کیا وادی بڑے زلزلے کیلئے تیار ہے؟

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/کشمیر وادی ایک بار پھر زلزلے کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والی دو تحقیقی مطالعات نے خبردار کیا ہے کہ فعال فالٹس، جمع شدہ ٹیکٹونک دباؤ، مائع بننے والی زمین اور کمزور تعمیرات وادی کو بڑے زلزلے کے لئے انتہائی حساس بناتے ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق وادی میں ہمالیائی فرنٹل تھرسٹ، مین باؤنڈری تھرسٹ، مین سینٹرل تھرسٹ، کشتواڑ فالٹ اور بالاپور فالٹ سمیت متعدد فعال فالٹس موجود ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر میں کئی تباہ کن زلزلے آچکے ہیں، جبکہ 2005 کے6.7شدت کے زلزلے نے خطے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وادی کے بعض حصوں میں نرم اور پانی سے سیر شدہ تلچھٹ زلزلے کے دوران زمین کے مائع بننے، بنیادوں کے کمزور ہونے اور عمارتوں کو اضافی نقصان کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ سری نگر، بارہمولہ اور کپواڑہ کے بعض علاقوں میں یہ خطرہ زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
خطرے کی ایک بڑی کڑی خود تعمیرات ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق سری نگر کی تقریباً 98 فیصد عمارتیں ایسی معماری تعمیرات پر مشتمل ہیں جن کی زلزلہ مزاحمت انتہائی کم ہے۔ گنجان آبادی، تنگ سڑکیں اور محدود کھلی جگہیں بالخصوص شہر کے مرکزی علاقوں میں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
ماہرِ ارضیات اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو نے بھی خبردار کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفت سے نمٹنے کی باقاعدہ ثقافت موجود نہیں۔ ان کے مطابق زلزلوں کی پیش گوئی فی الحال ممکن نہیں، اس لئے پیشگی تیاری، عوامی آگاہی، باقاعدہ مشقیں اور زلزلہ مزاحم تعمیرات ہی جانی نقصان کم کرنے کا راستہ ہیں۔
حکومت نے بھی زلزلے کے خطرے کو تسلیم کیا ہے۔ نئے آئی ایس 1893 (حصہ اول): 2025 کے تحت پورے جموں و کشمیر کو زلزلہ خطرے کے بلند ترین زمرے سیسمک زون 6 میں رکھا گیا ہے۔ 11600 سے زیادہ اسکول عمارتوں کے ساختی جائزے بھی کیے جاچکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت صرف خطرے کی نشاندہی کا نہیں بلکہ کمزور عمارتوں کی مضبوطی، تعمیراتی ضوابط کے سخت نفاذ، بہتر خطرہ جاتی نقشہ بندی، ابتدائی انتباہی نظام، عوامی مشقوں اور مساجد و تعلیمی اداروں کے ذریعے آگاہی کا ہے۔
کشمیر کا سوال یہ نہیں کہ زلزلہ آئے گا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ جب آئے گا تو وادی کتنی تیار ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں متعدد مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے سر جوڑے

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/دو سال سے زائد عرصے کے وقفے...

اپنا انمول وقت عوام کی خدمت کیلئے اِستعمال کریں/وزیراعلیٰ کی نوتعینات اَفسران سے اپیل

 جنگ  نیوز سری نگر/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں ایس...

مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں اچانک سکیورٹی الرٹ

  جنگ نیوز سعودی عرب نے منگل کو مکہ مکرمہ، جدہ...

UPI سے رقم بھیجنا بدستور مفت،P2Pلین دین پر کوئی فیس نہیں

جنگ نیوز نئی دہلی/حکومت نے واضح کیا ہے کہ یونیفائیڈ...

ایک صحت، ایک مستقبل: صحت مند کل کیلئے آیوروید

  پرتاپ راؤ جادھو دنیا صحت کے مفہوم پر ازسرنو...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں متعدد مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے سر جوڑے

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/دو سال سے زائد عرصے کے وقفے...

اپنا انمول وقت عوام کی خدمت کیلئے اِستعمال کریں/وزیراعلیٰ کی نوتعینات اَفسران سے اپیل

 جنگ  نیوز سری نگر/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں ایس...

مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں اچانک سکیورٹی الرٹ

  جنگ نیوز سعودی عرب نے منگل کو مکہ مکرمہ، جدہ...

UPI سے رقم بھیجنا بدستور مفت،P2Pلین دین پر کوئی فیس نہیں

جنگ نیوز نئی دہلی/حکومت نے واضح کیا ہے کہ یونیفائیڈ...

ایک صحت، ایک مستقبل: صحت مند کل کیلئے آیوروید

  پرتاپ راؤ جادھو دنیا صحت کے مفہوم پر ازسرنو...

کیا وادی بڑے زلزلے کیلئے تیار ہے؟

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/کشمیر وادی ایک بار پھر زلزلے کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والی دو تحقیقی مطالعات نے خبردار کیا ہے کہ فعال فالٹس، جمع شدہ ٹیکٹونک دباؤ، مائع بننے والی زمین اور کمزور تعمیرات وادی کو بڑے زلزلے کے لئے انتہائی حساس بناتے ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق وادی میں ہمالیائی فرنٹل تھرسٹ، مین باؤنڈری تھرسٹ، مین سینٹرل تھرسٹ، کشتواڑ فالٹ اور بالاپور فالٹ سمیت متعدد فعال فالٹس موجود ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر میں کئی تباہ کن زلزلے آچکے ہیں، جبکہ 2005 کے6.7شدت کے زلزلے نے خطے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وادی کے بعض حصوں میں نرم اور پانی سے سیر شدہ تلچھٹ زلزلے کے دوران زمین کے مائع بننے، بنیادوں کے کمزور ہونے اور عمارتوں کو اضافی نقصان کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ سری نگر، بارہمولہ اور کپواڑہ کے بعض علاقوں میں یہ خطرہ زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
خطرے کی ایک بڑی کڑی خود تعمیرات ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق سری نگر کی تقریباً 98 فیصد عمارتیں ایسی معماری تعمیرات پر مشتمل ہیں جن کی زلزلہ مزاحمت انتہائی کم ہے۔ گنجان آبادی، تنگ سڑکیں اور محدود کھلی جگہیں بالخصوص شہر کے مرکزی علاقوں میں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
ماہرِ ارضیات اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو نے بھی خبردار کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفت سے نمٹنے کی باقاعدہ ثقافت موجود نہیں۔ ان کے مطابق زلزلوں کی پیش گوئی فی الحال ممکن نہیں، اس لئے پیشگی تیاری، عوامی آگاہی، باقاعدہ مشقیں اور زلزلہ مزاحم تعمیرات ہی جانی نقصان کم کرنے کا راستہ ہیں۔
حکومت نے بھی زلزلے کے خطرے کو تسلیم کیا ہے۔ نئے آئی ایس 1893 (حصہ اول): 2025 کے تحت پورے جموں و کشمیر کو زلزلہ خطرے کے بلند ترین زمرے سیسمک زون 6 میں رکھا گیا ہے۔ 11600 سے زیادہ اسکول عمارتوں کے ساختی جائزے بھی کیے جاچکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت صرف خطرے کی نشاندہی کا نہیں بلکہ کمزور عمارتوں کی مضبوطی، تعمیراتی ضوابط کے سخت نفاذ، بہتر خطرہ جاتی نقشہ بندی، ابتدائی انتباہی نظام، عوامی مشقوں اور مساجد و تعلیمی اداروں کے ذریعے آگاہی کا ہے۔
کشمیر کا سوال یہ نہیں کہ زلزلہ آئے گا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ جب آئے گا تو وادی کتنی تیار ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں