سرینگر جنگ نیوز
بھارت نے دہشت گردی کے خلاف اپنے صفر برداشت والے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے جموں و کشمیر کے تین اہم سیاستدانوں کو ہم جماعتی وفود میں شامل کیا ہے۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد، اننت ناگ-راجوری سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد، اور راجیہ سبھا کے نامزد رکن غلام علی کھٹانہ شامل ہیں۔
غلام نبی آزاد، جو راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر بھی رہ چکے ہیں، بی جے پی ایم پی بیجینت پندا کی قیادت میں بننے والے وفد کا حصہ ہوں گے، جو سعودی عرب، پانامہ، گیانا، برازیل اور کولمبیا کا دورہ کرے گا۔
نیشنل کانفرنس کے ایم پی میاں الطاف احمد، ڈی ایم کے کی ایم پی کنی موزی کی قیادت میں بننے والے وفد میں شامل ہوں گے، جو اسپین، یونان، لٹویا اور روس کا سفر کرے گا۔
راجیہ سبھا کے نامزد رکن غلام علی کھٹانہ بی جے پی کے سینئر رہنما روی شنکر پرساد کی قیادت میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، یورپی یونین، اٹلی اور ڈنمارک جائیں گے۔
یہ تمام وفود آپریشن سندور کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سفارتی مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عالمی شراکت داروں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پوزیشن سے آگاہ کرنا ہے۔
بھارت نے دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف پیش کرنے کے لیے دنیا بھر کے اہم ممالک میں سات ہم جماعتی وفود بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ وفود اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک اور دیگر کلیدی اتحادیوں کا دورہ کریں گے۔مقصد پاکستان کے بیانیے کا توڑ اور پہلگام حملے و آپریشن سندور سے متعلق بھارت کی مؤثر وضاحت ہے۔
ہر وفد میں حکمراں اتحاد این ڈی اے اور اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ارکانِ پارلیمان شامل ہوں گے۔سینئر سفارتکار ان وفود کے ہمراہ ہوں گے جو بھارت کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عالمی سطح پر بریفنگ دیں گے۔وفود امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی افریقہ سمیت پانچ ممالک کا دورہ کریں گے۔آپریشن سندور میں پاکستان و پی او کے میں نو دہشت گرد کیمپوں پر 24 فضائی حملے کیے گئے۔100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جن میں پلوامہ حملے اور IC-814 ہائی جیکنگ سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔
وفود اقوامِ متحدہ سے TRF کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل کریں گے۔یہ اقدام 1994 کی واجپائی قیادت والی سفارتی مہم جیسا ایک نادر مشترکہ قومی قدم ہے۔ششی تھرور امریکہ جانے والے وفد کی قیادت کریں گے، انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ حاضر ہیں۔دیگر وفود کی قیادت روی شنکر پرساد، سنجے کمار جھا، بیجینت پانڈا، کنی موزی، سپریا سولے اور شریکانت شنڈے کریں گے۔
یہ تمام نمائندگان مختلف علاقوں اور جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔یونین وزیر کرن ریجیجو نے کہا: "یہ وقت بھارت کی یکجہتی کا ہے، جب سیاست سے بالا ہو کر ملک دہشت گردی


