نئی نسل کی راہ کہاں جارہی ہے؟

 

 

ہمراز شیبا علی
سرینگر کشمیر

"اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فلاد”

نوجوان کسی بھی قوم و ملت اور معاشرے کے اہم ستون اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں اور ہر اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر منحصر ہوتی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اج یہ نوجوان ذہنی خلفشاراور مختلف قسم کے نظریاتی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ۔ جس قوم کے نوجوان اعلی کردار اور بلند اخلاق کے حامل اور مذہبی اقدار کے محافظ و پاسبان ہوتے ہیں کامیابی اس کے کے قدم چومتی ہے۔ وہ قوم دنیا میں سرخرو اور اخرت میں فلاح یاب ہوتی ہے اس کے بر خلاف جس قوم کے نوجوان حیا باختہ ،بے لگام ،خواہشات نفسانی کے اسیر اور اعلی مذہبی روایات سے تہی دامن ہوتے ہیں وہ قوم قعر مذلت میں جا گرتی ہے، نہ صرف وہ اخرت میں رحمت الہی سے دور ہوتی بلکہ دنیا میں بھی ذلت و ادبار اس کے مقدر ٹھہرتا ہے۔ امت مسلمہ کی موجودہ خستہ حالی اور اس کی ہمہ گیر ذلت و خواری کا ایک بنیادی سبب اس کی نئی نسل کی بے راہ روی اور مسلم نوجوانوں کی دین بیزاری ہے۔ اس وقت جس تیزی کے ساتھ ہماری نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی تباہی کے سارے سامان اکٹے کر لیے ہیں۔ بے حیائی اور فحاشی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے سیلفون کا آزادانہ استعمال شرم وحیا کی ساری حدوں کو توڑ رہا ہے نوجوان سے لے کر کمسن بچوں تک فحاشی کے سیلاب میں بہتے چلے جارہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے سیلفون کے عادی ہو چکے ہیں، جوان رات رات بھر اپنے موبائل پر دنیا بھر کی غلاظتوں میں غوط زن رہتے ہیں ۔ سیل فون کا فتنہ اسکولو، کالجوں میں زیر تعلیم بچوں کی نہ صرف چادر عصمت کو تار تار کر رہا ہے بلکہ انہیں دین و ایمان کی رہنمائی سے بھی محروم کر رہا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کے غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ شادی رچانے کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایسی برائی کے عادی نوجوان اپنے روشن مستقبل سے بے خبر ہو کر زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کرتے نہیں تھکتے۔ جہاں تک فحاشی کی بات ہے تو اس حوالے سے ہمارے نوجوان ساری حدوں کو پار کرتے جا رہے ہیں۔ دین سے بیزاری اور دشمنان اسلام کی نقالی فیشن کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ادارے کی زیر تعلیم مسلم بچے، بچیاں بری طرح سے تہزیبی ارتداد کا شکار ہو رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کش ہو کر مغربی طور و طریقوں کو گلے لگا رہے ہیں
"اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خالص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی(ص) ۔
جب کہ اسلام ایک مستقل دیں اور مکمل تہزیب ہے۔اس کا اپنا طرز معاشرت کا نام ہے جو سب سے پاکیزہ اورفطرت انسانی سے ہم آہنگ ہے۔مگر افسوس
"ہم امتی کہلا کے بھی اسلام کی فطرت بھول گئے
فلمی گانے زبانی یاد قرآن کی تلاوت بھول گئے ”
ملت اسلامیہ کو درپیش ایک اہم مسئلہ نسل نو میں منشیات کا بڑھتا رجحان ہے ۔کسی بھی ملت کو ترقی کی منزلوں پر لے جانے کے لیے اصل اثاثہ نوجوان ہوتے ہیں لیکن یہ اس ملت کے عظیم سرمایہ کو منشیات کی لت لگی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ اگر کسی چیز کا خطرہ نوجوان پر منڈلا رہا ہے تو وہ منشیات اور نشیلی اشیاء ہیں ۔منشیات کے عادی صرف نوجوان لڑکے ہی نہیں بلکہ عصری اداروں میں زیر تعلیم بچیوں کی بڑی تعداد بھی اس لت کا شکار ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال اب ایک فیشن بنتا جا رہا ہے افسوس ہے کہ جن اداروں میں مستقبل کے معیار تیار ہوتے ہیں اور جہاں ملک کا روشن مستقبل پروان چڑھتا ہے اب وہاں منشیات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ نوجوان جس تیزی کے ساتھ نشیلی اشیاء کی طرف مائل ہو رہے ہیں اس رجحان سے جہاں ہمارے نوجوان کی صحت پر انتہائی مہلک اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہی ان کے پڑھنے لکھنے کا، کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے اقوام متحدہ کے عالمی ادارے صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 37 کروڑ سے زائد افراد او وقت مختلف اقسام کی منشیات استعمال کر رہے ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے صحت کے مطابق ہر سال 40 لاکھ افراد منشیات کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ وبا تعلیمی اداروں کو تیزی کے ساتھ اپنے لپٹ میں لیتی جا رہی ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں مخلوط ماحول میں بے حیائی کا خوب مظاہرہ کرتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے نئے دور کا نوجوان ہی امید کی وہ جلتی شمع ہے، جو بدعنوانیوں، ناانصافی، اور لاقانونیت کے اندھیروں میں روشنی پھیلانے کا موجب بن az سکتا ہے۔
"عقاب روح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزلیں آسمانوں میں”
ززززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

نئی نسل کی راہ کہاں جارہی ہے؟

 

 

ہمراز شیبا علی
سرینگر کشمیر

"اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فلاد”

نوجوان کسی بھی قوم و ملت اور معاشرے کے اہم ستون اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں اور ہر اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر منحصر ہوتی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اج یہ نوجوان ذہنی خلفشاراور مختلف قسم کے نظریاتی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ۔ جس قوم کے نوجوان اعلی کردار اور بلند اخلاق کے حامل اور مذہبی اقدار کے محافظ و پاسبان ہوتے ہیں کامیابی اس کے کے قدم چومتی ہے۔ وہ قوم دنیا میں سرخرو اور اخرت میں فلاح یاب ہوتی ہے اس کے بر خلاف جس قوم کے نوجوان حیا باختہ ،بے لگام ،خواہشات نفسانی کے اسیر اور اعلی مذہبی روایات سے تہی دامن ہوتے ہیں وہ قوم قعر مذلت میں جا گرتی ہے، نہ صرف وہ اخرت میں رحمت الہی سے دور ہوتی بلکہ دنیا میں بھی ذلت و ادبار اس کے مقدر ٹھہرتا ہے۔ امت مسلمہ کی موجودہ خستہ حالی اور اس کی ہمہ گیر ذلت و خواری کا ایک بنیادی سبب اس کی نئی نسل کی بے راہ روی اور مسلم نوجوانوں کی دین بیزاری ہے۔ اس وقت جس تیزی کے ساتھ ہماری نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی تباہی کے سارے سامان اکٹے کر لیے ہیں۔ بے حیائی اور فحاشی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے سیلفون کا آزادانہ استعمال شرم وحیا کی ساری حدوں کو توڑ رہا ہے نوجوان سے لے کر کمسن بچوں تک فحاشی کے سیلاب میں بہتے چلے جارہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے سیلفون کے عادی ہو چکے ہیں، جوان رات رات بھر اپنے موبائل پر دنیا بھر کی غلاظتوں میں غوط زن رہتے ہیں ۔ سیل فون کا فتنہ اسکولو، کالجوں میں زیر تعلیم بچوں کی نہ صرف چادر عصمت کو تار تار کر رہا ہے بلکہ انہیں دین و ایمان کی رہنمائی سے بھی محروم کر رہا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کے غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ شادی رچانے کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایسی برائی کے عادی نوجوان اپنے روشن مستقبل سے بے خبر ہو کر زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کرتے نہیں تھکتے۔ جہاں تک فحاشی کی بات ہے تو اس حوالے سے ہمارے نوجوان ساری حدوں کو پار کرتے جا رہے ہیں۔ دین سے بیزاری اور دشمنان اسلام کی نقالی فیشن کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ادارے کی زیر تعلیم مسلم بچے، بچیاں بری طرح سے تہزیبی ارتداد کا شکار ہو رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کش ہو کر مغربی طور و طریقوں کو گلے لگا رہے ہیں
"اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خالص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی(ص) ۔
جب کہ اسلام ایک مستقل دیں اور مکمل تہزیب ہے۔اس کا اپنا طرز معاشرت کا نام ہے جو سب سے پاکیزہ اورفطرت انسانی سے ہم آہنگ ہے۔مگر افسوس
"ہم امتی کہلا کے بھی اسلام کی فطرت بھول گئے
فلمی گانے زبانی یاد قرآن کی تلاوت بھول گئے ”
ملت اسلامیہ کو درپیش ایک اہم مسئلہ نسل نو میں منشیات کا بڑھتا رجحان ہے ۔کسی بھی ملت کو ترقی کی منزلوں پر لے جانے کے لیے اصل اثاثہ نوجوان ہوتے ہیں لیکن یہ اس ملت کے عظیم سرمایہ کو منشیات کی لت لگی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ اگر کسی چیز کا خطرہ نوجوان پر منڈلا رہا ہے تو وہ منشیات اور نشیلی اشیاء ہیں ۔منشیات کے عادی صرف نوجوان لڑکے ہی نہیں بلکہ عصری اداروں میں زیر تعلیم بچیوں کی بڑی تعداد بھی اس لت کا شکار ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال اب ایک فیشن بنتا جا رہا ہے افسوس ہے کہ جن اداروں میں مستقبل کے معیار تیار ہوتے ہیں اور جہاں ملک کا روشن مستقبل پروان چڑھتا ہے اب وہاں منشیات نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ نوجوان جس تیزی کے ساتھ نشیلی اشیاء کی طرف مائل ہو رہے ہیں اس رجحان سے جہاں ہمارے نوجوان کی صحت پر انتہائی مہلک اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہی ان کے پڑھنے لکھنے کا، کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے اقوام متحدہ کے عالمی ادارے صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 37 کروڑ سے زائد افراد او وقت مختلف اقسام کی منشیات استعمال کر رہے ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے صحت کے مطابق ہر سال 40 لاکھ افراد منشیات کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ وبا تعلیمی اداروں کو تیزی کے ساتھ اپنے لپٹ میں لیتی جا رہی ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں مخلوط ماحول میں بے حیائی کا خوب مظاہرہ کرتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے نئے دور کا نوجوان ہی امید کی وہ جلتی شمع ہے، جو بدعنوانیوں، ناانصافی، اور لاقانونیت کے اندھیروں میں روشنی پھیلانے کا موجب بن az سکتا ہے۔
"عقاب روح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزلیں آسمانوں میں”
ززززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں