دسویں گلوبل لیڈرز کانفرنس کا سرینگر میں انعقاد

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/سری نگر میں دسویں گلوبل لیڈرز کانفرنس ( جی ایل سی سرینگر 2026) کا انعقاد کشمیر محل ریزارٹس، گپت گنگا، اشبر نِشات میں کیا گیا۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع ‘‘پائیدار تعلیم  پائیدار کاروبار  پائیدار صحت’’ تھا، جس کے ذریعے تعلیم، کاروبار، صحت، ٹیکنالوجی، خواتین کی معاشی خودمختاری اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ایک مربوط عالمی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک منفرد بالمشافہ تبادلہ خیال (انٹرایکٹو) سرگرمی سے ہوا، جس میں شرکاء سے سوال کیا گیا کہ وہ اپنے سیارے کے مستقبل کو صرف ایک لفظ میں کیسے بیان کریں گے۔ مختصر غوروفکر اور باہمی تبادلے کے بعد شرکاء نے اجتماعی طور پر "ماء ورلڈ: ماء ایکشن، ماء فیچوچر”کے پیغام کو اپنایا۔ اس سرگرمی نے اس بنیادی تصور کو اجاگر کیا کہ پائیداری محض ایک تصور نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی عمل کا تقاضا کرتی ہے۔

افتتاحی مرحلے میں پروفیسر شکیل احمد رومشو، وائس چانسلر، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اونتی پورہ نے افتتاحی خطاب کیا اور تعلیم، علمی قیادت اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کے ‘‘سسٹین ایبل ایجوکیشن : ایجوکیشن فار چینجینگ ورلڈ ” سیشن میں تعلیم کے بدلتے تقاضوں، مستقبل کی مہارتوں، مصنوعی ذہانت، مساوات، بنیادی خواندگی، اساتذہ کی ترقی اور عالمی شہریت جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ سیشن کی صدارت معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر فاروق احمد واصل نے کی، جبکہ ڈاکٹر سید شبینہ یاسین، محترمہ پریتی تیاگی اور محترمہ اسماء زیدی نے اپنے تجربات اور عملی تجاویز پیش کیں۔ سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پائیدار تعلیم کا اصل مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو بدلتی دنیا کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔’’سسٹین ایبل بزنس، لیڈرشپ اینڈ ہیلتھ’’ کے سیشن کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل انیل ملک، اے وی ایس ایم (ریٹائرڈ) نے کی۔ ڈاکٹر سید انور باری نے "گرین انٹرپرینرشپ: بلڈینگ دی بزنس آف ٹومارو’’ کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا، جبکہ ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ، مینیجنگ ڈائریکٹر ایڈوفام انٹرنیشنل اکیڈمی نے ‘‘وومین، سسٹین ایبیلٹی اینڈ اکانامک پاور۔ دی میسینگ لینک” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے خواتین کی معاشی شمولیت اور پائیدار ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا۔کانفرنس کے بعد کے ورچوئل سیشنز میں پروفیسر خواجہ ایم شاہد، پروفیسر ڈاکٹر ایس سیوانیسان، ڈاکٹر نسیرا اے جمیل، ڈاکٹر مسرت پروین، پروفیسر دیمِتھری جیاگوڈا، ڈاکٹر مہیش ابھینکر اور ماریا ایملنڈا ڈوڈون پالمینکو سمیت عالمی ماہرین نے اے آء ، ای ایس جی ذمہ دار کاروبار، گرین انوویشن، سرکلر اکانومی اور پلینیٹری ہیلتھ جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔ کانفرنس میں ‘‘ایتھینٹک انٹیلیجینس’’ کے تصور کو بھی نمایاں کیا گیا، جس میں انسانی، مصنوعی، جذباتی اور اخلاقی ذہانت کو مستقبل کی قیادت کے اہم ستون قرار دیا گیا۔کانفرنس کے فکری مرحلے میں ڈاکٹر عمر المارزوقی، طارق احمد راتھر، وحید جیلانی، سید ہمایوں قیصر، اعجاز احمد بٹ آئی پی ایس، سلیم لون، کلیم الحفیظ اور ڈاکٹر احسن الحق چشتی سمیت ممتاز شخصیات نے نوجوانوں کی موسمیاتی قیادت، پائیدار سیاحت، ہمالیائی آبی بحران، سرکلر اکانومی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور مقامی ترقی جیسے اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
تقریب کے اختتامی مرحلے میں گیرینڈ آنر اینڈ ایوارڈ سیرمنی کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیم، قیادت، پائیداری، سماجی ترقی، صحت، ای ایس جی، گرین انوویشن، کمیونٹی امپیکٹ اور عالمی تعاون کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی متعدد شخصیات کو اعزازات سے نوازا گیا۔ کانفرنس کے اہم شراکت داروں میں ریفلز ایجوکیشن انسٹیچیوٹ سنگاپور، شہلت فونڈیشن، منصف ٹی وی، اسد ایڈورٹائزرز اور کشمیر محل ریزارٹس شامل رہے۔اختتامی کلمات میں غلام عباس، وائس چیئرمین شہلت فونڈیشن نے تمام معزز مہمانوں، مقررین، مندوبین، شراکت داروں، رضاکاروں اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کا مجموعی پیغام واضح تھا کہ ایک پائیدار مستقبل صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، بامقصد تعلیم، پائیدار کاروبار، صحت مند معاشروں اور اجتماعی عمل کے ذریعے تشکیل پائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

دسویں گلوبل لیڈرز کانفرنس کا سرینگر میں انعقاد

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/سری نگر میں دسویں گلوبل لیڈرز کانفرنس ( جی ایل سی سرینگر 2026) کا انعقاد کشمیر محل ریزارٹس، گپت گنگا، اشبر نِشات میں کیا گیا۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع ‘‘پائیدار تعلیم  پائیدار کاروبار  پائیدار صحت’’ تھا، جس کے ذریعے تعلیم، کاروبار، صحت، ٹیکنالوجی، خواتین کی معاشی خودمختاری اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ایک مربوط عالمی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک منفرد بالمشافہ تبادلہ خیال (انٹرایکٹو) سرگرمی سے ہوا، جس میں شرکاء سے سوال کیا گیا کہ وہ اپنے سیارے کے مستقبل کو صرف ایک لفظ میں کیسے بیان کریں گے۔ مختصر غوروفکر اور باہمی تبادلے کے بعد شرکاء نے اجتماعی طور پر "ماء ورلڈ: ماء ایکشن، ماء فیچوچر”کے پیغام کو اپنایا۔ اس سرگرمی نے اس بنیادی تصور کو اجاگر کیا کہ پائیداری محض ایک تصور نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی عمل کا تقاضا کرتی ہے۔

افتتاحی مرحلے میں پروفیسر شکیل احمد رومشو، وائس چانسلر، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اونتی پورہ نے افتتاحی خطاب کیا اور تعلیم، علمی قیادت اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کے ‘‘سسٹین ایبل ایجوکیشن : ایجوکیشن فار چینجینگ ورلڈ ” سیشن میں تعلیم کے بدلتے تقاضوں، مستقبل کی مہارتوں، مصنوعی ذہانت، مساوات، بنیادی خواندگی، اساتذہ کی ترقی اور عالمی شہریت جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ سیشن کی صدارت معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر فاروق احمد واصل نے کی، جبکہ ڈاکٹر سید شبینہ یاسین، محترمہ پریتی تیاگی اور محترمہ اسماء زیدی نے اپنے تجربات اور عملی تجاویز پیش کیں۔ سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پائیدار تعلیم کا اصل مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو بدلتی دنیا کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔’’سسٹین ایبل بزنس، لیڈرشپ اینڈ ہیلتھ’’ کے سیشن کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل انیل ملک، اے وی ایس ایم (ریٹائرڈ) نے کی۔ ڈاکٹر سید انور باری نے "گرین انٹرپرینرشپ: بلڈینگ دی بزنس آف ٹومارو’’ کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا، جبکہ ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ، مینیجنگ ڈائریکٹر ایڈوفام انٹرنیشنل اکیڈمی نے ‘‘وومین، سسٹین ایبیلٹی اینڈ اکانامک پاور۔ دی میسینگ لینک” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے خواتین کی معاشی شمولیت اور پائیدار ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا۔کانفرنس کے بعد کے ورچوئل سیشنز میں پروفیسر خواجہ ایم شاہد، پروفیسر ڈاکٹر ایس سیوانیسان، ڈاکٹر نسیرا اے جمیل، ڈاکٹر مسرت پروین، پروفیسر دیمِتھری جیاگوڈا، ڈاکٹر مہیش ابھینکر اور ماریا ایملنڈا ڈوڈون پالمینکو سمیت عالمی ماہرین نے اے آء ، ای ایس جی ذمہ دار کاروبار، گرین انوویشن، سرکلر اکانومی اور پلینیٹری ہیلتھ جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔ کانفرنس میں ‘‘ایتھینٹک انٹیلیجینس’’ کے تصور کو بھی نمایاں کیا گیا، جس میں انسانی، مصنوعی، جذباتی اور اخلاقی ذہانت کو مستقبل کی قیادت کے اہم ستون قرار دیا گیا۔کانفرنس کے فکری مرحلے میں ڈاکٹر عمر المارزوقی، طارق احمد راتھر، وحید جیلانی، سید ہمایوں قیصر، اعجاز احمد بٹ آئی پی ایس، سلیم لون، کلیم الحفیظ اور ڈاکٹر احسن الحق چشتی سمیت ممتاز شخصیات نے نوجوانوں کی موسمیاتی قیادت، پائیدار سیاحت، ہمالیائی آبی بحران، سرکلر اکانومی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور مقامی ترقی جیسے اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
تقریب کے اختتامی مرحلے میں گیرینڈ آنر اینڈ ایوارڈ سیرمنی کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیم، قیادت، پائیداری، سماجی ترقی، صحت، ای ایس جی، گرین انوویشن، کمیونٹی امپیکٹ اور عالمی تعاون کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی متعدد شخصیات کو اعزازات سے نوازا گیا۔ کانفرنس کے اہم شراکت داروں میں ریفلز ایجوکیشن انسٹیچیوٹ سنگاپور، شہلت فونڈیشن، منصف ٹی وی، اسد ایڈورٹائزرز اور کشمیر محل ریزارٹس شامل رہے۔اختتامی کلمات میں غلام عباس، وائس چیئرمین شہلت فونڈیشن نے تمام معزز مہمانوں، مقررین، مندوبین، شراکت داروں، رضاکاروں اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کا مجموعی پیغام واضح تھا کہ ایک پائیدار مستقبل صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، بامقصد تعلیم، پائیدار کاروبار، صحت مند معاشروں اور اجتماعی عمل کے ذریعے تشکیل پائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں