جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/دو سال سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد متحدہ مجلسِ علماء جموں و کشمیر (MMU) کو سرینگر میں بڑی علماء کانفرنس کے انعقاد کی اجازت دی گئی۔ میرواعظ عمر فاروق کی صدارت میں منعقدہ ایک روزہ علماء اجلاس و سیرت کانفرنس میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں سے 70 سے زائد علماء و مشائخ نے شرکت کی اور موجودہ دینی، اخلاقی اور سماجی مسائل پر تفصیلی غور کیا۔
کانفرنس میں کشمیر کے مختلف اضلاع کے علاوہ جموں، پونچھ، راجوری، کرگل اور ڈوڈہ سے بھی علماء شریک ہوئے۔ اجلاس کے اختتام پر دو جامع قراردادیں منظور کی گئیں۔ پہلی قرارداد سماجی چیلنجز، نوجوانوں کے مسائل اور ماحولیاتی ذمہ داری سے متعلق، جبکہ دوسری اتحادِ اُمت، مسلکی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مرکوز تھی۔
پہلی قرارداد میں منشیات کے بڑھتے استعمال، خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات، نوجوانوں میں ذہنی و جذباتی دباؤ، سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال، خاندانی رشتوں کی کمزوری، اخلاقی انحطاط اور نوجوانوں کی دینی و سماجی اداروں سے بڑھتی دوری پر تشویش ظاہر کی گئی۔
علماء نے زور دیا کہ خودکشی اور ذہنی پریشانی جیسے مسائل کا حل محض مذمت یا خاموشی نہیں، بلکہ ہمدردانہ رہنمائی اور مناسب معاونت ہے۔ ائمہ، علماء، مساجد اور مدارس کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا جہاں نوجوان اور ان کے خاندان ذہنی دباؤ، تنہائی، بے چینی اور دیگر مشکلات پر بلا جھجھک بات کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مشاورت اور ذہنی صحت کی خدمات تک رہنمائی حاصل کر سکیں۔
کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ ان مسائل کو محض وقتی تقاریر اور سیمیناروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ طے پایا کہ مقررہ جمعوں میں شریک مساجد میں کسی ایک اہم سماجی مسئلے کو اجتماعی طور پر خطبات کا موضوع بنایا جائے گا، تاکہ پورے جموں و کشمیر اور لداخ میں سماجی اصلاح اور بیداری کی مربوط کوشش کی جا سکے۔
متحدہ مجلسِ علماء نے مختلف اضلاع میں ترجیحاً ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جن میں مقامی علماء، ائمہ، مساجد اور مدارس کو شامل کیا جائے گا۔ ان اجلاسوں کے ذریعے مقامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے مطابق عملی اقدامات مرتب کیے جائیں گے۔
منشیات کے مسئلے پر کانفرنس نے کہا کہ ہر قسم کی لت نقصان دہ ہے اور اس کے خلاف مستقل اور یکساں پالیسی ضروری ہے۔ علماء نے شراب کی بڑھتی ہوئی دستیابی اور اس کی تشہیر پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک جانب منشیات کے خلاف مہم اور دوسری جانب شراب کی دستیابی میں توسیع جیسی متضاد پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔
کانفرنس نے ماحولیاتی تحفظ کو بھی دینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔ جمعہ خطبات اور مسجدی پروگراموں کے ذریعے پلاسٹک و پولیتھین کے استعمال کی حوصلہ شکنی، گندگی پھیلانے سے اجتناب اور دریاؤں، جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر میں کوڑا پھینکنے کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
ڈل جھیل، ولر جھیل، نگین جھیل اور دیگر آبی ذخائر اور آبی دلدلی علاقوں پر تجاوزات اور ان کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ علماء نے کہا کہ قدرتی ماحول اور مشترکہ قدرتی وسائل کا تحفظ ایک مسلمان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
دوسری قرارداد میں اتحادِ اُمت اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان باہمی احترام پر زور دیا گیا۔ کانفرنس نے تسلیم کیا کہ مختلف مکاتبِ فکر اور جائز دینی اختلافات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، تاہم انہیں نفرت، دشمنی یا مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
علماء نے متفقہ طور پر کہا کہ مسجد کا منبر ایک امانت اور مقدس ذمہ داری ہے اور اسے فرقہ واریت، کسی دوسرے مسلک کی تضحیک، نفرت انگیزی یا مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء سے اختلاف کے اسلامی آداب، مکالمے، باہمی احترام اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی اپیل کی گئی۔
کانفرنس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ علماء اور دینی اداروں کا کردار رسمی مذہبی امور تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ انہیں نوجوانوں کی بے چینی، ذہنی دباؤ، خاندانی مسائل اور دیگر سماجی مشکلات سے بھی قریب سے جڑنا ہوگا۔
متحدہ مجلسِ علماء نے کہا کہ کانفرنس کو محض قراردادوں کی منظوری تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان فیصلوں کو اجتماعی جمعہ خطبات، ضلعی سطح کی رابطہ کاری، مشاورت، رہنمائی اور سماجی بیداری کے عملی پروگراموں میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، مفتی اعظم ناصر الاسلام فاروقی، مفتی نذیر احمد قاسمی، مفتی محمد یعقوب بابا مدنی، مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا شوکت حسین کینگ، مفتی عنایت اللہ جموں، شیخ محبوب علی وجدانی کرگل، مفتی عبدالرشید مفتاحی، پیر رحمت اللہ صاحب، مولانا سید طیب، مفتی سید شریف الحق بخاری، مفتی اعجاز الحسن بانڈے، مفتی ضیاء الحق نظمی، مفتی پیرزادہ ریاض احمد، مولانا عدنان ندوی، سِبط محمد شبیر قومی، مولانا غلام رسول نوری، مولانا علی اکبر، مولانا سید شاہ وارث شاہ بخاری، پیر افتخار احمد کاملی، مفتی توفیق عمر ندوی، مولانا شیخ غلام محمد، مولانا محمد تحسین قاسمی، مولانا ریاض احمد قاسمی، مولانا محمد دانش پونچھ، مولانا پیر عبدالحمید قاضی گنڈ، مفتی محمد سلطان قاسمی، حافظ عبدالرحمان اشرفی، ڈاکٹر کمال فاروقی، ڈاکٹر عبدالرحمن وار، ڈاکٹر بشیر احمد ماگرے راجوری، مولانا اخضر حسین، مولانا بشیر احمد عثمانی، حافظ حدیث مفتی شوکت احمد قاسمی، مولانا قاری محمد اسلم رحیمی اور مجلس کے سیکریٹری مولانا ایم ایس رحمن شمس سمیت دیگر علماء و مشائخ نے شرکت کی۔


