خدا کے وجود پر عوامی مناظرے: ایک فکری اضطراب

یوسف شمسی

مفتی شمائل ندوی صاحب، گفتگو کے حسنِ اسلوب، فکری وقار اور متوازن مزاج کے باعث ایک فاضل اور ذہین عالم محسوس ہوتے ہیں، جہاں شائستگی اور علمی ٹھہراؤ ان کی نمایاں پہچان ہے۔ دوسری طرف معروف شاعر، نغمہ نگار اور فلمی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت جناب جاوید اختر خود کو ملحد اور خدا کے وجود کے منکر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کے درمیان “کیا خدا موجود ہے” کے عنوان سے ہونے والی ایک طویل گفتگو حال ہی میں یوٹیوب پر دیکھنے کو ملی۔
اس بحث کو مکمل طور پر دیکھنے کے بعد جو فوری اضطراب اور گہرا فکری تاثر ذہن میں پیدا ہوا، اسے محض ایک ذاتی احساس سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب محسوس نہ ہوا۔ بلکہ یہ خیال غالب آیا کہ اس تجربے کو ایک سنجیدہ، متوازن اور عاجزانہ علمی رائے کی صورت میں قارئین کے سامنے رکھا جائے، تاکہ اس نوعیت کے عوامی مباحث کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے۔
بظاہر موجودہ عالمی حالات اور سوشل میڈیا کے شور و غل میں خدا کے وجود جیسے بنیادی مسئلے پر عوامی سطح کی بحث ایک علمی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ سوال، دلیل اور مکالمہ سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فکری سطح پر کوئی مفید گفتگو ہو رہی ہو۔ لیکن جب اس بحث کی نوعیت، اس کے انعقاد کے مقام، اسلوبِ گفتگو اور بالخصوص اس کے سامعین کو سامنے رکھا جائے، اور اس حساس موضوع پر گفتگو کے ممکنہ فوائد اور یقینی نقصانات پر گہری نظر ڈالی جائے، تو کئی بنیادی اور تشویش ناک سوالات جنم لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ “کیا خدا موجود ہے” محض ایک نظری یا تجریدی سوال نہیں، بلکہ یہ ایمان، عقل، فلسفہ، نفسیات اور انسان کے مجموعی وجودی تجربے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو فرد کی پوری فکری اور روحانی ساخت کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے ہمہ گیر اور نازک موضوع کو محدود وقت میں، مناظرانہ انداز میں اور عوامی پلیٹ فارم پر زیرِ بحث لانا نہ تو علمی روایت کے مزاج سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی فکری ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ علم ہمیشہ ٹھہراؤ، گہرائی اور تدریج کا طالب رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کی دنیا فوری تاثر اور سطحی دلچسپی پر قائم ہے۔
الحاد کو محض ایک وقتی ذہنی ابہام یا جذباتی ردِعمل سمجھ لینا درست نہیں۔ درحقیقت یہ ایک منظم فکری رجحان ہے جس کی جڑیں جدید مغربی فلسفے، سائنسی مادّیت، مذہب کے تاریخی تجربات اور انسان مرکز نظریات میں پیوست ہیں۔ ایسے فکری پس منظر کو سمجھے بغیر اس کا مؤثر جواب دینا ممکن نہیں۔ عوامی مناظروں میں اٹھائے جانے والے سوالات بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں، مگر وہ اپنے اندر ایک طویل فکری تاریخ اور مخصوص فلسفیانہ مفروضات سمیٹے ہوتے ہیں۔
اس فکری رجحان کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ وہ نوجوان جن کی فکری بنیادیں ابھی مضبوط نہیں ہوتیں، ایسے مباحث دیکھ کر فوری طور پر سوالات سے دوچار ہو جاتے ہیں، مگر ان کے جوابات ان کے ذہن میں دیر سے جگہ بناتے ہیں۔ سوال اور جواب کے درمیان پیدا ہونے والا یہی خلا اضطراب کو جنم دیتا ہے، جو رفتہ رفتہ شکوک و شبہات میں بدل سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ماحول میں، جہاں لہجہ دلیل پر اور اعتماد گہرائی پر غالب آ جاتا ہے، یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اسلامی علمی روایت نے ہمیشہ ایسے فکری چیلنجز کا سامنا جوش یا مناظرانہ شور کے ذریعے نہیں بلکہ ایک منظم علمی منہج کے تحت کیا ہے۔ علم الکلام، فلسفہ، تفسیر اور عقلی استدلال کے ذریعے وجودِ خدا، ایمان اور عقل کے باہمی تعلق کو واضح کیا گیا۔ یہ روایت تدریج، فکری تربیت اور ذمہ دار مکالمے پر قائم رہی ہے، جہاں مخاطب کی ذہنی سطح، سوال کی نوعیت اور علمی ماحول کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی منہج آج بھی زیادہ محفوظ، مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر صاحبِ علم ہر میدان کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ دعوت، تدریس، تحقیق اور مناظرہ، یہ سب الگ الگ صلاحیتوں اور حکمتِ عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر ان دائروں کی حد بندی نہ کی جائے تو خلوصِ نیت کے باوجود نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ درست نیت، مگر نامناسب طریقہ، فکری انتشار کا سبب بن جاتا ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت جوش کے بجائے حکمت کی ہے۔ اظہارِ رائے سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ کرنا لازم ہے۔ ایمان کی حفاظت کسی بھی علمی یا عوامی سرگرمی سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ علمی کامیابی جو ذہنوں کو بے چین اور دلوں کو غیر محفوظ کر دے، درحقیقت کامیابی نہیں بلکہ ایک خاموش ناکامی ہے۔ اصل کامیابی وہی ہے جو عقل کو مطمئن کرے اور ایمان کو محفوظ رکھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

خدا کے وجود پر عوامی مناظرے: ایک فکری اضطراب

یوسف شمسی

مفتی شمائل ندوی صاحب، گفتگو کے حسنِ اسلوب، فکری وقار اور متوازن مزاج کے باعث ایک فاضل اور ذہین عالم محسوس ہوتے ہیں، جہاں شائستگی اور علمی ٹھہراؤ ان کی نمایاں پہچان ہے۔ دوسری طرف معروف شاعر، نغمہ نگار اور فلمی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت جناب جاوید اختر خود کو ملحد اور خدا کے وجود کے منکر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کے درمیان “کیا خدا موجود ہے” کے عنوان سے ہونے والی ایک طویل گفتگو حال ہی میں یوٹیوب پر دیکھنے کو ملی۔
اس بحث کو مکمل طور پر دیکھنے کے بعد جو فوری اضطراب اور گہرا فکری تاثر ذہن میں پیدا ہوا، اسے محض ایک ذاتی احساس سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب محسوس نہ ہوا۔ بلکہ یہ خیال غالب آیا کہ اس تجربے کو ایک سنجیدہ، متوازن اور عاجزانہ علمی رائے کی صورت میں قارئین کے سامنے رکھا جائے، تاکہ اس نوعیت کے عوامی مباحث کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے۔
بظاہر موجودہ عالمی حالات اور سوشل میڈیا کے شور و غل میں خدا کے وجود جیسے بنیادی مسئلے پر عوامی سطح کی بحث ایک علمی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ سوال، دلیل اور مکالمہ سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فکری سطح پر کوئی مفید گفتگو ہو رہی ہو۔ لیکن جب اس بحث کی نوعیت، اس کے انعقاد کے مقام، اسلوبِ گفتگو اور بالخصوص اس کے سامعین کو سامنے رکھا جائے، اور اس حساس موضوع پر گفتگو کے ممکنہ فوائد اور یقینی نقصانات پر گہری نظر ڈالی جائے، تو کئی بنیادی اور تشویش ناک سوالات جنم لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ “کیا خدا موجود ہے” محض ایک نظری یا تجریدی سوال نہیں، بلکہ یہ ایمان، عقل، فلسفہ، نفسیات اور انسان کے مجموعی وجودی تجربے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو فرد کی پوری فکری اور روحانی ساخت کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے ہمہ گیر اور نازک موضوع کو محدود وقت میں، مناظرانہ انداز میں اور عوامی پلیٹ فارم پر زیرِ بحث لانا نہ تو علمی روایت کے مزاج سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی فکری ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ علم ہمیشہ ٹھہراؤ، گہرائی اور تدریج کا طالب رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کی دنیا فوری تاثر اور سطحی دلچسپی پر قائم ہے۔
الحاد کو محض ایک وقتی ذہنی ابہام یا جذباتی ردِعمل سمجھ لینا درست نہیں۔ درحقیقت یہ ایک منظم فکری رجحان ہے جس کی جڑیں جدید مغربی فلسفے، سائنسی مادّیت، مذہب کے تاریخی تجربات اور انسان مرکز نظریات میں پیوست ہیں۔ ایسے فکری پس منظر کو سمجھے بغیر اس کا مؤثر جواب دینا ممکن نہیں۔ عوامی مناظروں میں اٹھائے جانے والے سوالات بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں، مگر وہ اپنے اندر ایک طویل فکری تاریخ اور مخصوص فلسفیانہ مفروضات سمیٹے ہوتے ہیں۔
اس فکری رجحان کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ وہ نوجوان جن کی فکری بنیادیں ابھی مضبوط نہیں ہوتیں، ایسے مباحث دیکھ کر فوری طور پر سوالات سے دوچار ہو جاتے ہیں، مگر ان کے جوابات ان کے ذہن میں دیر سے جگہ بناتے ہیں۔ سوال اور جواب کے درمیان پیدا ہونے والا یہی خلا اضطراب کو جنم دیتا ہے، جو رفتہ رفتہ شکوک و شبہات میں بدل سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ماحول میں، جہاں لہجہ دلیل پر اور اعتماد گہرائی پر غالب آ جاتا ہے، یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اسلامی علمی روایت نے ہمیشہ ایسے فکری چیلنجز کا سامنا جوش یا مناظرانہ شور کے ذریعے نہیں بلکہ ایک منظم علمی منہج کے تحت کیا ہے۔ علم الکلام، فلسفہ، تفسیر اور عقلی استدلال کے ذریعے وجودِ خدا، ایمان اور عقل کے باہمی تعلق کو واضح کیا گیا۔ یہ روایت تدریج، فکری تربیت اور ذمہ دار مکالمے پر قائم رہی ہے، جہاں مخاطب کی ذہنی سطح، سوال کی نوعیت اور علمی ماحول کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی منہج آج بھی زیادہ محفوظ، مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر صاحبِ علم ہر میدان کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ دعوت، تدریس، تحقیق اور مناظرہ، یہ سب الگ الگ صلاحیتوں اور حکمتِ عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر ان دائروں کی حد بندی نہ کی جائے تو خلوصِ نیت کے باوجود نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ درست نیت، مگر نامناسب طریقہ، فکری انتشار کا سبب بن جاتا ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت جوش کے بجائے حکمت کی ہے۔ اظہارِ رائے سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ کرنا لازم ہے۔ ایمان کی حفاظت کسی بھی علمی یا عوامی سرگرمی سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ علمی کامیابی جو ذہنوں کو بے چین اور دلوں کو غیر محفوظ کر دے، درحقیقت کامیابی نہیں بلکہ ایک خاموش ناکامی ہے۔ اصل کامیابی وہی ہے جو عقل کو مطمئن کرے اور ایمان کو محفوظ رکھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں