ذہنی مرض: پاکستان میں رہنے والا ہر تیسرا فرد ذہنی مریض بن چکا ہے

 

محمد امین اللہ

پچھلے دنوں پاکستان میں بین الاقوامی ماہرین نفسیات کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین نفسیات نے شرکت کی ۔ زندگی کے مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کا انٹرویو کیا گیا ۔ جس میں غریب ، لور و اپر میڈل کلاس ، شرفہ ، حکومتی بڑے اہلکار اور صنعت کار بھی شامل تھے ۔ اس انٹرویو کا نتیجہ بڑا ہوش ربا آیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں رہنے والا ہر تیسرا فرد ذہنی مریض بن چکا ہے ۔ جس کے مختلف وجوہات سامنے آئے ہیں ۔ غریب اور مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں معاشی تنگی اور ضروریاتِ زندگی کے حصول میں در پیش پریشانیوں کے ساتھ ساتھ کثرت اولاد اور ان کی پرورش میں حائل روکاوٹیں ہیں ، نیز میڈیا کے ذریعے سے پرکشش زندگی کے عدم حصول میں احساس کمتری نے انہیں ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔ مڈل اور اپر میڈل کلاس کے لوگوں میں معیار زندگی کا عدم حصول ہے جس میں سوشل میڈیا کی کرشماتی status. نے بچوں کی تعلیم سے لے کر لگزریش لائف اور سماجی نام و نمود کے لئے فضول خرچیوں نے ان کو مقروض بھی بنا دیا ہے جس کی ادائیگی نے ذہنی طور پر ان کو ہلکان کر رکھا ہے اس پر طرفہ تماشا بیوی بچوں کی فرمائش ہے ۔ اب ان طبقات کی جانچ پڑتال کی گئی تو پتہ یہ چلا کہ ان کو تو زندگی کی تمام تر سہولیات اور آسائشیں میسر ہیں اس کے باوجود یہ دیگر طبقات کے مقابلے زیادہ ذہنی انتشار کا نہ صرف شکار ہیں بلکہ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کا ہوش زر ان کو ہر وقت بے چین رکھتا ہے ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
اگر تم کو اک سونے کا پہاڑ مل جائے تو دوسرے کی خواہش کرو گے پھر بھی تمہاری خواہش پوری نہیں ہوگی یہ تو قبر کی مٹی سے ہی پر ہوگی ۔
ہزار خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔
بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے ۔ مرزا غالب ۔
آسائش حیات تو مل جائے گی مگر ۔
لیکن سکون قلب مقدر کی بات ہے ۔ منقول ۔
ذہنی مریضوں میں بڑی تعداد ان والدین کی ہے جنہوں نے بڑی چاؤ اور محبت سے نہ صرف اپنی اولادوں کو پالا بلکہ اپنی بساط سے ہٹ کر ان کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جب وہ کسی لائق ہو گئے اور ان کی شادیاں ہوئیں تو چند مہینوں کے اندر ہی وہ والدین کو چھوڑ کر علیحدہ جا بسے اور بوڑھے والدین بے چارے تنہا رہ گئے جو بچوں سے ملاقات کو بھی ترستے ہیں ۔ وہ پوش علاقوں کے والدین بھی ذہنی امراض کے کے شکار ہیں جن کے بچے ملک کے باہر جا کر رہائش اختیار کر چکے ہیں ۔ ایسا تو اکثر ہوتا ہے کہ وہ والدین کی فوتگی میں بھی شریک نہیں ہو پاتے ۔ آج کل اک المیہ یہ ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی ہے اور جب ان کی شادیاں زیادہ عمر کے بعد کم تعلیم یافتہ اور غیر معیاری لڑکوں سے شادی ہو جاتی ہے تو گھریلو زندگیوں میں ناراضگی بڑھ جاتی ہے اور روز روز کی کھچ کھچ نفسیاتی عارضے میں مبتلا کر دیتی ہیں جس کا انجام علیحدگی کی صورت سامنے آتا ہے ۔ نفسیاتی بیمار نرگسیت کا شکار ہوتا ہے یعنی اس کو اپنی ذات کے علاوہ ہر چیز کم تر لگتی ہے ۔ وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے ۔ اس بیماری میں دنیا کے بڑے بڑے لوگ بھی مبتلا ہوتے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی امریکی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کو نفسیاتی بیماری لاحق ہے ۔ اور یہ باتیں دیکھنے میں آ رہی ہیں کہ اس کے فیصلوں میں ٹھہراؤ نہیں ہے ۔ یہ شخص دنیا کے سپر طاقت کا سربراہ ہونے کے باوجود اعتماد کے قابل نہیں ہے ۔ عمران خان کے بارے میں خود اس کی بہنوں کے انٹرویو اس طرح کے نفسیاتی بیماری کے بارے میں موجود ہے ۔
برصغیر کی لگ بھگ دو ارب کی آبادی ہے جس میں ستر فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور غربت تو ذہنی ، اخلاقی اور جسمانی بیماریوں کی جڑ ہے ۔ ویسے اک بڑی وجہ انتہا پسندی بھی ہے جو آدمی کو نفرت اور حسد میں مبتلا کر دیتی ہے جو آج کل پورا بھارت ہندوتوا کی شدت پسندانہ نظریات کی وجہ سے نفرت اور تشدد کی لہر سے دو چار ہے ۔
حد سے زیادہ آرام دہ زندگی میں جب کسی وجہ سے خلل واقع ہوتا ہے تو آدمی اس کو برداشت نہیں کر پاتا اور ذہنی مریض بن کر خود کشی بھی کر دیتا ہے مثال کے طور پر سہولیات زندگی کے اعتبار سے جاپان دنیا میں سب سے آگے ہے مگر سب سے زیادہ خودکشیاں جاپان میں ہوتی ہیں ۔ غربت ، گھریلو جھگڑے ، روز مرہ کی زندگی میں عدم استحکام یہ اسباب مرض ہیں ۔ ایسے بھی ذہنی مریض ہیں جو اپنے بیوی بچوں کو قتل کرکے خود بھی خود کشی کر لیتے ہیں ۔ ماں کی بچوں سے محبت لا زوال ہے مگر غربت اور دیگر عدم برداشت کے وجوہات کی وجہ سے عورتیں بچوں کے ساتھ دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشیاں کر رہی ہیں ۔
سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ چھ سال کے بچے سے لے کر ساٹھ سال کے بوڑھے تک اک جیسی اباہیت میں مبتلا ہے ۔ کیوں کہ اس کے ذریعے خود نمائی کے خبث باطن نے دماغ میں ایسا فتور پیدا کر دیا ہے کہ ہر شخص اس کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کا بھوکا ہو چکا ہے ۔ سیاسی اور مذہبی شخصیات بھی اپنے روزمرہ کے معمولات بھی سوشل میڈیا پر ڈال کر لائک اور شیئر کرنے والوں کی تعداد گنتے ہیں ۔ خبر کی دنیا سے منسلک صحافی حضرات نے تو اپنے وی لاگز کے آغاز میں ہی ناظرین سے لائک ، شیئر کرنے اور سبسکرائب کرنے کی گزارش بھکاریوں کی طرح کرتے ہیں گویا یہ اپنی صلاحیتوں اور معلومات کو بیچ کر یو ٹیوب کے ذریعے لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں ۔ ٹک ٹاکر اور ریل بنانے والے شہرت کے بھکاری بنے ہوئے ہیں ۔ اس غیر معیاری ہنر مندی کے باوجود یہ خود کو معتبر بنتے ہیں اور آزادی رائے کی پردے میں چھپ کر نسل نو کو نہ صرف بے راوی پر ڈال رہے ہیں بلکہ دین و ایمان کے بگاڑ پیدا کرتے ہیں ۔ ہر وہ شخص ذہنی مریض ہے جو دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے آخرت کی دائمی زندگی کو برباد کرتا ہے ۔
اسلام میں صبر اور شکر کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اور قناعت کو اس کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ۔ سورہ بنی اسرائیل میں فضول خرچ کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ معیار زندگی کے حصول میں قرض جیسی بیماری کو عام کر دیا ہے ۔ بے شمار ادارے اپنی قیمتی اشیاء کو انسٹال منٹ پر بیچتے ہیں اور اس پر بھاری بھرکم سود لیتے ہیں ، اکثر لوگ چیزیں خرید تو لیتے ہیں مگر محدود آمدنی ہونے کی وجہ سے ادائگی نہیں کر پاتے اور نتیجتاً کمپنیاں وہ سامان عدم ادائیگی پر واپس لے لیتی ہیں اور لوگوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تمام بینک والے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سرکاری ملازمین کو گاڑی اور مکان خریدنے کا لالچ دیتے ہیں اور سود جیسے مکروہ جال میں پھنسا کر ان کا دیوالیہ کر دیتے ہیں ۔
بڑے بوڑھوں نے کہا ہے کہ جتنی چادر ہو اتنا ہی پیر پھیلانا چاہیئے ۔ کہا گیا کہ رہے سادہ کہ نبھہے باپ دادا ۔ سادگی مومن کا شعار ہے ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سادہ زندگیاں اعلیٰ ترین مثالیں ہیں ۔ لیکن آج کے دور میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ سڑکوں پر جھاڑو دینے والی بھنگنوں کے ہاتھوں میں بھی اسمارٹ فون موجود ہے ۔ یہ سب سوشل میڈیا کا کرشمہ ہے ۔ جس نے ہر خاص و عام کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے ۔ کیونکہ سوشل میڈیا نے وہ سب پردے چاک کر دیئے ہیں جس کی پردہ داری ہمارے سماج کا بنیادی اخلاقی ورثہ تھا ۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر بچوں اور نوجوانوں کے لئے ایسے گیمز آئے جس کو کھیلتے کھیلتے نوجوانوں نفسیاتی بیمار ہو کر خود کشیاں کرنے لگے ۔ نت نئے جرائم کرنے کے طریقے سوشل میڈیا پر موجود ہیں ۔ نشہ کرنے کے فوائد بھی سوشل میڈیا پر سیلاب کی صورت موجود ہے ۔ بچوں کے لئے بہت ہی پسندیدہ کارٹون Tom and Jerry کو بہت زیادہ نقصان دہ قرار دیا گیا اور مسلمان علماء نے اپنے حکمرانوں سے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس کارٹون میں شرارت کے نام پر جرم کرنے کا طریقہ موجود ہے لہذا بچے یہ دیکھ کر اسی طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔ بر صغیر ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں عوام کے لئے فلاحی کاموں کا فقدان ہے اور سہولیات ناپید ہیں جس کی وجہ سے صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال درپیش ہے اور بیمار لوگوں کے لئے سرکاری اسپتالوں کی کمی ہے اور اگر کہیں ہے تو ڈاکٹروں اور طبی عملے کا رویہ غیر مناسب ہونے کے ساتھ ساتھ ادویات موجود نہیں ہوتیں اور مریضوں کو باہر سے خریدنا پڑتا ہے ۔ عدلیہ ، مقننہ ، انتظامیہ ، پولیس کی کارکردگی عوام دشمن ہونے کی وجہ سے لوگوں میں نفسیاتی بیماری پھیلتی جا رہی ہے ۔
کس پر کریں سنگھار کے پیا مورے اندھا کے مصداق عوامی بیچینی نے اس بیماری میں اضافہ کیا ہے ۔
دلوں کا سکون اگر درکار ہے تو اپنے رب کا ذکر کرو ۔
سورہ الرعد آیت 28 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
جو ایمان والے ہیں ان کے قلب اللّٰہ کے ذکر کے لئے چین رہتے ہیں اور یاد رکھو اللّٰہ کے ذکر سے ہی قلب کو سکون ملتا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ جب میرا دل یہ کرتا ہے کہ اللّٰہ مجھ سے بات کرے تو میں قرآن پڑھنے لگتا ہوں ۔ اور اگر دل کرتا ہے کہ میں اللّٰہ سے باتیں کروں تو نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ آج بھی اس بے دینی کے دور میں لوگ اطمینان کے لئے ذکر الہٰی اور نماز کا سہارا لیتے ہیں ۔
اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم دنیا کے معاملے میں جائزہ لو تو اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھو مگر دین کے معاملے میں اپنے سے بہتر لوگوں کو دیکھو تمہاری پریشانی دور ہو جائے گی ۔
شیخ سعدی کا قول ہے کہ اک دن میں اپنے رب سے یہ فریاد کر رہا تھا کہ میرے رب مجھے اتنا غریب بنایا کہ میرے پیروں میں جوتے تک نہیں ۔ آگے فرماتے ہیں کہ جب میں مسجد سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک فقیر دونوں پیروں کے بغیر بیساکھی کے سہارے بھیک مانگ رہا ہے میں بھاگ کر مسجد میں گیا اور سجدے میں گر گیا باری تعالیٰ میں تیرا شکر ادا کر رہا ہوں میرے پیروں میں جوتے نہیں مگر پیر تو سلامت ہیں ۔
مومن کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہے جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے اور فراغت میں شکر کرتا ہے جو اللّٰہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا عمل ہے ۔
سورۃ الم نشرح میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
ہاں ہاں مشکل کے آسانی بھی ہے ۔ ںے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
نویدِ صبح دیتی ہے ستاروں کی تنک تابی ۔
افق سے آفتاب ابھرا گیا صبح گراں خوابی ۔
جنگ خندق کے پر آشوب حالات میں اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسریٰ کی فتح کی بشارتیں دی ہیں ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

ذہنی مرض: پاکستان میں رہنے والا ہر تیسرا فرد ذہنی مریض بن چکا ہے

 

محمد امین اللہ

پچھلے دنوں پاکستان میں بین الاقوامی ماہرین نفسیات کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین نفسیات نے شرکت کی ۔ زندگی کے مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کا انٹرویو کیا گیا ۔ جس میں غریب ، لور و اپر میڈل کلاس ، شرفہ ، حکومتی بڑے اہلکار اور صنعت کار بھی شامل تھے ۔ اس انٹرویو کا نتیجہ بڑا ہوش ربا آیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں رہنے والا ہر تیسرا فرد ذہنی مریض بن چکا ہے ۔ جس کے مختلف وجوہات سامنے آئے ہیں ۔ غریب اور مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں معاشی تنگی اور ضروریاتِ زندگی کے حصول میں در پیش پریشانیوں کے ساتھ ساتھ کثرت اولاد اور ان کی پرورش میں حائل روکاوٹیں ہیں ، نیز میڈیا کے ذریعے سے پرکشش زندگی کے عدم حصول میں احساس کمتری نے انہیں ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔ مڈل اور اپر میڈل کلاس کے لوگوں میں معیار زندگی کا عدم حصول ہے جس میں سوشل میڈیا کی کرشماتی status. نے بچوں کی تعلیم سے لے کر لگزریش لائف اور سماجی نام و نمود کے لئے فضول خرچیوں نے ان کو مقروض بھی بنا دیا ہے جس کی ادائیگی نے ذہنی طور پر ان کو ہلکان کر رکھا ہے اس پر طرفہ تماشا بیوی بچوں کی فرمائش ہے ۔ اب ان طبقات کی جانچ پڑتال کی گئی تو پتہ یہ چلا کہ ان کو تو زندگی کی تمام تر سہولیات اور آسائشیں میسر ہیں اس کے باوجود یہ دیگر طبقات کے مقابلے زیادہ ذہنی انتشار کا نہ صرف شکار ہیں بلکہ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کا ہوش زر ان کو ہر وقت بے چین رکھتا ہے ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
اگر تم کو اک سونے کا پہاڑ مل جائے تو دوسرے کی خواہش کرو گے پھر بھی تمہاری خواہش پوری نہیں ہوگی یہ تو قبر کی مٹی سے ہی پر ہوگی ۔
ہزار خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔
بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے ۔ مرزا غالب ۔
آسائش حیات تو مل جائے گی مگر ۔
لیکن سکون قلب مقدر کی بات ہے ۔ منقول ۔
ذہنی مریضوں میں بڑی تعداد ان والدین کی ہے جنہوں نے بڑی چاؤ اور محبت سے نہ صرف اپنی اولادوں کو پالا بلکہ اپنی بساط سے ہٹ کر ان کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جب وہ کسی لائق ہو گئے اور ان کی شادیاں ہوئیں تو چند مہینوں کے اندر ہی وہ والدین کو چھوڑ کر علیحدہ جا بسے اور بوڑھے والدین بے چارے تنہا رہ گئے جو بچوں سے ملاقات کو بھی ترستے ہیں ۔ وہ پوش علاقوں کے والدین بھی ذہنی امراض کے کے شکار ہیں جن کے بچے ملک کے باہر جا کر رہائش اختیار کر چکے ہیں ۔ ایسا تو اکثر ہوتا ہے کہ وہ والدین کی فوتگی میں بھی شریک نہیں ہو پاتے ۔ آج کل اک المیہ یہ ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی ہے اور جب ان کی شادیاں زیادہ عمر کے بعد کم تعلیم یافتہ اور غیر معیاری لڑکوں سے شادی ہو جاتی ہے تو گھریلو زندگیوں میں ناراضگی بڑھ جاتی ہے اور روز روز کی کھچ کھچ نفسیاتی عارضے میں مبتلا کر دیتی ہیں جس کا انجام علیحدگی کی صورت سامنے آتا ہے ۔ نفسیاتی بیمار نرگسیت کا شکار ہوتا ہے یعنی اس کو اپنی ذات کے علاوہ ہر چیز کم تر لگتی ہے ۔ وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے ۔ اس بیماری میں دنیا کے بڑے بڑے لوگ بھی مبتلا ہوتے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی امریکی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کو نفسیاتی بیماری لاحق ہے ۔ اور یہ باتیں دیکھنے میں آ رہی ہیں کہ اس کے فیصلوں میں ٹھہراؤ نہیں ہے ۔ یہ شخص دنیا کے سپر طاقت کا سربراہ ہونے کے باوجود اعتماد کے قابل نہیں ہے ۔ عمران خان کے بارے میں خود اس کی بہنوں کے انٹرویو اس طرح کے نفسیاتی بیماری کے بارے میں موجود ہے ۔
برصغیر کی لگ بھگ دو ارب کی آبادی ہے جس میں ستر فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور غربت تو ذہنی ، اخلاقی اور جسمانی بیماریوں کی جڑ ہے ۔ ویسے اک بڑی وجہ انتہا پسندی بھی ہے جو آدمی کو نفرت اور حسد میں مبتلا کر دیتی ہے جو آج کل پورا بھارت ہندوتوا کی شدت پسندانہ نظریات کی وجہ سے نفرت اور تشدد کی لہر سے دو چار ہے ۔
حد سے زیادہ آرام دہ زندگی میں جب کسی وجہ سے خلل واقع ہوتا ہے تو آدمی اس کو برداشت نہیں کر پاتا اور ذہنی مریض بن کر خود کشی بھی کر دیتا ہے مثال کے طور پر سہولیات زندگی کے اعتبار سے جاپان دنیا میں سب سے آگے ہے مگر سب سے زیادہ خودکشیاں جاپان میں ہوتی ہیں ۔ غربت ، گھریلو جھگڑے ، روز مرہ کی زندگی میں عدم استحکام یہ اسباب مرض ہیں ۔ ایسے بھی ذہنی مریض ہیں جو اپنے بیوی بچوں کو قتل کرکے خود بھی خود کشی کر لیتے ہیں ۔ ماں کی بچوں سے محبت لا زوال ہے مگر غربت اور دیگر عدم برداشت کے وجوہات کی وجہ سے عورتیں بچوں کے ساتھ دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشیاں کر رہی ہیں ۔
سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ چھ سال کے بچے سے لے کر ساٹھ سال کے بوڑھے تک اک جیسی اباہیت میں مبتلا ہے ۔ کیوں کہ اس کے ذریعے خود نمائی کے خبث باطن نے دماغ میں ایسا فتور پیدا کر دیا ہے کہ ہر شخص اس کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کا بھوکا ہو چکا ہے ۔ سیاسی اور مذہبی شخصیات بھی اپنے روزمرہ کے معمولات بھی سوشل میڈیا پر ڈال کر لائک اور شیئر کرنے والوں کی تعداد گنتے ہیں ۔ خبر کی دنیا سے منسلک صحافی حضرات نے تو اپنے وی لاگز کے آغاز میں ہی ناظرین سے لائک ، شیئر کرنے اور سبسکرائب کرنے کی گزارش بھکاریوں کی طرح کرتے ہیں گویا یہ اپنی صلاحیتوں اور معلومات کو بیچ کر یو ٹیوب کے ذریعے لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں ۔ ٹک ٹاکر اور ریل بنانے والے شہرت کے بھکاری بنے ہوئے ہیں ۔ اس غیر معیاری ہنر مندی کے باوجود یہ خود کو معتبر بنتے ہیں اور آزادی رائے کی پردے میں چھپ کر نسل نو کو نہ صرف بے راوی پر ڈال رہے ہیں بلکہ دین و ایمان کے بگاڑ پیدا کرتے ہیں ۔ ہر وہ شخص ذہنی مریض ہے جو دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے آخرت کی دائمی زندگی کو برباد کرتا ہے ۔
اسلام میں صبر اور شکر کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اور قناعت کو اس کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ۔ سورہ بنی اسرائیل میں فضول خرچ کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ معیار زندگی کے حصول میں قرض جیسی بیماری کو عام کر دیا ہے ۔ بے شمار ادارے اپنی قیمتی اشیاء کو انسٹال منٹ پر بیچتے ہیں اور اس پر بھاری بھرکم سود لیتے ہیں ، اکثر لوگ چیزیں خرید تو لیتے ہیں مگر محدود آمدنی ہونے کی وجہ سے ادائگی نہیں کر پاتے اور نتیجتاً کمپنیاں وہ سامان عدم ادائیگی پر واپس لے لیتی ہیں اور لوگوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تمام بینک والے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سرکاری ملازمین کو گاڑی اور مکان خریدنے کا لالچ دیتے ہیں اور سود جیسے مکروہ جال میں پھنسا کر ان کا دیوالیہ کر دیتے ہیں ۔
بڑے بوڑھوں نے کہا ہے کہ جتنی چادر ہو اتنا ہی پیر پھیلانا چاہیئے ۔ کہا گیا کہ رہے سادہ کہ نبھہے باپ دادا ۔ سادگی مومن کا شعار ہے ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سادہ زندگیاں اعلیٰ ترین مثالیں ہیں ۔ لیکن آج کے دور میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ سڑکوں پر جھاڑو دینے والی بھنگنوں کے ہاتھوں میں بھی اسمارٹ فون موجود ہے ۔ یہ سب سوشل میڈیا کا کرشمہ ہے ۔ جس نے ہر خاص و عام کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے ۔ کیونکہ سوشل میڈیا نے وہ سب پردے چاک کر دیئے ہیں جس کی پردہ داری ہمارے سماج کا بنیادی اخلاقی ورثہ تھا ۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر بچوں اور نوجوانوں کے لئے ایسے گیمز آئے جس کو کھیلتے کھیلتے نوجوانوں نفسیاتی بیمار ہو کر خود کشیاں کرنے لگے ۔ نت نئے جرائم کرنے کے طریقے سوشل میڈیا پر موجود ہیں ۔ نشہ کرنے کے فوائد بھی سوشل میڈیا پر سیلاب کی صورت موجود ہے ۔ بچوں کے لئے بہت ہی پسندیدہ کارٹون Tom and Jerry کو بہت زیادہ نقصان دہ قرار دیا گیا اور مسلمان علماء نے اپنے حکمرانوں سے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس کارٹون میں شرارت کے نام پر جرم کرنے کا طریقہ موجود ہے لہذا بچے یہ دیکھ کر اسی طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔ بر صغیر ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں عوام کے لئے فلاحی کاموں کا فقدان ہے اور سہولیات ناپید ہیں جس کی وجہ سے صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال درپیش ہے اور بیمار لوگوں کے لئے سرکاری اسپتالوں کی کمی ہے اور اگر کہیں ہے تو ڈاکٹروں اور طبی عملے کا رویہ غیر مناسب ہونے کے ساتھ ساتھ ادویات موجود نہیں ہوتیں اور مریضوں کو باہر سے خریدنا پڑتا ہے ۔ عدلیہ ، مقننہ ، انتظامیہ ، پولیس کی کارکردگی عوام دشمن ہونے کی وجہ سے لوگوں میں نفسیاتی بیماری پھیلتی جا رہی ہے ۔
کس پر کریں سنگھار کے پیا مورے اندھا کے مصداق عوامی بیچینی نے اس بیماری میں اضافہ کیا ہے ۔
دلوں کا سکون اگر درکار ہے تو اپنے رب کا ذکر کرو ۔
سورہ الرعد آیت 28 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
جو ایمان والے ہیں ان کے قلب اللّٰہ کے ذکر کے لئے چین رہتے ہیں اور یاد رکھو اللّٰہ کے ذکر سے ہی قلب کو سکون ملتا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ جب میرا دل یہ کرتا ہے کہ اللّٰہ مجھ سے بات کرے تو میں قرآن پڑھنے لگتا ہوں ۔ اور اگر دل کرتا ہے کہ میں اللّٰہ سے باتیں کروں تو نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ آج بھی اس بے دینی کے دور میں لوگ اطمینان کے لئے ذکر الہٰی اور نماز کا سہارا لیتے ہیں ۔
اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم دنیا کے معاملے میں جائزہ لو تو اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھو مگر دین کے معاملے میں اپنے سے بہتر لوگوں کو دیکھو تمہاری پریشانی دور ہو جائے گی ۔
شیخ سعدی کا قول ہے کہ اک دن میں اپنے رب سے یہ فریاد کر رہا تھا کہ میرے رب مجھے اتنا غریب بنایا کہ میرے پیروں میں جوتے تک نہیں ۔ آگے فرماتے ہیں کہ جب میں مسجد سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک فقیر دونوں پیروں کے بغیر بیساکھی کے سہارے بھیک مانگ رہا ہے میں بھاگ کر مسجد میں گیا اور سجدے میں گر گیا باری تعالیٰ میں تیرا شکر ادا کر رہا ہوں میرے پیروں میں جوتے نہیں مگر پیر تو سلامت ہیں ۔
مومن کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہے جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے اور فراغت میں شکر کرتا ہے جو اللّٰہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا عمل ہے ۔
سورۃ الم نشرح میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
ہاں ہاں مشکل کے آسانی بھی ہے ۔ ںے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
نویدِ صبح دیتی ہے ستاروں کی تنک تابی ۔
افق سے آفتاب ابھرا گیا صبح گراں خوابی ۔
جنگ خندق کے پر آشوب حالات میں اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسریٰ کی فتح کی بشارتیں دی ہیں ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں