جنگ نیوز+پی آئی بی
سرینگر/پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) سرینگر کی جانب سے منعقدہ میڈیا ٹور کے تحت، آج سرینگر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں پر مشتمل وفد نے کیرالہ میں واقع وزینجم انٹرنیشنل ٹرانس شپمنٹ ڈیپ واٹر ملٹی پرپز سی پورٹ کا دورہ کیا۔ یہ ایک اہم اسٹریٹجک بحری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جسے آدانی پورٹس نے تیار کیا ہے۔ مئی 2025 میں وزیر اعظم ہند کے ہاتھوں افتتاح کے بعد، وزینجام انٹرنیشنل سی پورٹ (وی آئی ایس) بھارت کا پہلا بڑا ڈیپ واٹر کنٹینر ٹرانس شپمنٹ حب بن چکا ہے، جس کا مقصد عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم دروازے کے طور پر خدمات انجام دینا ہے۔
وفد سے خطاب کرتے ہوئے، اڈانی وزینجم پورٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب پردیپ جے رامن نے کہا کہ وزینجم ایک ایسا ٹرانس شپمنٹ حب ہے جو کنٹینر ہینڈلنگ کے لیے غیر ملکی بندرگاہوں پر بھارت کے انحصار کو کم کرتا ہے، لاجسٹک کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے اور عالمی سپلائی چین میں بھارت کے مقام کو مضبوط بناتا ہے۔
جناب جے رامن نے وزینجم بندرگاہ میں موجود جدید ترین بنیادی ڈھانچے بشمول جدید کوئے کرینیں، جدید یارڈ آلات اور مؤثر کارگو ہینڈلنگ اور بندرگاہی آپریشن کے لیے مربوط ڈیجیٹل نظام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزینجم کی جغرافیائی خصوصیات، جیسے قدرتی گہرائی اور بین الاقوامی شپنگ لینز کے قریب واقع ہونا، اسے عالمی سطح پر بڑے تجارتی مراکز کے درمیان کنٹینر کی ہموار ٹرانس شپمنٹ کے قابل بناتی ہیں۔

بندرگاہ کی کثیر الوسائط کنیکٹیویٹی، جو بحری کاروائیوں کو اندرون ملک نقل و حمل کے نیٹ ورکس سے جوڑتی ہے، ملک کے اندر اور سرحدوں کے پار سامان کی مؤثر نقل و حرکت کو یقینی بناتی ہے۔ جناب جے رامن نے وضاحت کی کہ بندرگاہ کا ڈیزائن اور آپریشنل منصوبہ بندی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ترقی کی حمایت کے لیے تیار کی گئی ہے۔ وزینجم بندرگاہ کئی نمایاں خصوصیات کی حامل ہے، جن میں بھارت کی پہلی خاتون کرین آپریٹر بھی شامل ہیں، جو شمولیت اور ہنرمندی کی ترقی پر بندرگاہ کے زور کو ظاہر کرتا ہے۔ بندرگاہ کا وہیکل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم آئی آئی ٹی مدراس میں پروان چڑھنے والے ایک اسٹارٹ اپ نے تیار کیا ہے، جو وسیع پیمانے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مقامی اختراع کے انضمام کی مثال ہے۔
وفد کی رہنمائی جناب مہیش گپتن، ہیڈ آف کمیونیکیشنز، آدانی وزینجام پورٹ نے کی، جنہوں نے ملاقات کا اہتمام کیا اور صحافیوں کو بندرگاہ کے مختلف آپریشنل شعبوں کا دورہ کرایا۔ وفد نے مختلف محکموں، کنٹینر یارڈ کا معائنہ کیا اور جدید ریموٹ سسٹم کے ذریعے بندرگاہ کے آپریشن کی نگرانی اور کنٹرول کا مشاہدہ بھی کیا، جس سے انہیں بندرگاہ میں موجود اعلیٰ سطح کی آٹومیشن اور ڈیجیٹل انضمام کا براہِ راست تجربہ حاصل ہوا۔
بتایا گیا کہ بندرگاہ کی منصوبہ بند سالانہ کنٹینر ہینڈلنگ صلاحیت 15 لاکھ کنٹینر ہے اور اب تک تقریباً 740 جہاز یہاں لنگر انداز ہو چکے ہیں، جن میں دنیا کے سب سے بڑے کنٹینر جہاز بھی شامل ہیں۔ بندرگاہ میں ملک کی سب سے بڑی بریک واٹر دیوار بھی موجود ہے، جو محفوظ اور مؤثر آپریشن کے لیے ایک اہم انجینئرنگ خصوصیت ہے۔
آٹومیشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی میں عملے کی تربیت اور مہارت میں اضافہ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ کام میں آسانی، باوقار روزگار اور طویل مدتی کیریئر کے مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔ بندرگاہ میں ایک مخصوص تربیتی ادارہ بھی قائم ہے، جو صلاحیت سازی کے لیے کام کرتا ہے، جن میں مقامی خواتین کی تربیت اور نامیاتی زراعت کے فروغ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔
میٹنگ کے آغاز میں پی آئی بی سرینگر کے میڈیا و کمیونیکیشن آفیسر جناب ماجد پنڈت جو کیرالہ کے اس دورے کے کنڈکٹنگ آفیسر بھی ہیں، نے پریس وفد کے اراکین کا تعارف کرایا۔ وزینجم بندرگاہ کا یہ دورہ پی آئی بی سرینگر کے پانچ روزہ میڈیا آؤٹ ریچ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد صحافیوں کو اہم قومی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، تحقیقی اداروں اور سرکاری اقدامات سے براہِ راست روشناس کرانا ہے۔


