سول ڈیفنس مشقیں اور جنگ کے سائے

22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نے مقامی سیکورٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی تیاریوں میں تیزی دکھائی ہے۔ 7 مئی کو ملک کے 250 سے زائد اضلاع میں ایک بڑی سول ڈیفنس مشق ہونے جا رہی ہے، جس کا مقصد حکام اور عوام دونوں کی تیاری کو جانچنا ہے۔ایسے وقت میں، جب ملک بھر میں غیر معمولی حفاظتی مشقیں ہو رہی ہیں، عوام میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے: کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے؟یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سول ڈیفنس کی مشقیں کشیدہ حالات میں ایک معمول کا احتیاطی قدم ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورت حال —چاہے وہ دہشت گردی ہو، جنگ ہو یا قدرتی آفات میں تیزی سے اور منظم انداز میں ردعمل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ یہ مشقیں لازمی طور پر جنگ کی پیش گوئی نہیں کرتیں بلکہ حکومت کی جانب سے ہر ممکن صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھنے کی علامت ہیں۔تاہم، عوامی خدشات بے بنیاد بھی نہیں۔ گزشتہ مہینوں میں سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، اشتعال انگیز بیانات، اور اب پہلگام حملہ ان سب نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ملک کے اندر انتقامی کارروائیوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور سیاسی ماحول سخت ہو چکا ہے۔پہلگام حملے کا جواب سنجیدگی سے دینا ضروری ہے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو اس کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔ جنگ کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ عام شہریوں کو چکانی پڑتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

سول ڈیفنس مشقیں اور جنگ کے سائے

22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نے مقامی سیکورٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی تیاریوں میں تیزی دکھائی ہے۔ 7 مئی کو ملک کے 250 سے زائد اضلاع میں ایک بڑی سول ڈیفنس مشق ہونے جا رہی ہے، جس کا مقصد حکام اور عوام دونوں کی تیاری کو جانچنا ہے۔ایسے وقت میں، جب ملک بھر میں غیر معمولی حفاظتی مشقیں ہو رہی ہیں، عوام میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے: کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے؟یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سول ڈیفنس کی مشقیں کشیدہ حالات میں ایک معمول کا احتیاطی قدم ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورت حال —چاہے وہ دہشت گردی ہو، جنگ ہو یا قدرتی آفات میں تیزی سے اور منظم انداز میں ردعمل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ یہ مشقیں لازمی طور پر جنگ کی پیش گوئی نہیں کرتیں بلکہ حکومت کی جانب سے ہر ممکن صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھنے کی علامت ہیں۔تاہم، عوامی خدشات بے بنیاد بھی نہیں۔ گزشتہ مہینوں میں سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، اشتعال انگیز بیانات، اور اب پہلگام حملہ ان سب نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ملک کے اندر انتقامی کارروائیوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور سیاسی ماحول سخت ہو چکا ہے۔پہلگام حملے کا جواب سنجیدگی سے دینا ضروری ہے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو اس کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔ جنگ کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ عام شہریوں کو چکانی پڑتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں