
پرتاپ راؤ جادھو
دنیا صحت کے مفہوم پر ازسرنو غور کر رہی ہے۔آج صحت کا شعبہ صرف بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں ہے، بلکہ بیماریوں سے بچاؤ، صحت مند زندگی کو فروغ دینے اور ایسے صحت کے نظام کی تشکیل پر بھی تیزی سے توجہ مذکور کی جا رہی ہے جو بدلتے ہوئے طرز زندگی، ماحولیاتی دباؤ اور صحت سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل ہوں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں آیوروید مستقبل کے لئے ایک اہم نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔
گیارہویں آیورویدکے دن کا موضوع‘‘صحت مند کل کے لئے آیوروید’’ اور ‘‘ایک صحت، ایک مستقبل’’ کا وژن اس تصور کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ یہ ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ انسانی صحت جداگانہ نہیں ہے۔ افراد، معاشروں، جانوروں اور ماحول کی صحت ایک دوسرے سے گہر ائی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
آیوروید نے ہمیشہ بیماریوں سے بچاؤ، متوازن طرز زندگی، مناسب غذا، روزمرہ معمولات اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پر خاص زور دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب طرز زندگی سے متعلق بیماریاں، میٹابولک ڈس آرڈرس ، ذہنی دباؤ اور دیگر غیر متعدی امراض معاشروں پر بڑھتا ہوا بوجھ ڈال رہے ہیں، لہذا یہ اصول ایک بار پھر خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
لیکن آیوروید کو آگے بڑھانے کا مطلب صرف ماضی کی طرف دیکھنا نہیں ہوسکتا۔ اس کا مستقبل تحقیق، سائنسی شواہد، جدت اور معیار کی بنیاد پر تشکیل پانا چاہیے۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آیوروید سے وابستہ علم کا جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے مطالعہ کیا جائے اور اسے ایسے حل میں تبدیل کیا جائے جو آج کی صحت سے متعلق ضروریات کو پورا کرسکیں۔
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے اس سفر کو مضبوط بنانے کے لئے اہم اقدامات کیے ہیں۔ 2014 میں آیوش کی وزارت کا قیام ؛آیوروید اور آیوش کے دیگر نظاموں کو مضبوط ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کے بعد سے توجہ صرف تحفظ اور فروغ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ تحقیق، تعلیم، صحت کی خدمات کی فراہمی، معیار کو یقینی بنانے، جدت طرازی اور عالمی تعاون تک وسیع ہوگئی ہے۔
صحت کی دیکھ بھال کا مرکز آخرکار مریض کی ضروریات ہونی چاہئیں۔ جہاں مناسب ہو، اور سائنسی شواہد بھی اس کی تائید کرتے ہوں، وہاں مختلف نظام ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے صحت کے لئے زیادہ جامع طریقہ کار اختیار کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ سرکاری صحت کے نظام میں آیوش کی خدمات کو شامل کرنا اور آیوشمان آروگیہ مندروں کے دائرہ کار کو وسعت دینا، اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ احتیاطی اور جامع صحت کی سہولیات کو زیادہ قابل رسائی بنایا گیا ہے۔
ہندوستان آیوروید کو دنیا تک پہنچا بھی رہا ہے۔ آیوروید کے دن کی گزشتہ تقریبات نے یہ ثابت کیا ہے کہ صحت اور تندرستی کے لئے ہندوستان کے طریقہ کار عالمی سطح پر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ آیوروید کےدن نے دنیا کے سامنے ہندوستان کی صحت سے متعلق روایات کے لئے ایک نیا باب کھولا ہے اور آیوروید صحت و تندرستی، بیماریوں سے بچاؤ اور پائیدار صحت کی خدمات سے متعلق عالمی گفتگو کا بتدریج حصہ بنتا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اس دلچسپی کے ساتھ ایک اہم ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ آیوروید کو معتبر تحقیق، طبی شواہد، مضبوط معیاری ضوابط اور ذمہ دارانہ انداز میں معلومات کی فراہمی کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی تعاون، آیوش اکیڈمک چیئرز، طبی تحقیق اور ضابطہ کار ہم آہنگی کی کوششیں ہندوستان سے باہر آیوروید کے لئے ایک مضبوط نظام تشکیل دینے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ ہمارا مقصد صرف اس کی عالمی رسائی میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ اس ترقی کے ساتھ، عوام کا اعتماد اور سائنسی اعتبار بھی برقرار رہے۔
’’ایک صحت، ایک مستقبل’’ کا وژن ہمیں اسپتالوں اور ادویات سے آگے بھی دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ صحت مند مستقبل کا انحصار ہمارے ماحول، ہماری خوراک اور ان قدرتی وسائل کی صحت پر بھی ہے جن پر صحت کے نظام منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر طبی پودے صحت کو زراعت، روزگار اور حیاتیاتی تنوع سے جوڑتے ہیں۔ ان کی پائیدار کاشت کسانوں کے لئے معاشی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی قدرتی وسائل کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
ٹیکنالوجی بھی اس شعبے میں تبدیلی لانے میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ آج ہندوستان کے پاس آیوروید کے وسیع علمی ذخیرے کو جدید تحقیقی صلاحیتوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط کرنے کا موقع ہے۔ یہ امتزاج محققین کو روایتی طریقہ ہائے علاج کا زیادہ درستگی کے ساتھ مطالعہ کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے اور جدت طرازی کے لئے نئے باب کھول سکتا ہے۔
اس کے باوجود، سب سے اہم تبدیلی لوگوں کی زندگیوں میں آنی چاہیے۔
آیوروید کا دن صرف ایک سالانہ تقریب تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے ایسے صحت مند طرز زندگی کی جانب ایک وسیع تر تحریک کو فروغ دینا چاہیے، جو ہمارے گھروں، اسکولوں، کام کی جگہوں اور معاشروں تک پھیلے۔ ہم کیا کھاتے ہیں، کتنا متحرک رہتے ہیں، ذہنی دباؤ کو کس طرح قابو میں رکھتے ہیں اور اپنے ماحول کے تئیں کتنی ذمہ داری سے پیش آتے ہیں، یہ سب عناصر ہماری مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
نوجوان نسل کا اس سفر میں خاص طور پر اہم رول ہے۔ آیوروید کو محض ہندوستان کے ورثے کے ایک حصے کے طور پر نہیں بلکہ تحقیق، جدت طرازی، کاروباری مواقع اور صحت کی خدمات کے ایک ایسے شعبے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے جو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے میں اپنا رول ادا کرسکتا ہے۔
ہندوستان آج علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ایک منفرد مقام پر کھڑا ہے۔ ہمارے سامنے یہ موقع ہے کہ ان تمام صلاحیتوں کو یکجا کرکے صحت کا ایسا طریقہ کار تشکیل دیا جائے جس میں علاج کے ساتھ بیماریوں سے بچاؤ، بیماریوں کے انتظام کے ساتھ صحت و تندرستی اور ترقی کے ساتھ پائیداری کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہو۔
آیوروید کے مستقبل کا حتمی اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ ہم اس کے شعبے میں کتنی مؤثر تحقیق کرتے ہیں، اس کے سائنسی شواہد کو کتنا مضبوط بناتے ہیں، معیار کو کس حد تک یقینی بناتے ہیں اور اس کے فوائد لوگوں تک کتنی آسانی سے پہنچاتے ہیں۔
’’صحت مند کل کے لئے آیوروید’’ محض ایک موضوع نہیں ہے۔ یہ صحت کا ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی دعوت ہے جو افراد کو بااختیار بنائے، معاشروں کو مضبوط کرے اور اس ماحول کا احترام کرے جو ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔
گیارہویں آیوروید کے دن کے موقع پر آئیے ‘‘ایک صحت، ایک مستقبل’’ کے وژن کو آگے بڑھائیں اور ایک صحت مند ہندوستان اور ایک صحت مند دنیا کی تعمیر کے لئے مل کر کام کریں۔
ایک صحت۔ ایک مستقبل۔ سب کے لئے صحت مند کل۔
(قلمکار آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت ہیں)


