"آپریشن سندور” کی کامیابی پرکشمیر میں بھاجپائیوں کی ترنگا ریلی

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے جمعرات کو سرینگر کے لال چوک میں ایک شاندار ترنگا ریلی نکالی تاکہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی افواج کی جوابی کارروائی "آپریشن سندور” کی کامیابی کو سراہا جا سکے، جس میں 26 افراد، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، جان بحق ہوئے تھے۔

لال چوک کے تاریخی گھنٹہ گھر کے اطراف "ہم ہندوستانی ہیں، ہندوستان ہمارا ہے” جیسے نعرے گونجتے رہے ، جبکہ بی جے پی کے رہنما اور کارکن سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان مارچ کرتے رہے۔
یہ ریلی "آپریشن سندور” کی کامیابی کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔بھارت کی جانب سے پہلگام کے المناک سانحے کے بعد دہشت گردی کے اڈوں پر کی گئی ایک عسکری کارروائی تھی۔یہ ریلی سرینگر کے شیرِ کشمیر پارک سے شروع ہو کر لال چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں اور سینکڑوں حامیوں نے ایک ساتھ ترنگا لہراتے ہوئے شرکت کی۔اس موقع پر جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست شرما نے سرینگر میں ریلی کی قیادت کی۔ ان کے ہمراہ دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔لال چوک میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو ممبر اور جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹرسید درخشاںاندرابی نے کہا:”پاکستان نے ہمیشہ ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آج کا بھارت مضبوط اور بے خوف ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "آپریشن سندور پاکستان کے دہشت گردی کے کیمپوں کے خلاف ایک جرات مندانہ حملہ تھا۔ یہ ترنگا ریلی ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرنے اور دنیا کو ایک مضبوط پیغام دینے کے لیے ہے۔”انہوں نے جموں و کشمیر میں پاکستان کی پشت پناہی سے جاری دہشت گردی کو خطے کی بدحالی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائی کو فیصلہ کن قرار دیا۔دریں اثنا، کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔ جنوبی کشمیر کے پہلگام میں بی جے پی کارکنوں اور مقامی لوگوں نے گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک منفرد ترنگا یاترا نکالی۔یہ ریلی "آپریشن سندور” کی کامیابی کا جشن منانے اور حالیہ حملے کے بعد علاقے میں امن کی بحالی اور مرکزی حکومت سے سیاحت کے شعبے کی مدد کی اپیل کے لیے منعقد کی گئی۔پہلگام کے ایک مقامی ہوٹل مالک فیاض احمد نے کے این او کو بتایا:”سیاحت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس ریلی کے ذریعے ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہم امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاحتی شعبے کو دوبارہ کھولے اور فروغ دے تاکہ ہمارے روزگار بحال ہوں۔”
بی جے پی کے نائب صدر اور سابق ایم ایل سی صوفی یوسف نے کہا کہ یہ ریلی بھارتی فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک کوشش ہے، اور انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وادی میں سیاحتی مقامات کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا ملے۔اسی طرح کی ترنگا یاترائیں کشمیر وادی اور جموں کے دیگر اضلاع میں بھی نکالی گئیں، جن میں بی جے پی کارکنوں نے قومی پرچم اٹھا رکھا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

"آپریشن سندور” کی کامیابی پرکشمیر میں بھاجپائیوں کی ترنگا ریلی

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے جمعرات کو سرینگر کے لال چوک میں ایک شاندار ترنگا ریلی نکالی تاکہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی افواج کی جوابی کارروائی "آپریشن سندور” کی کامیابی کو سراہا جا سکے، جس میں 26 افراد، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی، جان بحق ہوئے تھے۔

لال چوک کے تاریخی گھنٹہ گھر کے اطراف "ہم ہندوستانی ہیں، ہندوستان ہمارا ہے” جیسے نعرے گونجتے رہے ، جبکہ بی جے پی کے رہنما اور کارکن سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان مارچ کرتے رہے۔
یہ ریلی "آپریشن سندور” کی کامیابی کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔بھارت کی جانب سے پہلگام کے المناک سانحے کے بعد دہشت گردی کے اڈوں پر کی گئی ایک عسکری کارروائی تھی۔یہ ریلی سرینگر کے شیرِ کشمیر پارک سے شروع ہو کر لال چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں اور سینکڑوں حامیوں نے ایک ساتھ ترنگا لہراتے ہوئے شرکت کی۔اس موقع پر جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست شرما نے سرینگر میں ریلی کی قیادت کی۔ ان کے ہمراہ دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔لال چوک میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو ممبر اور جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹرسید درخشاںاندرابی نے کہا:”پاکستان نے ہمیشہ ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آج کا بھارت مضبوط اور بے خوف ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "آپریشن سندور پاکستان کے دہشت گردی کے کیمپوں کے خلاف ایک جرات مندانہ حملہ تھا۔ یہ ترنگا ریلی ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرنے اور دنیا کو ایک مضبوط پیغام دینے کے لیے ہے۔”انہوں نے جموں و کشمیر میں پاکستان کی پشت پناہی سے جاری دہشت گردی کو خطے کی بدحالی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائی کو فیصلہ کن قرار دیا۔دریں اثنا، کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔ جنوبی کشمیر کے پہلگام میں بی جے پی کارکنوں اور مقامی لوگوں نے گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک منفرد ترنگا یاترا نکالی۔یہ ریلی "آپریشن سندور” کی کامیابی کا جشن منانے اور حالیہ حملے کے بعد علاقے میں امن کی بحالی اور مرکزی حکومت سے سیاحت کے شعبے کی مدد کی اپیل کے لیے منعقد کی گئی۔پہلگام کے ایک مقامی ہوٹل مالک فیاض احمد نے کے این او کو بتایا:”سیاحت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس ریلی کے ذریعے ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہم امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاحتی شعبے کو دوبارہ کھولے اور فروغ دے تاکہ ہمارے روزگار بحال ہوں۔”
بی جے پی کے نائب صدر اور سابق ایم ایل سی صوفی یوسف نے کہا کہ یہ ریلی بھارتی فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک کوشش ہے، اور انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وادی میں سیاحتی مقامات کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا ملے۔اسی طرح کی ترنگا یاترائیں کشمیر وادی اور جموں کے دیگر اضلاع میں بھی نکالی گئیں، جن میں بی جے پی کارکنوں نے قومی پرچم اٹھا رکھا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں