
مسعود محبوب خان
دنیا کے نقشے پر کچھ خطے محض جغرافیہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ، تہذیب، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ بھی ایسا ہی خطہ ہے، جہاں مقامی واقعات بہت جلد عالمی اثرات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
یہاں پیدا ہونے والا بحران جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتا۔ ایک سرحد پر اٹھنے والی آگ دوسری سرحدوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، سمندری راستوں میں بے یقینی عالمی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معیشت میں اضطراب پیدا کرسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہاں ہونے والے واقعات میں کن قوتوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ریاستیں اپنے مفادات کو سلامتی، معیشت، طاقت اور تزویراتی ترجیحات کے پیمانے سے دیکھتی ہیں۔
یہ بحران صرف مقامی فریقوں کی کشمکش نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں، عالمی ترجیحات، توانائی کی سیاست، تجارتی راستوں اور عالمی سفارت کاری سے بھی جڑا ہے۔ ایک بحران ختم ہونے سے پہلے دوسرا بحران سر اٹھاتا ہے اور امن دور کا خواب محسوس ہونے لگتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی اہمیت کا ایک بڑا سبب اس کا معاشی اور توانائی کا کردار ہے۔ دنیا کی صنعتی معیشتیں توانائی کے مستحکم ذرائع کی محتاج ہیں، اس لئے خطے میں جنگ یا سیاسی بے یقینی کے اثرات عالمی منڈیوں، تجارت، سرمایہ کاری اور افراط زر تک پہنچتے ہیں۔
توانائی کی فراہمی، قیمتوں اور تجارتی راستوں کی سلامتی کے باعث مشرق وسطیٰ کی بے یقینی کا اثر واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو اور نئی دہلی تک محسوس کیا جاتا ہے۔چین اور روس سمیت عالمی طاقتیں اس خطے میں اپنے معاشی، سیاسی اور تزویراتی مفادات رکھتی ہیں۔ چین کے لئے توانائی اور عالمی تجارت اہم ہیں، جبکہ روس کے لئے خطے میں موجودگی اس کے علاقائی اثر و رسوخ سے جڑی ہے۔ یوں مشرق وسطیٰ کی ہر جنگ عالمی طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ہندوستان بھی اس صورت حال سے الگ نہیں رہ سکتا۔ اس کی توانائی کی ضروریات اور تجارتی روابط اسے خطے کے استحکام میں دلچسپی رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بھارت کے لئے ایسا مشرق وسطیٰ زیادہ مفید ہے جہاں کشیدگی ہمہ گیر جنگ میں تبدیل نہ ہو، تجارتی راستے محفوظ رہیں اور توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔امریکہ کے لئے مشرق وسطیٰ عالمی طاقت، علاقائی اتحاد، توانائی، دفاعی مفادات اور جغرافیائی سیاست کا اہم میدان ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا واشنگٹن کا مقصد صرف بحران ختم کرنا ہے یا اس کے ذریعے اپنے تزویراتی مفادات کو بھی آگے بڑھانا۔
بڑی طاقتیں کسی خطے میں اپنی موجودگی محض خیرخواہی کی بنیاد پر برقرار نہیں رکھتیں۔ قومی مفادات اور عالمی طاقت کے تقاضے بھی اس کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بحران حریفوں کو کمزور کرنے، اتحادیوں کو قریب رکھنے یا طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنے کا موقع فراہم کرے تو وہ مفاد کے حصول کا میدان بھی بن جاتا ہے۔اس پوری بساط میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کھیل کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟بڑی طاقتیں اپنے مفادات کا حساب لگاتی ہیں، عالمی منڈیاں بحران کو اعداد و شمار میں ناپتی ہیں اور دفاعی صنعتیں جنگ کو کاروباری امکانات میں تبدیل کرتی ہیں۔
وہ اپنے گھر کا ملبہ دیکھتا ہے، ہجرت کرتا ہے، اپنے بچوں کو کھوتا ہے، روزگار سے محروم ہوتا ہے اور برسوں تک جنگ کے نفسیاتی اثرات برداشت کرتا ہے۔ کبھی کبھی وہ صرف اس لئے بے گھر ہوجاتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی شطرنج پر اس کا وطن ایک اہم خانہ تھا۔
جدید دنیا میں جنگ کی کوئی واضح جغرافیائی حد باقی نہیں رہی۔ میزائل سرحدیں عبور کرسکتے ہیں، سائبر حملے براعظموں کے فاصلے مٹا سکتے ہیں اور توانائی کا بحران پوری دنیا کو متاثر کرسکتا ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ طاقت کو استعمال کیے بغیر اپنے مفاد کا تحفظ کیسے کیا جائے۔
مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ضرورت کسی نئی طاقت کی بالادستی نہیں بلکہ ایسے علاقائی و عالمی نظم کی ہے جس میں خطے کے عوام کو بڑی طاقتوں کے مفادات کا ذریعہ نہ سمجھا جائے۔
یہ خطہ تیل کے کنوؤں، عسکری اڈوں اور تجارتی راستوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ انسانوں، تہذیبوں، تاریخ اور مذہبی روایات کا خطہ ہے۔ اگر اسے صرف مفادات کی شطرنج سمجھا جاتا رہا تو بحران اپنی شکلیں بدلتے رہیں گے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ کو مسلسل جنگوں کا میدان بننے سے بچایا جاسکتا ہے؟ کیونکہ یہاں اٹھنے والی ہر چنگاری عالمی سیاست اور معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کا بحران محض چند ریاستوں کے درمیان سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ پوری اُمّت مسلمہ کے لئے ایک بڑا فکری، اخلاقی، انسانی اور سیاسی امتحان ہے۔ فلسطین ہو یا شام، یمن ہو یا لبنان، عراق ہو یا کوئی اور ملک—ہر جگہ انسانی جان کی حرمت، قومی خودمختاری، انصاف اور امن کو بنیادی اصول بنانا ہوگا۔اُمّت مسلمہ کو اس بحران کو محض جذبات سے نہیں بلکہ بصیرت، حکمت اور ملی شعور کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بڑی طاقت کی اندھی حمایت یا مخالفت کے بجائے پالیسی کا مرکز حق، عدل اور انسانی جان کا تحفظ ہونا چاہیے۔مسلم دنیا کو اپنے معاشی وسائل، انسانی سرمایہ اور سفارتی امکانات کو وسیع ملی اور انسانی ذمہ داری کے تناظر میں استعمال کرنا ہوگا۔ اگر مسلم ممالک مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کریں، جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں اور اپنی اجتماعی قوت بروئے کار لائیں تو مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی سمت تبدیل کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ساتھ ہی اُمّت کو اپنی داخلی کمزوریوں، سیاسی تقسیم، معاشی انحصار اور علمی پسماندگی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ جب تک اتحاد، خود اعتمادی، علمی و معاشی خود کفالت اور دوراندیش قیادت پیدا نہیں ہوتی، مسلم خطے عالمی طاقتوں کی شطرنج پر مہرے بننے کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوسکتے۔ملی ہمدردی کا تقاضا صرف جذباتی اظہار نہیں؛ علم، تحقیق، انسانی خدمت، سفارتی کوشش، میڈیا کی ذمہ داری اور فکری بیداری بھی ضروری ہیں۔ نئی نسل کو سمجھانا ہوگا کہ عالمی سیاست علم، معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری، اتحاد اور مضبوط اداروں سے متاثر ہوتی ہے۔مشرق وسطیٰ عالمی طاقتوں کے لئے شاید شطرنج کی بساط ہو، لیکن اُمّت مسلمہ کے لئے یہ ہماری تاریخ، تہذیب، مقدسات اور انسانی رشتوں کا حصہ ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو شطرنج کی بساط کے بجائے انسانوں کے گھروں کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ یہاں کے عوام کو کسی طاقت کے مہرے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کا مالک سمجھا جائے۔ کیونکہ امن صرف مشرق وسطیٰ کی ضرورت نہیں—یہ پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔


