پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر عالمی نگرانی کا مطالبہ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی پر سوال اٹھایا اور ان کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ان کے یہ بیانات آپریشن سندور کے بعد اور حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
سرینگر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جوہری دھمکیاں اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا، "کیا ایسے ملک کے ہاتھوں میں جوہری ہتھیار محفوظ ہیں؟ میرا ماننا ہے کہ انہیں IAEA کی نگرانی میں دیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارت اب جوہری بلیک میلنگ یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا اور ایسی کسی بھی کارروائی کو "جنگ” تصور کیا جائے گا۔
راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی آپریشن قرار دیا اور بتایا کہ 7 مئی کو کیے گئے حملوں میں سرحد پار دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے 8 سے 10 مئی کے درمیان بھارت کی 26 تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس پر 10 مئی کو بھارتی فوج نے 8 پاکستانی ایئربیسز پر میزائل حملے کیے۔
پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو قومی وحدت پر حملہ قرار دیتے ہوئے سنگھ نے کہا، "انہوں نے ہمارے ماتھے پر وار کیا، ہم نے ان کے سینے کو چیر دیا۔ آپ کا جواب پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔”
انہوں نے مسلح افواج کو نظم و ضبط، بہادری اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ کارروائی کرنے پر سراہا۔
سنگھ نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی امن کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کبھی وعدہ کیا تھا کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، لیکن ان وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ "اب انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، اور اگر دہشت گردی جاری رہی تو یہ قیمت بڑھتی جائے گی۔”
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ "بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر بات ہوگی تو صرف دہشت گردی اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (PoK) پر ہوگی۔”
پاکستان کی خراب معاشی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے سنگھ نے کہا، "آج پاکستان جہاں کھڑا ہوتا ہے، وہاں مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان آئی ایم ایف سے قرض مانگ رہا ہے، وہیں بھارت اب اتنا مضبوط ہے کہ وہ خود آئی ایم ایف کو قرض دے سکتا ہے۔ "یہ قیادت اور سمت کا فرق ہے۔”
راجناتھ سنگھ نے سرحد پار موجود عسکریت پسندوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا، "انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ ہماری نظروں میں ہیں، اور جب بھارت نشانہ لیتا ہے تو چوک نہیں کرتا۔”
انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو ہونے والی فوجی سطح کی بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب سخت اور فوری دیا جائے گا۔
"ملک بدل چکا ہے۔ اب وہ پرانا دور نہیں رہا جب دہشت گردی کے بعد خاموشی ہوتی تھی۔ اب بھارت کا جواب سخت، تیز اور درست ہوتا ہے،” راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر عالمی نگرانی کا مطالبہ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی پر سوال اٹھایا اور ان کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ان کے یہ بیانات آپریشن سندور کے بعد اور حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
سرینگر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار جوہری دھمکیاں اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا، "کیا ایسے ملک کے ہاتھوں میں جوہری ہتھیار محفوظ ہیں؟ میرا ماننا ہے کہ انہیں IAEA کی نگرانی میں دیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارت اب جوہری بلیک میلنگ یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا اور ایسی کسی بھی کارروائی کو "جنگ” تصور کیا جائے گا۔
راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی آپریشن قرار دیا اور بتایا کہ 7 مئی کو کیے گئے حملوں میں سرحد پار دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے 8 سے 10 مئی کے درمیان بھارت کی 26 تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس پر 10 مئی کو بھارتی فوج نے 8 پاکستانی ایئربیسز پر میزائل حملے کیے۔
پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو قومی وحدت پر حملہ قرار دیتے ہوئے سنگھ نے کہا، "انہوں نے ہمارے ماتھے پر وار کیا، ہم نے ان کے سینے کو چیر دیا۔ آپ کا جواب پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔”
انہوں نے مسلح افواج کو نظم و ضبط، بہادری اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ کارروائی کرنے پر سراہا۔
سنگھ نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی امن کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کبھی وعدہ کیا تھا کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، لیکن ان وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ "اب انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، اور اگر دہشت گردی جاری رہی تو یہ قیمت بڑھتی جائے گی۔”
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ "بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر بات ہوگی تو صرف دہشت گردی اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (PoK) پر ہوگی۔”
پاکستان کی خراب معاشی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے سنگھ نے کہا، "آج پاکستان جہاں کھڑا ہوتا ہے، وہاں مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان آئی ایم ایف سے قرض مانگ رہا ہے، وہیں بھارت اب اتنا مضبوط ہے کہ وہ خود آئی ایم ایف کو قرض دے سکتا ہے۔ "یہ قیادت اور سمت کا فرق ہے۔”
راجناتھ سنگھ نے سرحد پار موجود عسکریت پسندوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا، "انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ ہماری نظروں میں ہیں، اور جب بھارت نشانہ لیتا ہے تو چوک نہیں کرتا۔”
انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو ہونے والی فوجی سطح کی بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب سخت اور فوری دیا جائے گا۔
"ملک بدل چکا ہے۔ اب وہ پرانا دور نہیں رہا جب دہشت گردی کے بعد خاموشی ہوتی تھی۔ اب بھارت کا جواب سخت، تیز اور درست ہوتا ہے،” راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں