو ڈھائی برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر اس سلسلے میں اب تک کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ اگرچہ عدالت نے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی تھی، تاہم یہ توقع ضرور تھی کہ اس وعدے کو معقول مدت کے اندر پورا کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی پارلیمنٹ کے ایوان میں اسی عزم کا اعادہ کیا۔ ایسے میں جب انتخابات مکمل ہوچکے، عوام نے اپنی نمائندہ حکومت منتخب کرلی اور جمہوری عمل بحال ہوچکا، تو ریاستی حیثیت کی مسلسل عدم بحالی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہی احساسِ محرومی آج عوامی احتجاج اور سیاسی بے چینی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے قیام کے باوجود یونین ٹیریٹری کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ایک غیر منتخب لیفٹیننٹ گورنر کو وسیع اختیارات دیتا ہے، جن میں بیوروکریسی، پولیس اور کئی اہم انتظامی شعبوں پر فیصلہ کن اختیار شامل ہے۔ جمہوری نظام کی روح یہی ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت کو انتظامی اختیارات بھی حاصل ہوں، ورنہ انتخابات محض ایک رسمی مشق بن کر رہ جاتے ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سکیورٹی صورتِ حال کو تاخیر کی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن اس دلیل پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سرحد پار سے ہونے والے حملے یا دراندازی ریاستی درجہ نہ دینے کی مستقل بنیاد بن جائیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جمہوری اداروں اور عوامی نمائندوں پر اعتماد کب کیا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ مقامی مسائل کا مؤثر حل، عوامی شراکت اور سیاسی اعتماد ہی پائیدار امن کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جاتا ہے تو احساسِ بیگانگی بڑھتا ہے، جبکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ سرحدی ریاستوں اور حساس علاقوں میں مضبوط جمہوری ادارے قومی سلامتی کو کمزور نہیں بلکہ مزید مستحکم کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ صرف سپریم کورٹ ہی سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام سے بھی کیا گیا تھا۔ جمہوری نظام میں وعدوں کی ساکھ ہی عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ایسے وعدے غیر معینہ مدت تک مؤخر ہوتے رہیں تو اس کے اثرات صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے وفاقی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے۔ ریاستی درجہ کسی جماعت یا حکومت کی سیاسی رعایت نہیں بلکہ جمہوری عمل کی فطری تکمیل ہے۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام کے منتخب نمائندوں کو ان کی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق مکمل اختیارات بھی حاصل ہوں۔ یہی راستہ جموں و کشمیر میں اعتماد، استحکام اور دیرپا سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔
ریاستی درجہ کی بحالی کی وعدہ!
ریاستی درجہ کی بحالی کی وعدہ!
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ اب محض ایک آئینی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عوامی اعتماد، وفاقی اصولوں اور جمہوری اقدار کی آزمائش بن چکا ہے۔ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کو ڈھائی برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر اس سلسلے میں اب تک کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ اگرچہ عدالت نے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی تھی، تاہم یہ توقع ضرور تھی کہ اس وعدے کو معقول مدت کے اندر پورا کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی پارلیمنٹ کے ایوان میں اسی عزم کا اعادہ کیا۔ ایسے میں جب انتخابات مکمل ہوچکے، عوام نے اپنی نمائندہ حکومت منتخب کرلی اور جمہوری عمل بحال ہوچکا، تو ریاستی حیثیت کی مسلسل عدم بحالی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہی احساسِ محرومی آج عوامی احتجاج اور سیاسی بے چینی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے قیام کے باوجود یونین ٹیریٹری کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ایک غیر منتخب لیفٹیننٹ گورنر کو وسیع اختیارات دیتا ہے، جن میں بیوروکریسی، پولیس اور کئی اہم انتظامی شعبوں پر فیصلہ کن اختیار شامل ہے۔ جمہوری نظام کی روح یہی ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت کو انتظامی اختیارات بھی حاصل ہوں، ورنہ انتخابات محض ایک رسمی مشق بن کر رہ جاتے ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سکیورٹی صورتِ حال کو تاخیر کی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن اس دلیل پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سرحد پار سے ہونے والے حملے یا دراندازی ریاستی درجہ نہ دینے کی مستقل بنیاد بن جائیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جمہوری اداروں اور عوامی نمائندوں پر اعتماد کب کیا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ مقامی مسائل کا مؤثر حل، عوامی شراکت اور سیاسی اعتماد ہی پائیدار امن کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کو فیصلہ سازی سے دور رکھا جاتا ہے تو احساسِ بیگانگی بڑھتا ہے، جبکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ سرحدی ریاستوں اور حساس علاقوں میں مضبوط جمہوری ادارے قومی سلامتی کو کمزور نہیں بلکہ مزید مستحکم کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ صرف سپریم کورٹ ہی سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام سے بھی کیا گیا تھا۔ جمہوری نظام میں وعدوں کی ساکھ ہی عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ایسے وعدے غیر معینہ مدت تک مؤخر ہوتے رہیں تو اس کے اثرات صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے وفاقی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے۔ ریاستی درجہ کسی جماعت یا حکومت کی سیاسی رعایت نہیں بلکہ جمہوری عمل کی فطری تکمیل ہے۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام کے منتخب نمائندوں کو ان کی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق مکمل اختیارات بھی حاصل ہوں۔ یہی راستہ جموں و کشمیر میں اعتماد، استحکام اور دیرپا سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔


