
ایڈووکیٹ کشن سنمکھ
نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر 2026 کو منعقد ہونے والی دو روزہ 18ویں برکس سربراہی کانفرنس عالمی توجہ کا مرکز تھا۔ ہندوستان کی سربراہی میں ہونے والی اس کانفرنس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن، چین کے صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سمیت اہم برکس رہنماؤں کی موجودگی نمایاں ہے۔
دہلی سربراہی اجلاس محض ایک کثیرالجہتی اجلاس نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی نظام کے لئے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ ہندوستان کی صدارت لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری پر مرکوز ہے، جبکہ نئی دہلی برکس کو سیاسی بیان بازی کے بجائے عملی اقتصادی تعاون کے ایک مؤثر فورم میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سمٹ کی سب سے اہم پیش رفت ہندوستانی وزیر اعظم اور چینی صدر کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہے۔ بیجنگ نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے، تعاون بڑھانے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے نمٹانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یہ ملاقات اس لئے بھی اہم ہے کہ 2019 کے بعد شی جن پنگ کا یہ ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ بات چیت میں سرحدی امن، تجارتی عدم توازن، مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری، سپلائی چین، ویزا اور اقتصادی تعلقات جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ ملاقات اقتصادی بات چیت کے لئے ٹھوس راستہ ہموار کرتی ہے تو ہندوستانی صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے لئے مثبت اشارہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست فضائی سروس 21 ستمبر کو دوبارہ شروع ہونے والی ہے۔ 2020 میں براہِ راست پروازیں کووڈ-19 وبا اور سرحدی کشیدگی کے باعث معطل کر دی گئی تھیں۔
پوتن کا پیغام: برکس بمقابلہ جی-7
ولادیمیر پوتن نے برکس بزنس فورم میں گروپ کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی معیشت میں ابھرتی ہوئی طاقتوں کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
برکس 21 رکن ممالک، 11 مکمل ارکان اور 10 شراکت دار ارکان پر مشتمل ہے۔ یہ گروپ دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی معیشت کی قوتِ خرید کے تقریباً 40 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔
پوتن کی جانب سے برکس اور جی-7 کے اقتصادی حصے کا موازنہ اس بات کا سیاسی پیغام بھی ہے کہ عالمی اقتصادی طاقت اب صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں رہی۔ تاہم، برکس کو فوری طور پر جی-7 کا متبادل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ چین اور ہندوستان کے اختلافات، مختلف اقتصادی مفادات اور مغرب کے ساتھ رکن ممالک کے تعلقات اب بھی اہم چیلنجز ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ، کیا برکس آکسیجن دے گا؟
برکس سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ عالمی خطرات کے دباؤ میں ہے۔ 11 ستمبر کو سینسیکس84.0فیصد گر کر 74272.61 اور نفٹی92.0 فیصد کمی کے ساتھ 23261.7 پر بند ہوا۔ ہفتے کے دوران نفٹی تقریباً 7.2 فیصد اور سینسیکس 2.9 فیصد نیچے رہا۔
ابتدائی تجارت میں سینسیکس تقریباً 740 پوائنٹس گرا، جبکہ بی ایس ای کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے کی کمی ہوئی۔
کیا برکس اس گرتی ہوئی مارکیٹ کو آکسیجن فراہم کر سکتا ہے؟ جواب ہے: ہاں، لیکن محدود پیمانے پر۔
اگر سمٹ کے نتیجے میں مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سرمایہ کاری، سپلائی چین، توانائی کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے ٹھوس اعلانات سامنے آتے ہیں تو بینکنگ، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور برآمدی شعبوں کے لئے مثبت ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم، اسٹاک مارکیٹ صرف سربراہی اجلاس سے نہیں چلتی۔ تیل کی قیمتیں، شرحِ سود، غیر ملکی سرمایہ کاری، افراطِ زر، کارپوریٹ آمدنی اور عالمی خطرات بھی اس کی سمت متعین کرتے ہیں۔
ہندوستان کا بڑا چیلنج: تیل 108 ڈالر سے اوپر
خام تیل اس وقت ہندوستان کے لئے بڑا اقتصادی خطرہ ہے۔ 11 ستمبر کو برینٹ خام تیل 7.108ڈالر تک پہنچ گیا۔ مغربی ایشیا کے تنازعات، یمن میں حوثی فورسز کی سرگرمیوں اور اہم سمندری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لئے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لئے تیل کی بلند قیمتیں روپے، افراطِ زر، کرنٹ اکاؤنٹ اور کارپوریٹ اخراجات پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ 11 ستمبر کو روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً79.95کی سطح تک کمزور ہوا۔
ایسے ماحول میں توانائی کے تعاون، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور محفوظ سمندری سپلائی کے حوالے سے برکس کے ٹھوس اقدامات ہندوستان کے لئے اہم ہوں گے۔
امریکی بانڈز کا دباؤ
دوسری بڑی تشویش امریکی بانڈ کی پیداوار ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار تقریباً 5 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 11 ستمبر کو انٹرا ڈے بلند ترین سطح تقریباً 98.4فیصد رہی۔
امریکی بانڈز کی بلند پیداوار عالمی سرمایہ کاروں کو امریکی قرض کے آلات کی جانب راغب کر سکتی ہے، جس سے ابھرتی ہوئی منڈیوں سے سرمائے کے اخراج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ میں افراطِ زر اور فیڈرل ریزرو کی ممکنہ سخت مالیاتی پالیسی نے بھی خطرناک اثاثوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
لہٰذا ہندوستانی مارکیٹ کی کمزوری محض گھریلو مسئلہ نہیں، بلکہ تیل، ڈالر، بانڈ کی پیداوار، جغرافیائی سیاست اور عالمی سرمائے کے بہاؤ کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہے۔
کیا برکس ڈالر کو چیلنج کرے گا؟
برکس کے اندر مقامی کرنسیوں میں تجارت اور متبادل ادائیگی نظام پر بات چیت تیز ہوئی ہے۔ وزیر تجارت نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ادائیگی کے نظام کو مربوط کریں، مقامی کرنسیوں میں سرحد پار تجارت بڑھائیں، مارکیٹ تک رسائی آسان بنائیں اور سپلائی چین مضبوط کریں۔ یو پی آئی کو بھی بین الاقوامی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ممکنہ ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
تاہم، برکس 2026 کا فوری ایجنڈا کسی مشترکہ برکس کرنسی کا اجرا نہیں۔ ہندوستان عملی ادائیگی تعاون اور مقامی کرنسیوں میں لین دین پر زور دے رہا ہے۔ اس لئے اسے ڈالر پر فوری حملہ قرار دینے کے بجائے ڈالر پر انحصار بتدریج کم کرنے کی طویل المدتی کوشش کہنا زیادہ درست ہوگا۔
اصل امتحان: تقریریں نہیں، عمل
مودی-شی جن پنگ ملاقات، برکس رہنماؤں کی اعلیٰ سطحی بات چیت اور اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سپلائی چین اور عالمی گورننس میں اصلاحات سربراہی اجلاس کے اہم موضوعات ہیں۔
برکس بزنس فورم پہلے ہی تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، سپلائی چین مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تعاون پر زور دے چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا سربراہی اجلاس ان خیالات کو ٹھوس معاہدوں اور وقت کے پابند منصوبوں میں تبدیل کر سکے گا۔
ہندوستان کو کیا فائدہ ہوگا؟
ہندوستان کو برکس 2026 سے سب سے بڑا فائدہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں فوری تیزی کی صورت میں نہیں، بلکہ اسٹریٹجک اقتصادی اور سفارتی سرمائے کی شکل میں مل سکتا ہے۔
اگر ہندوستان روس اور چین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ، یورپ اور گلوبل ساؤتھ کے درمیان اپنی پوزیشن متوازن رکھتا ہے تو عالمی سطح پر اس کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
روس کے ساتھ توانائی اور اسٹریٹجک تعاون، چین کے ساتھ تجارت اور سرحدی استحکام، ایران کے ساتھ علاقائی رابطہ اور دیگر برکس ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری و سپلائی چین تعاون ہندوستان کے عالمی کردار کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ مودی اور پوتن کے درمیان توانائی، دفاع، خلائی شعبے، کھاد، اہم معدنیات اور تجارت پر بھی بات چیت ہو چکی ہے۔
نتیجہ: برکس اعتماد کی نئی بنیاد بن سکتا ہے
برکس سربراہی اجلاس ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کے لئے فوری ’’چاندی کی گولی‘‘ نہیں، لیکن اعتماد کی ایک نئی بنیاد ضرور فراہم کر سکتا ہے۔
اگر دہلی تجارت، سرمایہ کاری، مقامی کرنسیوں میں ادائیگیوں، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، توانائی کے تحفظ، سمندری سلامتی اور سپلائی چین کے تنوع پر ٹھوس فیصلے کرتا ہے تو مارکیٹ کو درمیانی مدت میں مثبت اشارے مل سکتے ہیں۔
تاہم، اگر مغربی ایشیا کا تنازع بڑھتا ہے، تیل 100 سے 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہتا ہے اور امریکی بانڈ کی پیداوار بلند سطح پر برقرار رہتی ہے تو برکس کی مثبت خبریں بھی مارکیٹ کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں کر سکیں گی۔
اصل کہانی یہ ہے کہ برکس محض دہلی میں ایک سربراہی اجلاس نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں ہندوستان کی نئی جگہ تلاش کرنے کی کوشش بھی ہے، جہاں معاشی طاقت مغرب سے گلوبل ساؤتھ کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
سربراہی اجلاس کی کامیابی کا حتمی پیمانہ تقاریر نہیں، بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ادائیگیاں، توانائی اور سفارتی نتائج ہوں گے، جو آنے والے چند ماہ میں سامنے آئیں گے۔


