امن کا چراغ یا جنگ کی آگ؟

جب قوموں کے درمیان بات چیت کی زبان دم توڑنے لگے اور بارود کی بو فضا کو زہر آلود کرنے لگے، تب انسانیت سب سے زیادہ زخم کھاتی ہے۔ آج بھارت اور پاکستان ایک بار پھر اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں جنگ کے طبل بج رہے ہیں، اور خون کے رنگ میں ڈوبا ہوا افق انسانیت سے سوال کر رہا ہے: کیا یہی ہماری منزل ہے؟

پہلگام کا دہشت گرد حملہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ معصوم جانوں کا بے دردی سے قتل، خاندانوں کی بربادی اور دلوں پر لگے ان مٹ زخم یہ سب کچھ کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لئے کافی ہے۔ ان مظالم کا جواب دینا لازم ہے، مگر کیا مکمل جنگ ہی واحد راستہ ہے؟بھارت کی جانب سے ’’آپریشن سندور‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کے اڈوں پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، جس کا مقصد ان عناصر کو سبق سکھانا ہے جو خونریزی کو اپنا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں۔ یہ کاروائی انصاف کی ایک کوشش ہے — ان بیواؤں کی آنکھوں کے آنسوؤں کا جواب ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی متاع کھو دی۔لیکن ساتھ ہی، یہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنما سنجیدگی سے سوچیں کہ نفرت کا یہ لاوا کہاں جا کر رکے گا؟

جنگ ہمیشہ لاشیں گنتی ہے، قبرستانوں کو آباد کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کی امیدوں کو راکھ میں بدل دیتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیے جائیں، لیکن ساتھ ہی عقل اور تدبر کو ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ دشمن کو سبق سکھاتے ہوئے بھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اصل کامیابی تب ہے جب سرحدوں کے دونوں طرف امن کا پرچم لہرائے، اور عوام خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔سیاستدانوں، فوجی قیادت اور عوام کو ایک آواز ہو کر کہنا ہوگا: ہم دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں، مگر ہم جنگ کے خواہاں نہیں۔ ہمیں ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دے، مگر عام انسانوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھے۔اگر آج ہم نے ہوش کا دامن تھام لیا، تو شاید کل کی تاریخ ہمیں معمارِ امن کہے گی۔ ورنہ صرف شکست و ریخت اور مایوسی ہی ہماری وراثت بنے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

امن کا چراغ یا جنگ کی آگ؟

جب قوموں کے درمیان بات چیت کی زبان دم توڑنے لگے اور بارود کی بو فضا کو زہر آلود کرنے لگے، تب انسانیت سب سے زیادہ زخم کھاتی ہے۔ آج بھارت اور پاکستان ایک بار پھر اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں جنگ کے طبل بج رہے ہیں، اور خون کے رنگ میں ڈوبا ہوا افق انسانیت سے سوال کر رہا ہے: کیا یہی ہماری منزل ہے؟

پہلگام کا دہشت گرد حملہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ معصوم جانوں کا بے دردی سے قتل، خاندانوں کی بربادی اور دلوں پر لگے ان مٹ زخم یہ سب کچھ کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لئے کافی ہے۔ ان مظالم کا جواب دینا لازم ہے، مگر کیا مکمل جنگ ہی واحد راستہ ہے؟بھارت کی جانب سے ’’آپریشن سندور‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کے اڈوں پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، جس کا مقصد ان عناصر کو سبق سکھانا ہے جو خونریزی کو اپنا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں۔ یہ کاروائی انصاف کی ایک کوشش ہے — ان بیواؤں کی آنکھوں کے آنسوؤں کا جواب ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی متاع کھو دی۔لیکن ساتھ ہی، یہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنما سنجیدگی سے سوچیں کہ نفرت کا یہ لاوا کہاں جا کر رکے گا؟

جنگ ہمیشہ لاشیں گنتی ہے، قبرستانوں کو آباد کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کی امیدوں کو راکھ میں بدل دیتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیے جائیں، لیکن ساتھ ہی عقل اور تدبر کو ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ دشمن کو سبق سکھاتے ہوئے بھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اصل کامیابی تب ہے جب سرحدوں کے دونوں طرف امن کا پرچم لہرائے، اور عوام خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔سیاستدانوں، فوجی قیادت اور عوام کو ایک آواز ہو کر کہنا ہوگا: ہم دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں، مگر ہم جنگ کے خواہاں نہیں۔ ہمیں ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دے، مگر عام انسانوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھے۔اگر آج ہم نے ہوش کا دامن تھام لیا، تو شاید کل کی تاریخ ہمیں معمارِ امن کہے گی۔ ورنہ صرف شکست و ریخت اور مایوسی ہی ہماری وراثت بنے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں