حج مہنگا ہوتا جارہا ہے؟

جموں و کشمیر سے حج 2027 کے لئے اب تک صرف تقریباً 2300 درخواستوں کا موصول ہونا ایک تشویش ناک اشارہ ہے۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 20 جولائی مقرر ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں سے عازمین حج کی تعداد میں مسلسل کمی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ حج کے اخراجات میں اضافہ ایک حقیقت ہے۔ سعودی عرب میں بڑھتے ہوئے ٹیکس، خدمات کی قیمتوں میں اضافہ، ایندھن کی بلند قیمتیں اور عالمی سطح پر کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے حج کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے پہلے سے زیادہ مہنگا بنا دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ہندوستان یا جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر ملک کو درپیش ہے۔ حکومتیں بھی اخراجات کم کرنے کے مختلف طریقے تلاش کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود عام آدمی کے لئے حج تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف مہنگائی ہی حج سے دوری کی وجہ ہے؟ اس کا جواب شاید نفی میں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ترجیحات کا توازن بھی بگڑ چکا ہے۔ کشمیر سمیت برصغیر کے کئی علاقوں میں شادی بیاہ کی تقریبات نمود و نمائش کا میدان بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے صرف ایک دن کی شان و شوکت پر خرچ کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ضرورت سے کہیں بڑے اور پرتعیش مکانات تعمیر کرنا بھی سماجی وقار کی علامت سمجھا جانے لگا ہے، خواہ اس کے لئے برسوں قرض کا بوجھ ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اگر ایک خاندان شادی کی غیر ضروری رسومات، مہنگے دعوت ناموں، پرتعیش ولیموں، قیمتی ملبوسات اور فضول آرائش پر خرچ ہونے والی رقم کا ایک حصہ بھی بچائے تو چند برسوں میں حج کے لئے خاطر خواہ سرمایہ جمع کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ بڑے اور غیر ضروری تعیشات پر مبنی گھروں کی دوڑ سے نکل کر اعتدال اختیار کیا جائے تو حج جیسی عظیم عبادت کے لئے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

اسلام نے ہمیشہ میانہ روی، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب کی تعلیم دی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان تعلیمات کو زندگی کے بجائے صرف کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ آج ہمارے لئے سماجی حیثیت کا معیار بڑی ضیافتیں اور عالی شان عمارتیں بن چکی ہیں، جبکہ اللہ کے گھر کی حاضری کو اکثر "بعد میں دیکھیں گے” کہہ کر مؤخر کر دیا جاتا ہے۔

یہ وقت اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا ہے۔ حج محض ایک سفر نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور اللہ کی رضا کا عظیم مظہر ہے۔ اگر ہم غیر ضروری اخراجات کو کم کریں، سادگی کو اختیار کریں اور حج کے لئے باقاعدہ بچت کی روایت اپنائیں تو ہزاروں ایسے افراد بھی بیت اللہ کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں جو آج اسے صرف ایک خواب سمجھتے ہیں۔

 

حج کے بڑھتے ہوئے اخراجات یقیناً ایک چیلنج ہیں، مگر اس سے بڑا چیلنج ہماری بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ جب تک ہم دکھاوے کو عبادت پر ترجیح دیتے رہیں گے، اللہ کے گھر کا سفر ہمارے لئے مزید دور ہوتا جائے گا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سادگی، اعتدال اور دینی ترجیحات کو دوبارہ زندہ کریں، تاکہ بیت اللہ کی حاضری صرف ایک آرزو نہیں بلکہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کی عملی منزل بن سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

حج مہنگا ہوتا جارہا ہے؟

جموں و کشمیر سے حج 2027 کے لئے اب تک صرف تقریباً 2300 درخواستوں کا موصول ہونا ایک تشویش ناک اشارہ ہے۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 20 جولائی مقرر ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں سے عازمین حج کی تعداد میں مسلسل کمی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ حج کے اخراجات میں اضافہ ایک حقیقت ہے۔ سعودی عرب میں بڑھتے ہوئے ٹیکس، خدمات کی قیمتوں میں اضافہ، ایندھن کی بلند قیمتیں اور عالمی سطح پر کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے حج کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے پہلے سے زیادہ مہنگا بنا دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ہندوستان یا جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر ملک کو درپیش ہے۔ حکومتیں بھی اخراجات کم کرنے کے مختلف طریقے تلاش کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود عام آدمی کے لئے حج تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف مہنگائی ہی حج سے دوری کی وجہ ہے؟ اس کا جواب شاید نفی میں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ترجیحات کا توازن بھی بگڑ چکا ہے۔ کشمیر سمیت برصغیر کے کئی علاقوں میں شادی بیاہ کی تقریبات نمود و نمائش کا میدان بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے صرف ایک دن کی شان و شوکت پر خرچ کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ضرورت سے کہیں بڑے اور پرتعیش مکانات تعمیر کرنا بھی سماجی وقار کی علامت سمجھا جانے لگا ہے، خواہ اس کے لئے برسوں قرض کا بوجھ ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اگر ایک خاندان شادی کی غیر ضروری رسومات، مہنگے دعوت ناموں، پرتعیش ولیموں، قیمتی ملبوسات اور فضول آرائش پر خرچ ہونے والی رقم کا ایک حصہ بھی بچائے تو چند برسوں میں حج کے لئے خاطر خواہ سرمایہ جمع کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ بڑے اور غیر ضروری تعیشات پر مبنی گھروں کی دوڑ سے نکل کر اعتدال اختیار کیا جائے تو حج جیسی عظیم عبادت کے لئے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

اسلام نے ہمیشہ میانہ روی، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب کی تعلیم دی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان تعلیمات کو زندگی کے بجائے صرف کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ آج ہمارے لئے سماجی حیثیت کا معیار بڑی ضیافتیں اور عالی شان عمارتیں بن چکی ہیں، جبکہ اللہ کے گھر کی حاضری کو اکثر "بعد میں دیکھیں گے” کہہ کر مؤخر کر دیا جاتا ہے۔

یہ وقت اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا ہے۔ حج محض ایک سفر نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور اللہ کی رضا کا عظیم مظہر ہے۔ اگر ہم غیر ضروری اخراجات کو کم کریں، سادگی کو اختیار کریں اور حج کے لئے باقاعدہ بچت کی روایت اپنائیں تو ہزاروں ایسے افراد بھی بیت اللہ کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں جو آج اسے صرف ایک خواب سمجھتے ہیں۔

 

حج کے بڑھتے ہوئے اخراجات یقیناً ایک چیلنج ہیں، مگر اس سے بڑا چیلنج ہماری بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ جب تک ہم دکھاوے کو عبادت پر ترجیح دیتے رہیں گے، اللہ کے گھر کا سفر ہمارے لئے مزید دور ہوتا جائے گا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سادگی، اعتدال اور دینی ترجیحات کو دوبارہ زندہ کریں، تاکہ بیت اللہ کی حاضری صرف ایک آرزو نہیں بلکہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کی عملی منزل بن سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں