پیکر علم و اخلاق مولانا سید محمد سیادت فہمی امروہویؔ رخصت

 

سراج نقوی

’نہج البلاغہ‘کے کلمات قصار میں مولائے کائنات علی ؑ ابن ابی طالب کا حکمت و دانش سے بھرپور یہ قول بھی شامل ہے کہ ،’’علم سب سے برتر خاندانی شرافت ہے اور اخلاق سب سے بہتر قرابت ہے۔‘‘
آپ کا یہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں علم اور اخلاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ظاہر ہے اگر قرآن کریم کی پہلی وحی میں ہی ’’اقراٗ‘‘ کہہ کر علم کی اہمیت بتائی گئی ہو اور جس دین کے پیغمبر محمد مصطفیﷺ کو’’صاحبِ خلقِ عظیم‘‘ کہا گیا ہو اس دین کو اور اس کے علماء کو ان دو صفات یعنی علم اور اخلاق سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ علم کی اصل کیا ہے اور اخلاق کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔علم کی تعریف میں شیخ سعدی شیرازی ’گلستان ‘ میں فرماتے ہیں’’علم از بہر دین پروردن است‘‘ یعنی علم دین کی پرورش اور خدمت کے لئے ہے۔ ‘‘یعنی ایک عالم خصوصاً عالم دین پر واجب ہے کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں اور کاوشوںکا محور و مقصد خدمت دین کو بنائے کہ یہی خوشنودی خدا کے حصول کا بہترین راستہ ہے۔یہی سوال کہ جو علم کے تعلق سے اٹھایا گیا دین کے تعلق سے بھی دعوت فکر دیتا ہے کہ دین کی اصل کیا ہے۔رسول اسلامؐ نے فرمایا کہ ’’دین خیر خواہی کرنے کا نام ہے۔‘‘اس تعلق سے مولائے کائنات علی ابن ابی طالب فرماتے ہیںکہ، ’’دین کا حاصل مروت اور اخلاق ہے۔‘‘امام جعفر صادق نے بھی دین کے تعلق سے اسی طرح کا نظریہ پیش کیا ہے۔آپؑ استفہامیہ لہجے میں فرماتے ہیں کہ،’’کیا دین محبت کے سوا اور کچھ ہے؟‘‘ علم اور دین سے متعلق مذکورہ آراء کی روشنی میں ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک عالمِ دین کو دین کی ترویج اور تبلیغ کے لئے اسی طرح کے علم ، اخلاق و محبت کا حامل ہونا چاہیے کہ جس کی مختصر وضاحت مذکورہ بالا سطور میں کی گئی ہے۔
مولانا ڈاکٹر سیدمحمد سیادت فہمی ؔامروہوی (جن کا گزشتہ 31اگست کو مختصر علالت کے بعد84سال کی عمر میں انتقال ہو گیا) ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے کہ جنھوں نے اخلاق و محبت کی پاسداری کے ساتھ اپنے علم و عمل سے نہ صرف شہر امروہہ کے عوام بلکہ برصغیر کے بھی مختلف علمی،دینی اور مذہبی حلقوں میںا پنی الگ شناخت قائم کی،اور علم کے وہ چراغ روشن کیے جو صاحبانِ دانش کے اذہان کو تا دیر منور کرتے رہینگے۔ اس علم ا ور اخلاق و اخلاص نے ہی ان کی شخصیت کو اس خاندانی شرافت کا بھی حقیقی وارث بنایا کہ جس کے سبب ان کے خانوادے کو کئی نسلوں سے دین اور علم کی خدمت کے حوالے سے نہایت عزت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔اس خانوادے کوامروہہ جیسی علم و ادب کی بستی میں وسعت علم،حسنِ اخلاق اور عملِ صالح کے سبب جو بلند مقام حاصل ہے اس کی کوئی دوسری نظیر ملنا دشوار ہے۔اسے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اس میں ایسے علماء پیدا ہوئے کہ جو صاحب طرز ادیب اور بلند پایہ شاعر بھی ہوئے ۔مولانا موصوف کے قلم نے بھی دونوں ہی میدانوں میں اپنی اس افتادِ طبع کے جوہر دکھائے ۔میر انیس ؔکو اس پر ناز تھا کہ ’’پانچویںپشت ہے شبیر کی مدّاحی میں‘‘لیکن مولانا ڈاکٹر محمد سیادت نقوی کی سات نسلوں کو یہ فخر حاصل ہے کہ انھوں نے امروہہ جیسی علماء کی بستی میں نہ صرف امام جمعہ و جماعت کے فرائض انجام دیے اور اب بھی دے رہی ہیں، بلکہ علم و ادب کے میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں اور ان کی قلمی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔
ڈاکٹر سید محمد سیادت فہمی ؔنے اپنے خانوادے میں نسل در نسل جاری خدمت دین و ادب کی اس روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اپنے قلمی جہاد سے اسے آگے بڑھاتے ہوئے اس میں ایک نئے باب کا اضافہ بھی کیا۔’مولانا محمد عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی‘ اور ’سلونی ایجوکیشنل سنٹر کا قیام اس کا ثبوت ہے۔
آپ کے والدِ گرامی مولانا محمد عبادت (سابق امام جمعہ وجماعت)کا انتقال1989میںہوا۔اپنے والد گرامی کے انتقال کے بعد یہ گراں قدر ذمہ داری آپ نے سنبھالی،لیکن آپ کی فعال طبیعت اور ترویج علم کے تئیں رغبت نے آپ کو میدان عمل میں مزید پیش رفت کے لئے آمادہ کیا۔اسی کے تحت 1995میں’مولانا محمد عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی‘کا قیام عمل میں آیا۔سوسائٹی نے خواتین اور اطفال میں تعلیم و تربیت کے فروغ کو اپنا مقصد قرار دیتے ہوئے جو تعمیری کام انجام دیے اس کا اعتراف امروہہ اور اس سے باہر بھی مختلف علمی حلقوں کی طرف سے کیا گیا۔سن 2009میں حکومت ایران کی طرف سے دیا جانے والا’’ بین الاقوامی شہید مطہری ایوارڈ‘‘اس کا بڑا ثبوت ہے۔یہ ایوارڈ تدریسی عمل کو بہتر بنانے ،نئے تعلیمی طریقے متعارف کرانے اور تعلیم کے شعبے میں تحقیق و قابلِ ذکر خدمات کے لئے دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اسلامی ادب کے تراجم اور افکار کو فروغ دینے کے لئے بھی یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔مولانا موصوف کو اس ایوارڈ سے نوازا جانا علم کے شعبے میں آپ کی اہم خدمات کا اعتراف ہی ہے۔
مولانا محمد عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی کے تعلق سے ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سوسائٹی کی طرف سے قوم کی لڑکیوں کے لئے مفت کوچنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔اس کے تحت عصری مضامین کی کوچنگ کا بھی اہتمام ہے۔سوسائٹی کی علمی خدمات میں خواتین کی تعلیم کو ترجیحی بنیاد پر شامل کرنا درحقیقت اللہ،رسولؐاور ائمہ اطہار کی مرضی اور فکر کے عین مطابق ہے۔پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا کہ،’’جس شخص کی کوئی بیٹی ہو ،وہ اسے بہترین ادب سکھائے،اور اسے اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرے ۔۔۔۔تو وہ بیٹی اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ(یعنی نجات)کا ذریعہ بن جائے گی۔‘‘مولائے کائنات نے ایک جگہ فرمایا کہ عورت معاشرے کی اخلاقی اور فکری محافظ ہے۔‘‘ ظاہرہے جسے معاشرے کی فکری اور اخلاقی محافظ قرار دیا گیا ہو اس کی تعلیم میںتاہی کو اسلام کیسے پسند کر سکتا ہے۔ ا مامِ جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ’’زیاد ہ تر خیر اور اور بھلائی عورتوں میں رکھی گئی ہے۔‘‘یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ روایات میں امام کے تعلق سے آیا ہے کہ آپ کے درس میں خواتین بھی پردے میں رہ کر شامل ہوتی تھیںاور علم حدیث و فقہ حاصل کرتی تھیں۔ جناب فاطمہ زہرہؐ نے مدینے کی خواتین کی تعلیم میں ایک بڑا رول ادا کیاجو اسلام میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت کا بڑا ثبوت ہے۔آپ کی بیٹی جناب زہینب نے جب مولائے کائنات علی ابن ابی طالب خلیفہ تھے اور کوفہ آپکی راجدھانی تھا تو کوفے کی خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے میں اتنا اہم رول ادا کیا کہ آپ کو’’عقیلہ قریش‘‘ اور ’’عالمہ غیر معلمہ‘‘ کہا جانے لگا۔
اسلام میں خواتین کی تعلیم کے تعلق سے مذکورہ بالا حقائق کو دیکھتے ہوئے اسلامی اقدار کے تحت قائم کیے گئے کسی بھی علمی ادارے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم پر خصوصی اور ترجیحی بنیاد پر منصوبہ بندی کرے۔اس اعتبار سے مولانا ڈاکٹر محمد سیادت کے ذریعے ’’مولانا عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی ‘کا قیام اور اس میں خواتین کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے لئے مفت کوچنگ کا اہتمام تعلیم کے تعلق سے موصوف کی مثبت اور اسلامی فکر کا ثبوت ہے۔سوسائٹی مختلف مواقع پر سیمنار وسمپوزیم کے انعقاد کے ساتھ کتابوں کی اشاعت میں بھی فعال رہی ہے۔ تعلیم کے تعلق سے مولانا موصوف کی دوسری قابلِ ذکر کوشش ’’سلونی ایجوکیشنل سنٹر‘‘ کا قیام ہے۔ریاستی حکومت کی طرف سے منظور شدہ اس سنٹر میں درجہ پانچ تک کے طلباء کے لئے مفت تعلیم کا انتظام ہے۔مولانا موصوف کی علمی خدمات کا یہ وہ پہلو ہے جو آپ کی اس تعلق سے پیش قدمی کا ثبوت ہے،لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ کہ آپ نے فروغٖ علم کے بنیادی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہی خود کو درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ کیا۔امروہہ کے جے ایس ہندو ڈگری کالج میں صدر شعبہ اردو تک پہنچنے کا آپ کا سفر تعلیمی میدا ن میں آپ کی سرگرمی کا اہم پہلو ہے۔آپ نے ابتدائی تعلیم سید المدارس ،امروہہ میں حاصل کرنے اور عربی میں فاضلِ ادب و فارسی میں فاضل کی اسناد حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور روہیلکھنڈ یونیورسٹی سے ’’علی نظر حیات اور شاعری‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور امروہہ کے ’ہندو ڈگری کالج‘کے شعبہ اردو سے وابستہ ہو گئے۔اس ادارے سے وابستگی کے دوران ہی آپ کی نگرانی میں کئی نامور ادیب و شعر اء نے مختلف موضوعات پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ان میں مشہور و معروف مرثیہ نگار و رثائی ادب کے محقق ڈاکٹر عظیم امروہوی کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے ۔آپ کے شاگردوں میں دیگر کئی اہم نام شامل ہیں۔جبکہ خود مولانا موصوف نے جن شخصیات کے سامنے بطور شاعرزانوئے ادب تہہ کیا ان میں بھی دو اہم اور قابلِ ذکر نام شامل ہیں۔ اس میدان میں انھیں شروع میںعالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب جون ایلیا سے شرف تلمذ حاصل رہا، لیکن جب جون ایلیا پاکستان ہجرت کر گئے تو آپ نے اپنے والد گرامی قدر مولانا محمد عبادت سے اصلاح لینی شروع کی جو خود اعلیٰ پائے کے ادیب و شاعر بھی تھے اور جن کا مجموعہ کلا م ان کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے۔ مولانا سید محمد عبادت صاحب کے والد یعنی مولانا سیادت صاحب کے دادا مولانا اولاد حسن سلیم ؔ بھی اپنے دور کے بڑے عالم دین تھے اور قادرالکلام شعراء میں شمار ہوتے تھے۔بہرحال مولانا سید محمد سیادت شاعری میں فہمی ؔ امروہوی تخلص فرماتے تھے۔ان کے کلام سے ان کی فکر کی بالیدگی اور موضوعات پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس میدان میں بھی ان کی فکر میں شامل اخلاقیات کے پہلو کو ہی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ مولانا موصوف کی نثری کاوشوں کی فہرست حالانکہ بہت طویل نہیں ہے،لیکن انھوں نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس کا حق ادا کردیا۔ ان موضوعات کے انتخابات سے آپ کی فکری ترجیحات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔’نسیم ؔامروہوی ،ایک تعارف ‘پر انھیں اتر پردیش اردو اکادمی کا ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔واضح رہے کہ نسیم امروہوی کو جدید اردو مرثیے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔آپ نہ صرف اعلیٰ پائے کے مرثیہ نگار تھے بلکہ ادب کی دیگر اصناف میں بھی آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔آپ نے نصابی کتابوں کے سلسلے میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔کسی ایسی ہمہ جہت شخصیت پر قلم اٹھانا مولانا سید محمد سیادت کے قلم کی ترجیحات کا ثبوت ہے۔اس کے علاوہ آپ نے غالبؔکی شاعری پر ایک اہم تنقیدی و تحقیقی کتاب ’’گفتہء غالبؔ‘‘ بھی تحریر فرمائی۔باقی دو کتابیں آپ کی فکر کے خمیر میںموجود اسلامی اقدار کے تئیں آپ کی گہری دلچسپی وپختگی کا ثبوت ہیں۔اس لئے کہ ان موضوعات کو اسلامی معاشرے کی فکری و نظریاتی بنیاد کہا جا سکتا ہے ۔ان دو تصانیف میں ایک ’’اسلام ،اشتراکیت اور سرمایہ داری‘‘جیسے اہم موضوع پر ہے،اور دوسری ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ کے موضوع پر ہے۔ جہاں تک اوّلذکر تصنیف ’’اسلام ،اشتراکیت اور سرمایہ داری‘‘کا تعلق ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کے تمام شعبوں میں موجود فکری توازن اور اعتدال کے سب سے اہم پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔یہ واضح ہے کہ اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں اس حد تک عدم توازن کا شکار ہو گئی کہ ذاتی ملکیت کو قبول نہیں کرتی۔یعنی یہ فرد کو اس بات کی آزادی بھی نہیں دیتی کہ وہ اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر دولت کما ئے۔اشتراکی نظام دولت کی منصفانہ تقسیم کے تعلق سے ایک غیر حقیقی اور عملی اعتبار سے ناممکن نظریے کی حامی ہے۔ حالانکہ یہ مزدور کے حقوق کی حامی ہے ،لیکن ذاتی محنت سے کمائی گئی دولت کے اصول کی نفی کرتی ہے۔جبکہ سرمایہ دارانہ نظام دولت کو چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں محدود کرکے مزدوروں کے حصولِ دولت کے حق پر قدغن لگاتا ہے۔ظاہر ہے یہ دونوں ہی نظام اسلام کے نظریہ اعتدال کی نفی کرتے ہے ہیں اور اپنے اپنے طور پر فرد کو ایک انتہا پسند فکر کی طرف لے جاتے ہیں۔جبکہ اسلام میں اس سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے۔ایک طرف رسول اسلامؐ فرماتے ہیں کہ ’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔‘‘ اور دوسری طرف ذخیرہ اندازی کرنے والوں کو گناہگار قرار دیتے ہوئے بازار میں مہنگائی بڑھانے کے لئے اناج یا دوسرا سامان ذخیرہ کرنے والوں پر آپؐ نے لعنت فرمائی ہے۔مولائے کائنات علی ابنِ ابی طالب نے ایک جگہ سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں فرمایا کہ،’’میں نے کسی جگہ ضرورت سے زیادہ جمع دولت نہیں دیکھی مگر یہ کہ اس کے پہلو میں کسی غریب کا حق ضائع ہو رہا تھا۔‘‘بیشتر ائمہ نے بھی معیشت میں میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔اس مختصر بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں معتدل معیشت کو کتنی اہمیت حاصل ہے،اور سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں ہی کو کیوں غلط بتایا گیا ہے۔مولانا سید محمد سیادت کے ذریعے اتنے اہم موضوع پر قلم اٹھانا دین کے تئیں آپ کی بیدار فکر اور اسلامی معاشرے کو بھی اس تعلق سے بیدار کرنے کا جذبہ ہی بنیادی سبب ہے۔

آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای کے نئ دلی میں نمائندے آیت اللہ حکیم الہی نےمولانا ڈاکٹر سیدمحمد سیادت فہمی  ؔامروہوی کے جنازے کی پیشوائی کی
آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای کے نئ دلی میں نمائندے آیت اللہ حکیم الہی نےمولانا ڈاکٹر سیدمحمد سیادت فہمی ؔامروہوی کے جنازے کی پیشوائی کی

