
خالد سیف اللہ موتیہاری
اردو کے زوال پر ہماری پیشانیاں شکن آلود ہیں۔ اردو کے مستقبل پر گفتگو ہو تو ہماری آواز میں فکر بھی آجاتی ہے اور درد بھی۔ کسی مجلس میں اردو کا ذکر چھڑ جائے تو ہم فوراً بتانے لگتے ہیں کہ نئی نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے، اردو کے ادارے کمزور ہورہے ہیں، اردو صحافت مشکل دور سے گزر رہی ہے اور اگر ابھی کچھ نہ کیا گیا تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ بات سننے میں ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کو یقین ہوجائے کہ اردو کی فکر کرنے والے لوگ ابھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پھر ذرا گھر کا دروازہ دیکھیے۔ وہاں صبح اخبار تو آتا ہے، مگر اردو کا نہیں۔
یہ منظر شاید ہمارے معاشرے کا سب سے دلچسپ منظر ہے۔ گھر میں اخبار آتا ہے، چائے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، شہر کی خبریں دیکھی جاتی ہیں، سیاست پر بحث ہوتی ہے، کھیل کے صفحات پر نظر پڑتی ہے اور کبھی کسی خبر پر گھر کے دو افراد کے درمیان باقاعدہ گفتگو بھی ہوجاتی ہے۔ مگر اردو اخبار کی بات کیجیے تو جواب ملتا ہے، "اب اخبار کون پڑھتا ہے؟ ساری خبریں تو موبائل پر آجاتی ہیں۔” میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ موبائل کی یہ سہولت صرف اردو اخبار کے معاملے میں ہی اتنی یاد کیوں آتی ہے؟ دوسری زبانوں کا اخبار ہو تو اسے خریدنے کی عادت برقرار رہتی ہے، اردو کا نام آئے تو اچانک ڈیجیٹل دور یاد آجاتا ہے۔
اردو سے ہماری محبت بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ اردو کے نام پر مشاعرہ ہو تو سامعین موجود، سیمینار ہو تو کرسیاں بھرنے کی فکر، تقریر ہو تو مقرر تیار، قرارداد ہو تو دستخط کرنے والے بھی مل جائیں گے۔ اردو کے حقوق کی بات ہو تو ہم حکومت سے لے کر اداروں تک سب کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلادیں گے۔ لیکن اردو کا اخبار گھر میں لگانے کی بات آئے تو جیب، وقت، موبائل اور مصروفیات سب ایک ساتھ سامنے آجاتی ہیں۔
اردو کی خدمت کے معاملے میں ہم شاید ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جہاں زبان کو ہر چیز ملے، سوائے ہمارے پیسوں اور وقت کے۔
یہ بات ذرا سخت ہے، مگر اسے کہے بغیر بات پوری نہیں ہوگی۔ اخبار کوئی ایسا پرچہ نہیں جو صرف اس لئے چھپتا رہے کہ ہمیں اردو سے محبت ہے۔ اس کے پیچھے کاغذ خریدنے والا آدمی ہے، پریس میں کام کرنے والا مزدور ہے، خبر کے لئے شہر میں گھومنے والا رپورٹر ہے، دفتر میں بیٹھ کر صفحات ترتیب دینے والا عملہ ہے، خبر کو جانچنے اور زبان سنوارنے والا مدیر ہے اور آخر میں وہ قاری ہے جو اپنی جیب سے اخبار خریدتا ہے۔ اس پورے نظام میں سب سے اہم شخص وہی ہے جس کے گھر اخبار پہنچتا ہے۔ وہ اخبار خریدتا ہے تو ایک چھوٹا سا صحافتی ادارہ سانس لیتا ہے، وہ خریدنا چھوڑ دیتا ہے تو ادارے کے لئے مشکل بڑھتی جاتی ہے۔
ہم اکثر اردو صحافت کے ماضی کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا "الہلال” یاد آتا ہے، مولانا ظفر علی خاں کا "زمیندار” یاد آتا ہے، "ہمدرد” اور دوسرے تاریخی اخبارات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ اردو صحافت نے اپنے زمانے کے ذہن کو کس طرح متاثر کیا، سیاسی شعور پیدا کیا اور لوگوں تک وہ بات پہنچائی جو شاید کسی اور ذریعہ سے نہ پہنچ پاتی۔ ہمیں اس تاریخ پر فخر بھی ہونا چاہیے۔ مگر تاریخ کا فخر آج کے اخبار کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔ اگر ہم اپنے زمانے کے اردو اخبار کو نہیں پڑھیں گے تو آنے والی نسل ہمارے زمانے کی اردو صحافت کا ذکر کس حوالے سے کرے گی؟
بات دراصل یہی ہے کہ ہم اردو کو ماضی میں بہت اچھی طرح دیکھتے ہیں اور حال میں کچھ کم۔
ہمیں "الہلال” معلوم ہے، "زمیندار” معلوم ہے، بڑے بڑے صحافیوں کے نام معلوم ہیں، لیکن اپنے شہر میں آج کون سا اردو اخبار نکل رہا ہے، اسے کتنے لوگ پڑھتے ہیں، اس کے دفتر میں کتنے لوگ کام کرتے ہیں اور اس کے رپورٹر کن حالات میں خبریں جمع کرتے ہیں، اس کی خبر شاید بہت کم لوگوں کو ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اردو صحافت زندہ رہے، مگر اس کے زندہ رہنے کی سب سے بنیادی شرط، یعنی قاری، ہماری گفتگو میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
اس معاملے میں ہماری عادت خاصی دلچسپ ہے۔ اردو کے کمزور ہونے کی وجہ پوچھیں تو فوراً کئی ذمہ دار سامنے آجاتے ہیں۔ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے، تعلیمی نظام کو مورد الزام بنایا جاسکتا ہے، اردو کے اداروں پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے، نئی نسل کی شکایت کی جاسکتی ہے، موبائل فون کو برا کہا جاسکتا ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ زیر بحث آسکتی ہیں، مگر ایک سوال پھر بھی ہمارے سامنے کھڑا رہتا ہے: ہم خود اردو کے لئے کیا خریدتے ہیں؟
یہ سوال کسی حکومت سے نہیں، اپنے گھر سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہمارے گھر میں اردو کا کوئی اخبار باقاعدگی سے آتا ہے؟ کیا بچوں کو اردو کا رسالہ پڑھنے کو ملتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی اردو اخبار کی رکنیت لینے کے بارے میں سوچا؟ کیا ہمارے دفتر، مدرسے یا اسکول میں اردو اخبار آتا ہے؟ اگر جواب "نہیں” ہے تو اردو صحافت کی کمزوری پر ہماری شکایت میں تھوڑا سا حصہ ہماری اپنی عادت کا بھی ہے۔
یہاں ایک اور دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے۔ بعض لوگ اردو کے نام پر اتنے سرگرم دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے بغیر اردو کی کوئی مجلس مکمل نہیں ہوتی۔ اردو کے لئے آواز اٹھانا ضروری ہے، عہدہ بھی چاہیے، نمائندگی بھی چاہیے، اجلاس بھی چاہیے اور تصویر بھی چاہیے۔ مگر جب اردو کی کتاب خریدنے یا اخبار لگوانے کا موقع آتا ہے تو معاملہ ذرا بدل جاتا ہے۔ زبان ہماری شناخت کا حصہ رہتی ہے، مگر ہماری روزمرہ زندگی کی عادت نہیں بن پاتی۔
ہم اردو کو بولتے ہیں، اردو پر بات کرتے ہیں، اردو کے لئے فکرمند ہوتے ہیں، لیکن اردو پڑھنے کے لئے وقت کم نکالتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت کے مسئلے کو صرف صحافی کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ صحافی اپنا کام کرتا ہے، مگر اخبار کی زندگی قاری سے جڑی ہوتی ہے۔ ایک اچھا اخبار بھی اسی وقت اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے جب اسے پڑھنے والے لوگ موجود ہوں۔ اگر قاری اخبار خریدنا چھوڑ دے تو دفتر میں بیٹھا مدیر کتنی ہی محنت کرلے، پریس میں کتنی ہی اچھی مشین کیوں نہ ہو، صفحات کتنے ہی خوب صورت کیوں نہ بنائے جائیں، آخر میں حساب کتاب تو کرنا ہی پڑے گا۔
یقیناً اردو اخبارات کو بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ صحافت کا معیار بہتر ہونا چاہیے، خبر میں تحقیق ہونی چاہیے، زبان صاف ہونی چاہیے، مقامی مسائل کو جگہ ملنی چاہیے اور بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ اخبار کو اپنے انداز بھی بدلنے چاہئیں۔ آج کا قاری پہلے سے مختلف ہے۔ وہ خبر صرف اگلی صبح نہیں چاہتا، وہ اسے فوراً اپنے موبائل پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اردو صحافت کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ مگر قاری کی ذمہ داری بھی ختم نہیں ہوجاتی۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اردو ہمارے لئے صرف ایک جذباتی مسئلہ ہے یا روزمرہ استعمال کی زبان بھی۔
اگر واقعی فکر ہے تو کام بہت بڑا نہیں۔ کسی کو تحریک چلانے کی ضرورت نہیں، کسی بڑے عہدے کی ضرورت نہیں، کسی لمبی تقریر کی ضرورت نہیں۔ اپنے گھر میں اردو کا ایک اخبار لگوائیے۔ اسے پڑھیے۔ بچوں کو دیجیے۔ کسی خبر پر گفتگو کیجیے۔ کسی غلطی پر تنقید کیجیے اور کسی اچھی تحریر کی تعریف کیجیے۔ ایک قاری کا یہ معمول بظاہر بہت چھوٹا ہے، مگر اخبار کے لئے یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں بڑا سہارا بنتی ہیں۔
اور اگر آپ اردو کے اخبار سے مطمئن نہیں ہیں تو اس کی شکایت ضرور کیجیے۔ اخبار سے بہتر ہونے کا مطالبہ بھی کیجیے۔ لیکن اخبار خریدے بغیر اس سے بہتر صحافت کا مطالبہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے دکاندار سے کہا جائے کہ اپنی دکان خوب سجاؤ، گاہک ہم پھر سوچیں گے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اردو کے زوال پر سب سے زیادہ شور کرنے والے لوگ ہمیشہ اردو کے سب سے بڑے خریدار نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی خاموش رہنے والا وہ شخص زیادہ کام کررہا ہوتا ہے جو ہر صبح اردو اخبار خریدتا ہے، اسے پڑھتا ہے اور مہینے کے آخر میں اس کی رقم ادا کرتا ہے۔ اس نے کوئی تقریر نہیں کی، کسی جلسے میں قرارداد پیش نہیں کی، کسی پوسٹر پر اپنا نام نہیں لکھوایا؛ اس نے بس اردو کا اخبار خریدا۔ مگر شاید زبان کی زندگی میں یہی چھوٹا سا عمل کسی لمبی تقریر سے زیادہ کام کا ہے۔
اس لئے اگلی بار جب کسی محفل میں اردو کے مستقبل پر فکر کی جائے تو ایک لمحے کے لئے اپنے گھر کا منظر بھی یاد کرلیجیے۔ وہاں دوسری زبان کا اخبار آتا ہے تو اس کے ساتھ اردو کا اخبار کیوں نہیں آتا؟ اگر جواب یہ ہے کہ "وقت نہیں ملتا”، تو دوسری زبان کا اخبار کون پڑھ رہا ہے؟ اگر جواب یہ ہے کہ "خبر تو موبائل پر مل جاتی ہے”، تو پھر دوسرے اخبار کی ضرورت کیوں باقی ہے؟ اور اگر جواب یہ ہے کہ "اردو اخبار میں کیا رکھا ہے”، تو پھر اردو صحافت کے کمزور ہونے کا دکھ کس بات کا ہے؟
بات شاید اتنی سی ہے کہ ہم اردو کے نگہبان بننے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں، قاری بننے میں کچھ کم۔
ہم اردو کے ماضی پر فخر کرتے ہیں، مستقبل کے لئے فکرمند رہتے ہیں اور حال کو پڑھنے کے لئے وقت نہیں نکالتے۔
اس لئے اردو کے زوال پر اگلی مجلس میں جانے سے پہلے ایک چھوٹا سا کام کیجیے۔ صبح اخبار والا آئے تو اس سے اردو کا اخبار مانگیے۔ پہلے پڑھ کر دیکھیے، پھر اس پر رائے دیجیے۔
آخر زبان کی زندگی کا فیصلہ صرف اسٹیج پر نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی فیصلہ صبح کے وقت دروازے پر کھڑے اخبار والے کے سامنے بھی ہوجاتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے: "اخبار چاہیے؟”
اور ہم کہتے ہیں: "نہیں، آج نہیں۔”
اردو کے رکھوالے صاحب، ذرا غور کیجیے؛ شاید اردو کو سب سے پہلے اسی "آج نہیں” سے نجات کی ضرورت ہے۔


