دہلی یونیورسٹی میں "ہندوستان میں افریقی ادب کے مطالعات” پر سالانہ نظامِ اردو خطبہ کا انعقاد

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام سالانہ "نظامِ اردو خطبہ” کا انعقاد بروز بدھ 11 فروری 2026 کو خواجہ احمد فاروقی لائبریری، شعبۂ اردو میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس سال خطبے کا موضوع "ہندوستان میں افریقی ادب کے مطالعات” تھا۔
معروف ادیب پروفیسر ہریش نارنگ نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے افریقی ادب کی تاریخی جڑوں، نوآبادیاتی پس منظر، مزاحمتی شعور اور تہذیبی شناخت کے مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ادب نہ صرف اپنے معاشرتی و سیاسی تناظر میں اہم ہے بلکہ ہندوستانی جامعات میں اس کے مطالعات کے فروغ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت اور افریقہ کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کو مستحکم کرنے پر زور دیا اور طلبہ و محققین کو اس میدان میں نئے تحقیقی امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر بلرام پانی، ڈین آف کالجز، دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ اس نوعیت کے علمی خطبات طلبہ میں بین الاقوامی ادب کے مطالعے کا ذوق پیدا کرتے ہیں اور فکری وسعت کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے شعبۂ اردو کی علمی سرگرمیوں کو سراہا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر بندھیہ واسنی پانڈے، ڈائرکٹر سنٹر فار ہمالین اسٹڈیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ افریقی اور ایشیائی ادب میں مشترکہ نوآبادیاتی تجربات پائے جاتے ہیں، جن کا تقابلی مطالعہ عصرِ حاضر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر آئی۔ این۔ سنگھ، ڈین فیکلٹی آف آرٹس نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے اس موضوع کے انتخاب کو بروقت اور معنویت سے بھرپور قرار دیا۔
صدر شعبۂ اُردو پروفیسر ابوبکر عباد صاحب نے تمام مہمانان کا استقبال کیا اور موضوع کی اہمیت اور نظام اردو خطبات  کی روایت پر روشنی ڈالی، جب کہ اس پروگرام کے کنوینر پروفیسر متھن کمارصاحب نے اسپیکر کے اور  تمام مہمانانِ اکرام اور شرکائے جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں مختلف شعبوں کے  اساتذہ بطور خاص شعبۂ ہندی کی صدر پروفیسر سدھا سنگھ ، شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر حسنین اختر اور شعبۂ فارسی کے صدر پروفیسر علیم اشرف خاں صاحب کے علاوہ  ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں پروفیسر ارجمند آرا، پروفیسر مشتاق عالم قادری، پروفیسر احمد امتیاز ، ڈاکٹر ارشاد احمد نیازی، ڈاکٹر علی احمد ادریسی کے علاوہ مختلف کالجز کے اساتذہ بالخصوص پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر شیخ عقیل احمد،پروفیسر مظہر احمد، پروفیسر نوشادعالم، ڈاکٹر قمر الحسن، ڈاکٹر محمد رکن الدین، ڈاکٹر بشیر شاہین اور ڈاکٹر یوسف رامپوری وغیرہ موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

دہلی یونیورسٹی میں "ہندوستان میں افریقی ادب کے مطالعات” پر سالانہ نظامِ اردو خطبہ کا انعقاد

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام سالانہ "نظامِ اردو خطبہ” کا انعقاد بروز بدھ 11 فروری 2026 کو خواجہ احمد فاروقی لائبریری، شعبۂ اردو میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس سال خطبے کا موضوع "ہندوستان میں افریقی ادب کے مطالعات” تھا۔
معروف ادیب پروفیسر ہریش نارنگ نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے افریقی ادب کی تاریخی جڑوں، نوآبادیاتی پس منظر، مزاحمتی شعور اور تہذیبی شناخت کے مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ادب نہ صرف اپنے معاشرتی و سیاسی تناظر میں اہم ہے بلکہ ہندوستانی جامعات میں اس کے مطالعات کے فروغ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت اور افریقہ کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کو مستحکم کرنے پر زور دیا اور طلبہ و محققین کو اس میدان میں نئے تحقیقی امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر بلرام پانی، ڈین آف کالجز، دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ اس نوعیت کے علمی خطبات طلبہ میں بین الاقوامی ادب کے مطالعے کا ذوق پیدا کرتے ہیں اور فکری وسعت کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے شعبۂ اردو کی علمی سرگرمیوں کو سراہا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر بندھیہ واسنی پانڈے، ڈائرکٹر سنٹر فار ہمالین اسٹڈیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ افریقی اور ایشیائی ادب میں مشترکہ نوآبادیاتی تجربات پائے جاتے ہیں، جن کا تقابلی مطالعہ عصرِ حاضر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر آئی۔ این۔ سنگھ، ڈین فیکلٹی آف آرٹس نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے اس موضوع کے انتخاب کو بروقت اور معنویت سے بھرپور قرار دیا۔
صدر شعبۂ اُردو پروفیسر ابوبکر عباد صاحب نے تمام مہمانان کا استقبال کیا اور موضوع کی اہمیت اور نظام اردو خطبات  کی روایت پر روشنی ڈالی، جب کہ اس پروگرام کے کنوینر پروفیسر متھن کمارصاحب نے اسپیکر کے اور  تمام مہمانانِ اکرام اور شرکائے جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں مختلف شعبوں کے  اساتذہ بطور خاص شعبۂ ہندی کی صدر پروفیسر سدھا سنگھ ، شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر حسنین اختر اور شعبۂ فارسی کے صدر پروفیسر علیم اشرف خاں صاحب کے علاوہ  ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں پروفیسر ارجمند آرا، پروفیسر مشتاق عالم قادری، پروفیسر احمد امتیاز ، ڈاکٹر ارشاد احمد نیازی، ڈاکٹر علی احمد ادریسی کے علاوہ مختلف کالجز کے اساتذہ بالخصوص پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر شیخ عقیل احمد،پروفیسر مظہر احمد، پروفیسر نوشادعالم، ڈاکٹر قمر الحسن، ڈاکٹر محمد رکن الدین، ڈاکٹر بشیر شاہین اور ڈاکٹر یوسف رامپوری وغیرہ موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں