جنگ نیوز ڈیسک
کپواڑہ ہندوستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے بارے میں پاکستان کو ایک سخت انتباہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج کہا کہ پڑوسی ملک میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ہندوستانی مسلح افواج کی پہنچ سے باہر ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا پوری دُنیا نے ہندوستانی مسلح افواج کی بہادری کو دیکھا ہے اور پھر دشمن نے جنگ بندی کیلئے پوری دُنیا میں التجاء کرنا شروع کی ۔ ٹنگڈار سیکٹر میں ایل او سی پر تعینات فوج کے اہلکاروں سے اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے ہندوستان کے عالمی قد پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دشمن قرض کی طاقت پر انسانیت کو تباہ کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پڑوسی قرض کی طاقت پر انسانیت کو تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے ، مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے ہمارے بہادر فوجیوں کے جواب سے ایک سبق سیکھا ہو گا ، میں ماں بھارتی کے ساتھ آپ کی بہادری اور عقیدت کو سلام پیش کرتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جب بھی ایسا بحران آتا ہے تو لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ ہمارا ملک آپ جیسے ہیرو کے مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فوج اور پولیس عہدیداروں کے ساتھ سیکورٹی کی صورتحال کا بھی جائیزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک ہماری مسلح افواج کا شکر گذار ہے کہ وہ جانوں کے تحفظ اور ہوشیار ، لگن ، بہادری اور اعلیٰ قربانی کے ساتھ ہماری سرحدوں کے تقدس کو یقینی بنائے گی ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے جوانوں نے دشمن کی ہر ایک ناپاک حرکت کا معقول جواب دیا اور مضبوطی سے نمٹا ہے ۔
متاثرہ افراد کےلئے ایکس گریشیا امداد میں نمایاں اضافہ
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تشدد یا کسی بھی قسم کی شہری بدامنی کے سبب ہلاک یا زخمی ہونے والے شہریوں، سرکاری ملازمین، سابق پولیس اہلکاروں، مجسٹریٹس اور ولیج ڈیفنس گارڈز (VDGs) کے لیے ایکس گریشیا امداد میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ سیکیورٹی ریلیٹڈ ایکسپنڈیچر (SRE) اسکیم کے تحت کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی طرف سے دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کے لیے پہلے سے موجود 5 لاکھ روپے امداد کے علاوہ ہوگا۔
ترمیم شدہ اسکیم کے تحت درج ذیل اضافہ کیا گیا ہے:
• عام شہریوں کی موت کی صورت میں امداد کو 1 لاکھ سے بڑھا کر 2.5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں رقم 75 ہزار سے بڑھا کر5.1لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
سابق پولیس اہلکاروں کی موت پر ایکس گریشیا کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، اور مستقل معذوری کی صورت میں یہ رقم بھی 5.1لاکھ روپے ہوگی۔
• ڈیوٹی پر مامور مجسٹریٹ کی موت کی صورت میں امداد کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ معذوری پر 1.5 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
• وی ڈی جیز (VDGs) کی موت کی صورت میں رقم کو 1 لاکھ سے بڑھا کر5.2 لاکھ اور معذوری کی صورت میں5.1لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
• ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے سرکاری ملازمین کے لیے امداد میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 1 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے ہوگی، جبکہ معذوری پر5.1لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس موقع پر ان افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے قوم کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار رہا ہے، لیکن "آپریشن سندور” کے ذریعے ایک نئی سرخ لکیر کھینچی گئی ہے جو محض دفاع سے آگے بڑھ کر براہ راست کارروائی کا پیغام دیتی ہے۔
انہوں نے کہا، "پاکستان کو آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ہمارا ردعمل واضح، مؤثر اور نظر آنے والا ہوگا۔ ساتھ ہی، ہماری توجہ ان افراد کی فلاح و بہبود پر بھی ہے جو داخلی سلامتی اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میری بھرپور کوشش ہے کہ شہداء کے لواحقین، سابق پولیس اہلکاروں، وی ڈی جیز اور سرکاری ملازمین کے خاندان باوقار اور آسودہ زندگی گزاریں۔”
یہ اقدام جموں و کشمیر میں خدمت انجام دینے والے افراد کے حوصلے کو مضبوط بنانے اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں کچھ بھی ہندوستانی فوج کی پہنچ سے باہر نہیں
پاکستان میں کچھ بھی ہندوستانی فوج کی پہنچ سے باہر نہیں
جنگ نیوز ڈیسک
کپواڑہ ہندوستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے بارے میں پاکستان کو ایک سخت انتباہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج کہا کہ پڑوسی ملک میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ہندوستانی مسلح افواج کی پہنچ سے باہر ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا پوری دُنیا نے ہندوستانی مسلح افواج کی بہادری کو دیکھا ہے اور پھر دشمن نے جنگ بندی کیلئے پوری دُنیا میں التجاء کرنا شروع کی ۔ ٹنگڈار سیکٹر میں ایل او سی پر تعینات فوج کے اہلکاروں سے اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے ہندوستان کے عالمی قد پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دشمن قرض کی طاقت پر انسانیت کو تباہ کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پڑوسی قرض کی طاقت پر انسانیت کو تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے ، مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے ہمارے بہادر فوجیوں کے جواب سے ایک سبق سیکھا ہو گا ، میں ماں بھارتی کے ساتھ آپ کی بہادری اور عقیدت کو سلام پیش کرتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جب بھی ایسا بحران آتا ہے تو لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ ہمارا ملک آپ جیسے ہیرو کے مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فوج اور پولیس عہدیداروں کے ساتھ سیکورٹی کی صورتحال کا بھی جائیزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک ہماری مسلح افواج کا شکر گذار ہے کہ وہ جانوں کے تحفظ اور ہوشیار ، لگن ، بہادری اور اعلیٰ قربانی کے ساتھ ہماری سرحدوں کے تقدس کو یقینی بنائے گی ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے جوانوں نے دشمن کی ہر ایک ناپاک حرکت کا معقول جواب دیا اور مضبوطی سے نمٹا ہے ۔
متاثرہ افراد کےلئے ایکس گریشیا امداد میں نمایاں اضافہ
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تشدد یا کسی بھی قسم کی شہری بدامنی کے سبب ہلاک یا زخمی ہونے والے شہریوں، سرکاری ملازمین، سابق پولیس اہلکاروں، مجسٹریٹس اور ولیج ڈیفنس گارڈز (VDGs) کے لیے ایکس گریشیا امداد میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ سیکیورٹی ریلیٹڈ ایکسپنڈیچر (SRE) اسکیم کے تحت کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی طرف سے دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کے لیے پہلے سے موجود 5 لاکھ روپے امداد کے علاوہ ہوگا۔
ترمیم شدہ اسکیم کے تحت درج ذیل اضافہ کیا گیا ہے:
• عام شہریوں کی موت کی صورت میں امداد کو 1 لاکھ سے بڑھا کر 2.5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں رقم 75 ہزار سے بڑھا کر5.1لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
سابق پولیس اہلکاروں کی موت پر ایکس گریشیا کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، اور مستقل معذوری کی صورت میں یہ رقم بھی 5.1لاکھ روپے ہوگی۔
• ڈیوٹی پر مامور مجسٹریٹ کی موت کی صورت میں امداد کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ معذوری پر 1.5 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
• وی ڈی جیز (VDGs) کی موت کی صورت میں رقم کو 1 لاکھ سے بڑھا کر5.2 لاکھ اور معذوری کی صورت میں5.1لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
• ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے سرکاری ملازمین کے لیے امداد میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 1 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے ہوگی، جبکہ معذوری پر5.1لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس موقع پر ان افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے قوم کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار رہا ہے، لیکن "آپریشن سندور” کے ذریعے ایک نئی سرخ لکیر کھینچی گئی ہے جو محض دفاع سے آگے بڑھ کر براہ راست کارروائی کا پیغام دیتی ہے۔
انہوں نے کہا، "پاکستان کو آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ہمارا ردعمل واضح، مؤثر اور نظر آنے والا ہوگا۔ ساتھ ہی، ہماری توجہ ان افراد کی فلاح و بہبود پر بھی ہے جو داخلی سلامتی اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میری بھرپور کوشش ہے کہ شہداء کے لواحقین، سابق پولیس اہلکاروں، وی ڈی جیز اور سرکاری ملازمین کے خاندان باوقار اور آسودہ زندگی گزاریں۔”
یہ اقدام جموں و کشمیر میں خدمت انجام دینے والے افراد کے حوصلے کو مضبوط بنانے اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔


