بھارت کی میزبانی میں دوسری بھارت-عرب وزرائے خارجہ ملاقات، غزہ پر خاص توجہ مرکوز

جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی میں دوسری بھارت-عرب وزرائے خارجہ ملاقات منعقد ہوئی۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت بھارت اور متحدہ عرب امارات نے کی، جس میں 22 عرب ممالک نے شرکت کی۔
وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں تنازع کے حل کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
وزیرِ خارجہ نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ سوڈان، یمن، لبنان اور لیبیا میں جاری تنازعات بھی اجتماعی علاقائی اور عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔
بھارت-عرب تعلقات کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس خطے میں دنیا کی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں سے ایک آباد ہے، جس کے باعث استحکام اور باہمی تعاون دونوں فریقوں کے لیے ایک مشترکہ ضرورت بن چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

BRICS اور سفارت کاری کی نئی معنویت

عالمی سیاست میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برکس سربراہی...

جموں و کشمیر: این ایچ ایم ملازمین نے ہڑتال میں مزید 72 گھنٹوں کی توسیع کر دی

  سرینگر: جموں و کشمیر نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن...

تیندوے نے مویشیوں کے ریوڑ پر حملہ کر کے تین بکریاں ہلاک اور دو کو شدید زخمی کر دیا۔

  سرینگر: ضلع راجوری کے علاقے منجاکوٹ کے گاؤں حیات...

تازہ ترین خبریں

BRICS اور سفارت کاری کی نئی معنویت

عالمی سیاست میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برکس سربراہی...

جموں و کشمیر: این ایچ ایم ملازمین نے ہڑتال میں مزید 72 گھنٹوں کی توسیع کر دی

  سرینگر: جموں و کشمیر نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن...

تیندوے نے مویشیوں کے ریوڑ پر حملہ کر کے تین بکریاں ہلاک اور دو کو شدید زخمی کر دیا۔

  سرینگر: ضلع راجوری کے علاقے منجاکوٹ کے گاؤں حیات...

بھارت کی میزبانی میں دوسری بھارت-عرب وزرائے خارجہ ملاقات، غزہ پر خاص توجہ مرکوز

جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی میں دوسری بھارت-عرب وزرائے خارجہ ملاقات منعقد ہوئی۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت بھارت اور متحدہ عرب امارات نے کی، جس میں 22 عرب ممالک نے شرکت کی۔
وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں تنازع کے حل کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
وزیرِ خارجہ نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ سوڈان، یمن، لبنان اور لیبیا میں جاری تنازعات بھی اجتماعی علاقائی اور عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔
بھارت-عرب تعلقات کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس خطے میں دنیا کی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں سے ایک آباد ہے، جس کے باعث استحکام اور باہمی تعاون دونوں فریقوں کے لیے ایک مشترکہ ضرورت بن چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں