بھارت-یورپی یونین تعلقات : تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ طے

جنگ نیوز

نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا-یورپی یونین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے اعلیٰ رہنماؤں کی بھارت آمد معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ مضبوط شراکت داری کی علامت ہے۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) طے پایا ہے، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں دو طرفہ تجارت بڑھ کر 180 ارب یورو تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہزاروں یورپی کمپنیاں بھارت میں اور بھارتی کمپنیاں یورپ میں سرگرم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے سے ٹیکسٹائل، جواہرات، آٹو پارٹس، انجینئرنگ مصنوعات، زراعت، ماہی گیری اور خدماتی شعبے خصوصاً آئی ٹی اور تعلیم کو فائدہ ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ اس شراکت داری کو اعتماد، وسعت اور پائیداری کے ساتھ آگے بڑھائے اور اسے عالمی ترقی کا محرک بنائے۔
نتائج کی فہرست
٭ 2030 کی طرف: ایک مشترکہ ہندوستان-یورپی یونین جامع اسٹریٹجک ایجنڈا
٭ ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلان
٭ آر بی آئی اور یورپی سیکورٹیز اینڈ مارکیٹ اتھارٹی (ای ایس ایم اے)کے درمیان مفاہمت نامہ
٭ ایڈوانسڈ الیکٹرانک دستخطوں اور مہروں پر انتظامی بندوبست
٭ سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری
٭ بھارت-یورپی یونین سیکورٹی آف انفارمیشن معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز
٭ نقل و حرکت سے متعلق تعاون پر جامع فریم ورک پر مفاہمت نامہ
٭ ہندوستان میں یورپی یونین کے پائلٹ لیگل گیٹ وے آفس کے قیام کا اعلان جس کا مقصد ہنرمندی کی نقل و حرکت کو بڑھانا ہے
٭ این ڈی ایم اے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے یورپی شہری تحفظ اور انسانی امداد کے آپریشنز(ڈی جی-ای سی ایچ او) کے درمیان ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اور ایمرجنسی رسپانس میں تعاون سے متعلق انتظامی بندوبست
٭ گرین ہائیڈروجن ٹاسک فورس کی تشکیل
٭ 2030-2025 کی مدت کے لیے سائنسی اور تکنیکی تعاون پر ہندوستان-یورپی یونین معاہدے کی تجدید
٭ ہورائزن یورپ پروگرام کے ساتھ ایسوسی ایشن کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہندوستان کے لیے تحقیقی بات چیت کا آغاز
٭ بھارت۔یورپی یونین سہ فریقی تعاون کے تحت چار (4) منصوبوں کو مشترکہ طور پر نافذ کرنے کا معاہدہ، جن میں خواتین اور نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل اختراع اور مہارتوں کے مرکز کا قیام؛ زراعت اور غذائی نظام میں خواتین کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے شمسی توانائی پر مبنی حل؛ ابتدائی انتباہی نظام؛ اور افریقہ، ہند۔بحرالکاہل اور کیریبین کے چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک میں شمسی توانائی پر مبنی پائیدار توانائی کی منتقلی شامل ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

بھارت-یورپی یونین تعلقات : تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ طے

جنگ نیوز

نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا-یورپی یونین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے اعلیٰ رہنماؤں کی بھارت آمد معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ مضبوط شراکت داری کی علامت ہے۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) طے پایا ہے، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں دو طرفہ تجارت بڑھ کر 180 ارب یورو تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہزاروں یورپی کمپنیاں بھارت میں اور بھارتی کمپنیاں یورپ میں سرگرم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے سے ٹیکسٹائل، جواہرات، آٹو پارٹس، انجینئرنگ مصنوعات، زراعت، ماہی گیری اور خدماتی شعبے خصوصاً آئی ٹی اور تعلیم کو فائدہ ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ اس شراکت داری کو اعتماد، وسعت اور پائیداری کے ساتھ آگے بڑھائے اور اسے عالمی ترقی کا محرک بنائے۔
نتائج کی فہرست
٭ 2030 کی طرف: ایک مشترکہ ہندوستان-یورپی یونین جامع اسٹریٹجک ایجنڈا
٭ ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلان
٭ آر بی آئی اور یورپی سیکورٹیز اینڈ مارکیٹ اتھارٹی (ای ایس ایم اے)کے درمیان مفاہمت نامہ
٭ ایڈوانسڈ الیکٹرانک دستخطوں اور مہروں پر انتظامی بندوبست
٭ سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری
٭ بھارت-یورپی یونین سیکورٹی آف انفارمیشن معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز
٭ نقل و حرکت سے متعلق تعاون پر جامع فریم ورک پر مفاہمت نامہ
٭ ہندوستان میں یورپی یونین کے پائلٹ لیگل گیٹ وے آفس کے قیام کا اعلان جس کا مقصد ہنرمندی کی نقل و حرکت کو بڑھانا ہے
٭ این ڈی ایم اے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے یورپی شہری تحفظ اور انسانی امداد کے آپریشنز(ڈی جی-ای سی ایچ او) کے درمیان ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اور ایمرجنسی رسپانس میں تعاون سے متعلق انتظامی بندوبست
٭ گرین ہائیڈروجن ٹاسک فورس کی تشکیل
٭ 2030-2025 کی مدت کے لیے سائنسی اور تکنیکی تعاون پر ہندوستان-یورپی یونین معاہدے کی تجدید
٭ ہورائزن یورپ پروگرام کے ساتھ ایسوسی ایشن کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہندوستان کے لیے تحقیقی بات چیت کا آغاز
٭ بھارت۔یورپی یونین سہ فریقی تعاون کے تحت چار (4) منصوبوں کو مشترکہ طور پر نافذ کرنے کا معاہدہ، جن میں خواتین اور نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل اختراع اور مہارتوں کے مرکز کا قیام؛ زراعت اور غذائی نظام میں خواتین کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے شمسی توانائی پر مبنی حل؛ ابتدائی انتباہی نظام؛ اور افریقہ، ہند۔بحرالکاہل اور کیریبین کے چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک میں شمسی توانائی پر مبنی پائیدار توانائی کی منتقلی شامل ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں