2020 سے جموں و کشمیر میں زبانوں کے احیا اور مقامی ثقافت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوششوں کا آغاز ہوا

جنگ نیوز ڈیسک

لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر شری منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ کئی دہائیوں کے بعد 2020 میں جموں و کشمیر کی مقدس سرزمین پر زبانوں کے احیا اور مقامی ثقافت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس ثقافتی ورثے کو محض یادگار کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت کے طور پر آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر جموں کے ابھی نو تھیٹر میں منعقدہ اکھل بھارتیہ ہندی کوی سمیلن سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) کے زیر اہتمام یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کی گئی۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کوی سمیلن میں شریک ممتاز شعرا کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ادبی برادری کے مثبت اور انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شعرا کے پاس معاشرے کی داخلی ساخت کو سنوارنے، اس کی رفتار کو آگے بڑھانے اور قومی شعور میں نئی روح پھونکنے کی غیر معمولی طاقت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی طور پر خوشحال معاشرہ، جو مادی ترقی کے ساتھ ثقافتی اور روحانی توازن بھی رکھتا ہو، سائنس دانوں اور شعرا دونوں کی مساوی خدمات کا متقاضی ہوتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق شاعری محسوس اور غیر محسوس کے درمیان ایک پل کی مانند ہے، جو انسان کو زندگی کے مانوس دائروں سے نکال کر نئے اور نامعلوم افق تک لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اس وقت جنم لیتی ہے جب اندرونی جذبات الفاظ کی حدود سے آگے بڑھ کر بامعنی اظہار اختیار کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ثقافت روح کو سمت عطا کرتی ہے جبکہ معاشی خودمختاری اسے استحکام فراہم کرتی ہے، اور ان دونوں کے متوازن امتزاج سے ہی ایک ہم آہنگ، ترقی پسند اور خود انحصار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر قدرتی وسائل، انسانی صلاحیتوں اور شاندار ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے، ضرورت صرف ان وسائل کے دانشمندانہ اور منصوبہ بند استعمال کی ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی امنگوں کی تکمیل ممکن ہوگی بلکہ جموں و کشمیر قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر پدم شری ڈاکٹر ایس پی ورما، ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری (پرنسپل سیکریٹری برائے لیفٹیننٹ گورنر)، شری برج موہن شرما (پرنسپل سیکریٹری ثقافت)، شری رمیش کمار (ڈویژنل کمشنر جموں)، شری شکتی کمار پاٹھک (ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بیورو)، شری شیوم کمار شرما (ڈی آئی جی جموں-سانبہ-کٹھوعہ رینج)، محترمہ شروتی اوستھی (ریجنل ڈائریکٹر آئی جی این سی اے)، محترمہ ہرویندر کور (سیکریٹری جے کے اے اے سی ایل)، پولیس و سول انتظامیہ کے سینئر افسران، ممتاز ادبی شخصیات اور مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

2020 سے جموں و کشمیر میں زبانوں کے احیا اور مقامی ثقافت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوششوں کا آغاز ہوا

جنگ نیوز ڈیسک

لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر شری منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ کئی دہائیوں کے بعد 2020 میں جموں و کشمیر کی مقدس سرزمین پر زبانوں کے احیا اور مقامی ثقافت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس ثقافتی ورثے کو محض یادگار کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت کے طور پر آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر جموں کے ابھی نو تھیٹر میں منعقدہ اکھل بھارتیہ ہندی کوی سمیلن سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) کے زیر اہتمام یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کی گئی۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کوی سمیلن میں شریک ممتاز شعرا کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ادبی برادری کے مثبت اور انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شعرا کے پاس معاشرے کی داخلی ساخت کو سنوارنے، اس کی رفتار کو آگے بڑھانے اور قومی شعور میں نئی روح پھونکنے کی غیر معمولی طاقت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی طور پر خوشحال معاشرہ، جو مادی ترقی کے ساتھ ثقافتی اور روحانی توازن بھی رکھتا ہو، سائنس دانوں اور شعرا دونوں کی مساوی خدمات کا متقاضی ہوتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق شاعری محسوس اور غیر محسوس کے درمیان ایک پل کی مانند ہے، جو انسان کو زندگی کے مانوس دائروں سے نکال کر نئے اور نامعلوم افق تک لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اس وقت جنم لیتی ہے جب اندرونی جذبات الفاظ کی حدود سے آگے بڑھ کر بامعنی اظہار اختیار کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ثقافت روح کو سمت عطا کرتی ہے جبکہ معاشی خودمختاری اسے استحکام فراہم کرتی ہے، اور ان دونوں کے متوازن امتزاج سے ہی ایک ہم آہنگ، ترقی پسند اور خود انحصار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر قدرتی وسائل، انسانی صلاحیتوں اور شاندار ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے، ضرورت صرف ان وسائل کے دانشمندانہ اور منصوبہ بند استعمال کی ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی امنگوں کی تکمیل ممکن ہوگی بلکہ جموں و کشمیر قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر پدم شری ڈاکٹر ایس پی ورما، ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری (پرنسپل سیکریٹری برائے لیفٹیننٹ گورنر)، شری برج موہن شرما (پرنسپل سیکریٹری ثقافت)، شری رمیش کمار (ڈویژنل کمشنر جموں)، شری شکتی کمار پاٹھک (ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بیورو)، شری شیوم کمار شرما (ڈی آئی جی جموں-سانبہ-کٹھوعہ رینج)، محترمہ شروتی اوستھی (ریجنل ڈائریکٹر آئی جی این سی اے)، محترمہ ہرویندر کور (سیکریٹری جے کے اے اے سی ایل)، پولیس و سول انتظامیہ کے سینئر افسران، ممتاز ادبی شخصیات اور مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں