جنگ نیوز
سعودی عرب نے منگل کو مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر مختصر مدت کے لئے سکیورٹی الرٹ جاری کیے، تاہم سعودی سول ڈیفنس کے مطابق یہ انتباہات بعد میں واپس لے لئے گئے۔
مکہ مکرمہ میں جاری کیا گیا الرٹ خطے میں موجودہ جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا معلوم انتباہ قرار دیا جارہا ہے، جس نے مقدس شہر کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یہ پیش رفت یمن سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک سلسلے کے ایک روز بعد سامنے آئی، جن میں 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔
سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں، زائرین اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لئے ضروری سکیورٹی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔
مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں جاری کیے گئے مختصر الرٹ بعد ازاں ختم کردیے گئے، تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔
یہ الرٹ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات خلیجی خطے تک پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یمن سے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات کے بعد مملکت نے اہم شہروں، تنصیبات اور سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کردی ہے۔ مکہ مکرمہ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کا مرکز ہے، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے پر سعودی حکام فوری احتیاطی اقدامات کرتے ہیں۔.
سعودی عرب کا اہم اعلان: مدینہ میں یورینیم کا بڑا ذخیرہ دریافت
جنگ نیوز
ریاض/سعودی عرب نے مدینہ منورہ میں یورینیم پر مشتمل تقریباً 11 کروڑ ٹن خام مال دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے مملکت کی معدنی اور توانائی کی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزیرِ توانائی نے ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جبل سید منصوبے میں معدنیاتی اور ارضیاتی تحقیقات کے دوران تقریباً 110 ملین ٹن خام مال کے ذخائر کا اندازہ لگایا گیا ہے۔