ڈاکٹڑ محمد سیادت کی اس سلسلے کی دوسری اہم تصنیف ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ ہے۔جس طرح اسلامی معاشرے میں معیشت کا اعتدال جز ولاینفک کی حیثیت رکھتا ہے،اسی طرح نظام عدل کے بغیر بھی صالح اسلامی معاشرے کا تصور ممکن نہیں۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ دونوں ہی باتیں ایک ہی فکر یانظریے کا حصہ ہیں۔اسلام نے نظام عدل کا جو تصور دنیا کے سامنے پیش کیا اس میں عدل و انصاف کا پیمانہ حقوق وفرائض کی منصفانہ تقسیم کو قرار دیا گیا ہے۔قرآن کریم سے لیکر احادیث رسول اور اقوالِ و اعمالِ معصومین میں اس عدل کو دیکھا جا سکتا ہے۔حضرت علیؑ کا دورِ خلافت اس اعتبار سے قابلِ ذکر ہے کہ آپ نے اس میں بھی اور اس سے قبل دیگر خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی نظام عدل کے قیام کے لئے اپنے فیصلوں سے نئی راہ دکھائی۔رسول اکرم نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’عدل ہی کی بدولت زمین اور آسمان قائم ہیں۔‘‘ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ ’’ایک لمحے کا عدل و انصاف ستّر سال کی ایسی عبادت سے بہتر ہے جس کی راتیں نماز میں اور دن روزے میں گزریں۔‘‘
جہاں تک حضرت علیؑ کے عدل و انصاف کا تعلق ہے تو مغربی مفکرین تک نے اس کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔مشہور عیسائی ادیب اور مصنف جارج جرداق نے تو اس موضوع پر ایک کتاب ’’علی:انسانی عدالت کی آواز‘‘لکھ کر ایک عادل حکمراں کے طور پر حضرت علیؑ کو جو خراج عقیدت پیش کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نظر نہیں آتی۔ایڈورڈ گبن،تھامس کارلائل،اور میڈم ڈائیو لافوائے ان مغربی مفکرین میں شامل ہیں کہ جنھوں نے حضرت علیؑ کے عدل کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔
مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت کی تصنیف ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ اس اعتبار سے خصوصاً قابلِ ذکر ہے کہ اس میں انھوں نے مولائے کائنات کے عدل کو خاص طور پر موضوع گفتگو بنایا ہے۔ ’ابتدائیہ‘عنوان کے تحت اس کتاب میں سپرد قلم کی گئی اپنی تحریر میںمولانا موصوف فرماتے ہیں کہ،’’حقیقتاً صرف اسلام ہی وہ آئین حیات ہے کہ جو عام اذہان میں عدالت کی سماجی اہمیت و ضرورت کا احسا س بیدار کر کے انسان کو خود بخود اپنی عملی دنیا میں عدالت کا عادی بنا دیتا ہے،جیسا کہ اسلامی دستور حیات یعنی قرآن مجید میں جا بجا زندگی کے اس اہم موضوع پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے اور پیغمبر اسلام جناب محمد مصطفیﷺ نے بھی اپنے اقوال و افعال کے ذریعے قرآنی اجمال کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے عدالت ہی کو شعارِ انسانیت قرار دیا ہے۔‘‘اسی تحریر میں آگے رقمطراز ہیں،’’قرآن کے بعد مولائے کائنات کے خطبات و مکتوبات کا مجموعہ نہج البلاغہ انسانی صفات و کمالات کا ایسا بحر ذخار ہے جس سے ہر عہد کا ترقی پذیر ذہن نادر و نایاب موتی تلاش کرکے اقدار حیات کو روشن و تابناک بناتا رہیگا۔‘‘
فاضل مصنف نے اس بات پر اظہار افسوس اور اردو زبان کی کم مائیگی کا اعتراف کیا ہے کہ عربی، فارسی اور دنیا کی دیگر زبانوں میں تو ’نہج البلاغہ‘ میں عدل کے موضوع پر کتابیں سامنے آئی ہیں،لیکن اردو میں ’نہج البلاغہ‘کے تراجم کے علاوہ اس میں دیگر موضوعات خصوصاً عدل کے تعلق سے پیش خیالات و نظریہ کا احاطہ کرنے والی کوئی قابلِ ذکر تصنیف اب تک سامنے نہیں آئی۔دراصل فاضل مصنف کے اس ا حساِس نے ہی انھیں ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ کو موضوع گفتگو بنانے پر آمادہ کیا ۔’ابتدائیہ‘کے عنوان سے کتاب میں شامل تحریر میں اس کا مصنف نے خود اعتراف کیا ہے۔
بہرحال اسلامی نظریہ عدالت اور نظریہ اقتصادیات یا معیشت پر تحریر کی گئی مذکورہ دونوں تصانیف فاضل مصنف کی اسلامی افکار سے گہری وابستگی اور دلچسپی کا ثبوت ہیں،اور اس وضاحت کی یہاں ضرورت نہیں کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں عدل اور معاشی سطح پر قابلِ عمل مساوات یا متوازن نظام ِ اقتصادیات کا اہم ترین رول ہے ۔اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ مولانا موصوف نے اپنی قلمی خدمات کے مرکز میں ان موضوعات کو رکھ کر صحیح معنیٰ میں تبلیغ دین کا فرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقیات کے مختلف پہلئوئوں کو نہ صرف اپنی تحریروں میں پیش کیا ،بلکہ اپنی سماجی زندگی میں بھی اس کا عملی نمونہ پیش کیا ،اور یہی وہ خوبی ہے کہ جس نے انھیں تمام مذاہب و مسالک میں مقبولیت عطا کی،اور اب جبکہ ہو ہمارے درمیان نہیں ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسے آسانی سے پر نہیں کیا جا سکے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

پیکر علم و اخلاق مولانا سید محمد سیادت فہمی امروہویؔ رخصت

 

سراج نقوی

’نہج البلاغہ‘کے کلمات قصار میں مولائے کائنات علی ؑ ابن ابی طالب کا حکمت و دانش سے بھرپور یہ قول بھی شامل ہے کہ ،’’علم سب سے برتر خاندانی شرافت ہے اور اخلاق سب سے بہتر قرابت ہے۔‘‘
آپ کا یہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں علم اور اخلاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ظاہر ہے اگر قرآن کریم کی پہلی وحی میں ہی ’’اقراٗ‘‘ کہہ کر علم کی اہمیت بتائی گئی ہو اور جس دین کے پیغمبر محمد مصطفیﷺ کو’’صاحبِ خلقِ عظیم‘‘ کہا گیا ہو اس دین کو اور اس کے علماء کو ان دو صفات یعنی علم اور اخلاق سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ علم کی اصل کیا ہے اور اخلاق کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔علم کی تعریف میں شیخ سعدی شیرازی ’گلستان ‘ میں فرماتے ہیں’’علم از بہر دین پروردن است‘‘ یعنی علم دین کی پرورش اور خدمت کے لئے ہے۔ ‘‘یعنی ایک عالم خصوصاً عالم دین پر واجب ہے کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں اور کاوشوںکا محور و مقصد خدمت دین کو بنائے کہ یہی خوشنودی خدا کے حصول کا بہترین راستہ ہے۔یہی سوال کہ جو علم کے تعلق سے اٹھایا گیا دین کے تعلق سے بھی دعوت فکر دیتا ہے کہ دین کی اصل کیا ہے۔رسول اسلامؐ نے فرمایا کہ ’’دین خیر خواہی کرنے کا نام ہے۔‘‘اس تعلق سے مولائے کائنات علی ابن ابی طالب فرماتے ہیںکہ، ’’دین کا حاصل مروت اور اخلاق ہے۔‘‘امام جعفر صادق نے بھی دین کے تعلق سے اسی طرح کا نظریہ پیش کیا ہے۔آپؑ استفہامیہ لہجے میں فرماتے ہیں کہ،’’کیا دین محبت کے سوا اور کچھ ہے؟‘‘ علم اور دین سے متعلق مذکورہ آراء کی روشنی میں ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک عالمِ دین کو دین کی ترویج اور تبلیغ کے لئے اسی طرح کے علم ، اخلاق و محبت کا حامل ہونا چاہیے کہ جس کی مختصر وضاحت مذکورہ بالا سطور میں کی گئی ہے۔
مولانا ڈاکٹر سیدمحمد سیادت فہمی ؔامروہوی (جن کا گزشتہ 31اگست کو مختصر علالت کے بعد84سال کی عمر میں انتقال ہو گیا) ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے کہ جنھوں نے اخلاق و محبت کی پاسداری کے ساتھ اپنے علم و عمل سے نہ صرف شہر امروہہ کے عوام بلکہ برصغیر کے بھی مختلف علمی،دینی اور مذہبی حلقوں میںا پنی الگ شناخت قائم کی،اور علم کے وہ چراغ روشن کیے جو صاحبانِ دانش کے اذہان کو تا دیر منور کرتے رہینگے۔ اس علم ا ور اخلاق و اخلاص نے ہی ان کی شخصیت کو اس خاندانی شرافت کا بھی حقیقی وارث بنایا کہ جس کے سبب ان کے خانوادے کو کئی نسلوں سے دین اور علم کی خدمت کے حوالے سے نہایت عزت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔اس خانوادے کوامروہہ جیسی علم و ادب کی بستی میں وسعت علم،حسنِ اخلاق اور عملِ صالح کے سبب جو بلند مقام حاصل ہے اس کی کوئی دوسری نظیر ملنا دشوار ہے۔اسے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اس میں ایسے علماء پیدا ہوئے کہ جو صاحب طرز ادیب اور بلند پایہ شاعر بھی ہوئے ۔مولانا موصوف کے قلم نے بھی دونوں ہی میدانوں میں اپنی اس افتادِ طبع کے جوہر دکھائے ۔میر انیس ؔکو اس پر ناز تھا کہ ’’پانچویںپشت ہے شبیر کی مدّاحی میں‘‘لیکن مولانا ڈاکٹر محمد سیادت نقوی کی سات نسلوں کو یہ فخر حاصل ہے کہ انھوں نے امروہہ جیسی علماء کی بستی میں نہ صرف امام جمعہ و جماعت کے فرائض انجام دیے اور اب بھی دے رہی ہیں، بلکہ علم و ادب کے میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں اور ان کی قلمی خدمات کا زمانہ معترف ہے۔
ڈاکٹر سید محمد سیادت فہمی ؔنے اپنے خانوادے میں نسل در نسل جاری خدمت دین و ادب کی اس روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اپنے قلمی جہاد سے اسے آگے بڑھاتے ہوئے اس میں ایک نئے باب کا اضافہ بھی کیا۔’مولانا محمد عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی‘ اور ’سلونی ایجوکیشنل سنٹر کا قیام اس کا ثبوت ہے۔
آپ کے والدِ گرامی مولانا محمد عبادت (سابق امام جمعہ وجماعت)کا انتقال1989میںہوا۔اپنے والد گرامی کے انتقال کے بعد یہ گراں قدر ذمہ داری آپ نے سنبھالی،لیکن آپ کی فعال طبیعت اور ترویج علم کے تئیں رغبت نے آپ کو میدان عمل میں مزید پیش رفت کے لئے آمادہ کیا۔اسی کے تحت 1995میں’مولانا محمد عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی‘کا قیام عمل میں آیا۔سوسائٹی نے خواتین اور اطفال میں تعلیم و تربیت کے فروغ کو اپنا مقصد قرار دیتے ہوئے جو تعمیری کام انجام دیے اس کا اعتراف امروہہ اور اس سے باہر بھی مختلف علمی حلقوں کی طرف سے کیا گیا۔سن 2009میں حکومت ایران کی طرف سے دیا جانے والا’’ بین الاقوامی شہید مطہری ایوارڈ‘‘اس کا بڑا ثبوت ہے۔یہ ایوارڈ تدریسی عمل کو بہتر بنانے ،نئے تعلیمی طریقے متعارف کرانے اور تعلیم کے شعبے میں تحقیق و قابلِ ذکر خدمات کے لئے دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اسلامی ادب کے تراجم اور افکار کو فروغ دینے کے لئے بھی یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔مولانا موصوف کو اس ایوارڈ سے نوازا جانا علم کے شعبے میں آپ کی اہم خدمات کا اعتراف ہی ہے۔
مولانا محمد عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی کے تعلق سے ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سوسائٹی کی طرف سے قوم کی لڑکیوں کے لئے مفت کوچنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔اس کے تحت عصری مضامین کی کوچنگ کا بھی اہتمام ہے۔سوسائٹی کی علمی خدمات میں خواتین کی تعلیم کو ترجیحی بنیاد پر شامل کرنا درحقیقت اللہ،رسولؐاور ائمہ اطہار کی مرضی اور فکر کے عین مطابق ہے۔پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا کہ،’’جس شخص کی کوئی بیٹی ہو ،وہ اسے بہترین ادب سکھائے،اور اسے اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرے ۔۔۔۔تو وہ بیٹی اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ(یعنی نجات)کا ذریعہ بن جائے گی۔‘‘مولائے کائنات نے ایک جگہ فرمایا کہ عورت معاشرے کی اخلاقی اور فکری محافظ ہے۔‘‘ ظاہرہے جسے معاشرے کی فکری اور اخلاقی محافظ قرار دیا گیا ہو اس کی تعلیم میںتاہی کو اسلام کیسے پسند کر سکتا ہے۔ ا مامِ جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ’’زیاد ہ تر خیر اور اور بھلائی عورتوں میں رکھی گئی ہے۔‘‘یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ روایات میں امام کے تعلق سے آیا ہے کہ آپ کے درس میں خواتین بھی پردے میں رہ کر شامل ہوتی تھیںاور علم حدیث و فقہ حاصل کرتی تھیں۔ جناب فاطمہ زہرہؐ نے مدینے کی خواتین کی تعلیم میں ایک بڑا رول ادا کیاجو اسلام میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت کا بڑا ثبوت ہے۔آپ کی بیٹی جناب زہینب نے جب مولائے کائنات علی ابن ابی طالب خلیفہ تھے اور کوفہ آپکی راجدھانی تھا تو کوفے کی خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے میں اتنا اہم رول ادا کیا کہ آپ کو’’عقیلہ قریش‘‘ اور ’’عالمہ غیر معلمہ‘‘ کہا جانے لگا۔
اسلام میں خواتین کی تعلیم کے تعلق سے مذکورہ بالا حقائق کو دیکھتے ہوئے اسلامی اقدار کے تحت قائم کیے گئے کسی بھی علمی ادارے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم پر خصوصی اور ترجیحی بنیاد پر منصوبہ بندی کرے۔اس اعتبار سے مولانا ڈاکٹر محمد سیادت کے ذریعے ’’مولانا عبادت ایجوکیشنل سوسائٹی ‘کا قیام اور اس میں خواتین کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے لئے مفت کوچنگ کا اہتمام تعلیم کے تعلق سے موصوف کی مثبت اور اسلامی فکر کا ثبوت ہے۔سوسائٹی مختلف مواقع پر سیمنار وسمپوزیم کے انعقاد کے ساتھ کتابوں کی اشاعت میں بھی فعال رہی ہے۔ تعلیم کے تعلق سے مولانا موصوف کی دوسری قابلِ ذکر کوشش ’’سلونی ایجوکیشنل سنٹر‘‘ کا قیام ہے۔ریاستی حکومت کی طرف سے منظور شدہ اس سنٹر میں درجہ پانچ تک کے طلباء کے لئے مفت تعلیم کا انتظام ہے۔مولانا موصوف کی علمی خدمات کا یہ وہ پہلو ہے جو آپ کی اس تعلق سے پیش قدمی کا ثبوت ہے،لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ کہ آپ نے فروغٖ علم کے بنیادی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہی خود کو درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ کیا۔امروہہ کے جے ایس ہندو ڈگری کالج میں صدر شعبہ اردو تک پہنچنے کا آپ کا سفر تعلیمی میدا ن میں آپ کی سرگرمی کا اہم پہلو ہے۔آپ نے ابتدائی تعلیم سید المدارس ،امروہہ میں حاصل کرنے اور عربی میں فاضلِ ادب و فارسی میں فاضل کی اسناد حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور روہیلکھنڈ یونیورسٹی سے ’’علی نظر حیات اور شاعری‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور امروہہ کے ’ہندو ڈگری کالج‘کے شعبہ اردو سے وابستہ ہو گئے۔اس ادارے سے وابستگی کے دوران ہی آپ کی نگرانی میں کئی نامور ادیب و شعر اء نے مختلف موضوعات پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ان میں مشہور و معروف مرثیہ نگار و رثائی ادب کے محقق ڈاکٹر عظیم امروہوی کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے ۔آپ کے شاگردوں میں دیگر کئی اہم نام شامل ہیں۔جبکہ خود مولانا موصوف نے جن شخصیات کے سامنے بطور شاعرزانوئے ادب تہہ کیا ان میں بھی دو اہم اور قابلِ ذکر نام شامل ہیں۔ اس میدان میں انھیں شروع میںعالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب جون ایلیا سے شرف تلمذ حاصل رہا، لیکن جب جون ایلیا پاکستان ہجرت کر گئے تو آپ نے اپنے والد گرامی قدر مولانا محمد عبادت سے اصلاح لینی شروع کی جو خود اعلیٰ پائے کے ادیب و شاعر بھی تھے اور جن کا مجموعہ کلا م ان کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے۔ مولانا سید محمد عبادت صاحب کے والد یعنی مولانا سیادت صاحب کے دادا مولانا اولاد حسن سلیم ؔ بھی اپنے دور کے بڑے عالم دین تھے اور قادرالکلام شعراء میں شمار ہوتے تھے۔بہرحال مولانا سید محمد سیادت شاعری میں فہمی ؔ امروہوی تخلص فرماتے تھے۔ان کے کلام سے ان کی فکر کی بالیدگی اور موضوعات پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس میدان میں بھی ان کی فکر میں شامل اخلاقیات کے پہلو کو ہی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ مولانا موصوف کی نثری کاوشوں کی فہرست حالانکہ بہت طویل نہیں ہے،لیکن انھوں نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس کا حق ادا کردیا۔ ان موضوعات کے انتخابات سے آپ کی فکری ترجیحات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔’نسیم ؔامروہوی ،ایک تعارف ‘پر انھیں اتر پردیش اردو اکادمی کا ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔واضح رہے کہ نسیم امروہوی کو جدید اردو مرثیے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔آپ نہ صرف اعلیٰ پائے کے مرثیہ نگار تھے بلکہ ادب کی دیگر اصناف میں بھی آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔آپ نے نصابی کتابوں کے سلسلے میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔کسی ایسی ہمہ جہت شخصیت پر قلم اٹھانا مولانا سید محمد سیادت کے قلم کی ترجیحات کا ثبوت ہے۔اس کے علاوہ آپ نے غالبؔکی شاعری پر ایک اہم تنقیدی و تحقیقی کتاب ’’گفتہء غالبؔ‘‘ بھی تحریر فرمائی۔باقی دو کتابیں آپ کی فکر کے خمیر میںموجود اسلامی اقدار کے تئیں آپ کی گہری دلچسپی وپختگی کا ثبوت ہیں۔اس لئے کہ ان موضوعات کو اسلامی معاشرے کی فکری و نظریاتی بنیاد کہا جا سکتا ہے ۔ان دو تصانیف میں ایک ’’اسلام ،اشتراکیت اور سرمایہ داری‘‘جیسے اہم موضوع پر ہے،اور دوسری ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ کے موضوع پر ہے۔ جہاں تک اوّلذکر تصنیف ’’اسلام ،اشتراکیت اور سرمایہ داری‘‘کا تعلق ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کے تمام شعبوں میں موجود فکری توازن اور اعتدال کے سب سے اہم پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔یہ واضح ہے کہ اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں اس حد تک عدم توازن کا شکار ہو گئی کہ ذاتی ملکیت کو قبول نہیں کرتی۔یعنی یہ فرد کو اس بات کی آزادی بھی نہیں دیتی کہ وہ اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر دولت کما ئے۔اشتراکی نظام دولت کی منصفانہ تقسیم کے تعلق سے ایک غیر حقیقی اور عملی اعتبار سے ناممکن نظریے کی حامی ہے۔ حالانکہ یہ مزدور کے حقوق کی حامی ہے ،لیکن ذاتی محنت سے کمائی گئی دولت کے اصول کی نفی کرتی ہے۔جبکہ سرمایہ دارانہ نظام دولت کو چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں محدود کرکے مزدوروں کے حصولِ دولت کے حق پر قدغن لگاتا ہے۔ظاہر ہے یہ دونوں ہی نظام اسلام کے نظریہ اعتدال کی نفی کرتے ہے ہیں اور اپنے اپنے طور پر فرد کو ایک انتہا پسند فکر کی طرف لے جاتے ہیں۔جبکہ اسلام میں اس سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے۔ایک طرف رسول اسلامؐ فرماتے ہیں کہ ’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔‘‘ اور دوسری طرف ذخیرہ اندازی کرنے والوں کو گناہگار قرار دیتے ہوئے بازار میں مہنگائی بڑھانے کے لئے اناج یا دوسرا سامان ذخیرہ کرنے والوں پر آپؐ نے لعنت فرمائی ہے۔مولائے کائنات علی ابنِ ابی طالب نے ایک جگہ سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں فرمایا کہ،’’میں نے کسی جگہ ضرورت سے زیادہ جمع دولت نہیں دیکھی مگر یہ کہ اس کے پہلو میں کسی غریب کا حق ضائع ہو رہا تھا۔‘‘بیشتر ائمہ نے بھی معیشت میں میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔اس مختصر بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں معتدل معیشت کو کتنی اہمیت حاصل ہے،اور سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں ہی کو کیوں غلط بتایا گیا ہے۔مولانا سید محمد سیادت کے ذریعے اتنے اہم موضوع پر قلم اٹھانا دین کے تئیں آپ کی بیدار فکر اور اسلامی معاشرے کو بھی اس تعلق سے بیدار کرنے کا جذبہ ہی بنیادی سبب ہے۔

آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای کے نئ دلی میں نمائندے آیت اللہ حکیم الہی نےمولانا ڈاکٹر سیدمحمد سیادت فہمی  ؔامروہوی کے جنازے کی پیشوائی کی
آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای کے نئ دلی میں نمائندے آیت اللہ حکیم الہی نےمولانا ڈاکٹر سیدمحمد سیادت فہمی ؔامروہوی کے جنازے کی پیشوائی کی

ڈاکٹڑ محمد سیادت کی اس سلسلے کی دوسری اہم تصنیف ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ ہے۔جس طرح اسلامی معاشرے میں معیشت کا اعتدال جز ولاینفک کی حیثیت رکھتا ہے،اسی طرح نظام عدل کے بغیر بھی صالح اسلامی معاشرے کا تصور ممکن نہیں۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ دونوں ہی باتیں ایک ہی فکر یانظریے کا حصہ ہیں۔اسلام نے نظام عدل کا جو تصور دنیا کے سامنے پیش کیا اس میں عدل و انصاف کا پیمانہ حقوق وفرائض کی منصفانہ تقسیم کو قرار دیا گیا ہے۔قرآن کریم سے لیکر احادیث رسول اور اقوالِ و اعمالِ معصومین میں اس عدل کو دیکھا جا سکتا ہے۔حضرت علیؑ کا دورِ خلافت اس اعتبار سے قابلِ ذکر ہے کہ آپ نے اس میں بھی اور اس سے قبل دیگر خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی نظام عدل کے قیام کے لئے اپنے فیصلوں سے نئی راہ دکھائی۔رسول اکرم نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’عدل ہی کی بدولت زمین اور آسمان قائم ہیں۔‘‘ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ ’’ایک لمحے کا عدل و انصاف ستّر سال کی ایسی عبادت سے بہتر ہے جس کی راتیں نماز میں اور دن روزے میں گزریں۔‘‘
جہاں تک حضرت علیؑ کے عدل و انصاف کا تعلق ہے تو مغربی مفکرین تک نے اس کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔مشہور عیسائی ادیب اور مصنف جارج جرداق نے تو اس موضوع پر ایک کتاب ’’علی:انسانی عدالت کی آواز‘‘لکھ کر ایک عادل حکمراں کے طور پر حضرت علیؑ کو جو خراج عقیدت پیش کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نظر نہیں آتی۔ایڈورڈ گبن،تھامس کارلائل،اور میڈم ڈائیو لافوائے ان مغربی مفکرین میں شامل ہیں کہ جنھوں نے حضرت علیؑ کے عدل کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔
مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت کی تصنیف ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ اس اعتبار سے خصوصاً قابلِ ذکر ہے کہ اس میں انھوں نے مولائے کائنات کے عدل کو خاص طور پر موضوع گفتگو بنایا ہے۔ ’ابتدائیہ‘عنوان کے تحت اس کتاب میں سپرد قلم کی گئی اپنی تحریر میںمولانا موصوف فرماتے ہیں کہ،’’حقیقتاً صرف اسلام ہی وہ آئین حیات ہے کہ جو عام اذہان میں عدالت کی سماجی اہمیت و ضرورت کا احسا س بیدار کر کے انسان کو خود بخود اپنی عملی دنیا میں عدالت کا عادی بنا دیتا ہے،جیسا کہ اسلامی دستور حیات یعنی قرآن مجید میں جا بجا زندگی کے اس اہم موضوع پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے اور پیغمبر اسلام جناب محمد مصطفیﷺ نے بھی اپنے اقوال و افعال کے ذریعے قرآنی اجمال کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے عدالت ہی کو شعارِ انسانیت قرار دیا ہے۔‘‘اسی تحریر میں آگے رقمطراز ہیں،’’قرآن کے بعد مولائے کائنات کے خطبات و مکتوبات کا مجموعہ نہج البلاغہ انسانی صفات و کمالات کا ایسا بحر ذخار ہے جس سے ہر عہد کا ترقی پذیر ذہن نادر و نایاب موتی تلاش کرکے اقدار حیات کو روشن و تابناک بناتا رہیگا۔‘‘
فاضل مصنف نے اس بات پر اظہار افسوس اور اردو زبان کی کم مائیگی کا اعتراف کیا ہے کہ عربی، فارسی اور دنیا کی دیگر زبانوں میں تو ’نہج البلاغہ‘ میں عدل کے موضوع پر کتابیں سامنے آئی ہیں،لیکن اردو میں ’نہج البلاغہ‘کے تراجم کے علاوہ اس میں دیگر موضوعات خصوصاً عدل کے تعلق سے پیش خیالات و نظریہ کا احاطہ کرنے والی کوئی قابلِ ذکر تصنیف اب تک سامنے نہیں آئی۔دراصل فاضل مصنف کے اس ا حساِس نے ہی انھیں ’’اسلامی نظریہ عدالت‘‘ کو موضوع گفتگو بنانے پر آمادہ کیا ۔’ابتدائیہ‘کے عنوان سے کتاب میں شامل تحریر میں اس کا مصنف نے خود اعتراف کیا ہے۔
بہرحال اسلامی نظریہ عدالت اور نظریہ اقتصادیات یا معیشت پر تحریر کی گئی مذکورہ دونوں تصانیف فاضل مصنف کی اسلامی افکار سے گہری وابستگی اور دلچسپی کا ثبوت ہیں،اور اس وضاحت کی یہاں ضرورت نہیں کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں عدل اور معاشی سطح پر قابلِ عمل مساوات یا متوازن نظام ِ اقتصادیات کا اہم ترین رول ہے ۔اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ مولانا موصوف نے اپنی قلمی خدمات کے مرکز میں ان موضوعات کو رکھ کر صحیح معنیٰ میں تبلیغ دین کا فرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقیات کے مختلف پہلئوئوں کو نہ صرف اپنی تحریروں میں پیش کیا ،بلکہ اپنی سماجی زندگی میں بھی اس کا عملی نمونہ پیش کیا ،اور یہی وہ خوبی ہے کہ جس نے انھیں تمام مذاہب و مسالک میں مقبولیت عطا کی،اور اب جبکہ ہو ہمارے درمیان نہیں ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسے آسانی سے پر نہیں کیا جا سکے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں