
ڈاکٹر محمد عظیم الدین
ہمارے بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ بڑھاپے کا اصل المیہ بینائی کا دھندلا جانا، دانتوں کا رخصت ہونا یا گھٹنوں میں ریح کا بسیرا نہیں، بلکہ وہ جاں گسل مرحلہ ہے جب انسان دنیا کو یہ یقین دلانے پر تُل جائے کہ اس کے باطن کا شوخ، شریر اور بے قابو گھوڑا ہنوز چارہ چبا رہا ہے اور محض باگ کے اشارے پر کسی بھی سمت چھلانگ لگا سکتا ہے۔ طبِ مشرق کے نیم حکیموں کا بھی یہی گمان رہا ہے کہ جوانی کوئی گزرا ہوا خواب یا ناپائیدار موسم نہیں، بلکہ ہڈیوں کے غاروں میں محفوظ وہ دیسی گھی ہے جسے جب چاہیں، ورقِ نقرہ اور عرقِ گلاب کے گھوٹے کے ساتھ چہرے پر مل کر 22 سالہ دوشیزہ کے ہوش اڑائے جا سکتے ہیں۔
اب اگر یہی دیسی نسخہ کوئی گھریلو پنشنر آزمائے تو محلے والے چشم پوشی کر لیتے ہیں، مگر مصیبت تب ٹوٹتی ہے جب مریض خود حاکمِ وقت بن کر تخت پر براجمان ہو جائے۔ بڑھاپے اور اقتدار کا امتزاج عموماً رعب، ہیبت، عبادت اور دائمی قبض کو جنم دیتا ہے۔ لیکن جب 75 سالہ بزرگ اچانک اپنی نصف صدی کی خاندانی تاریخ فراموش کر کے خود کو 22 سالہ چھوکرا ثابت کرنے پر تُل جائیں، تو علمِ نفسیات بھی ہتھیار ڈال دیتا ہے اور میدان میں صرف میم لارڈز (Meme Lords) کی عدالت باقی رہ جاتی ہے۔ سیاست میں نوجوانی کا خبط بڑا جان لیوا ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان عمر کا فرق 20 سال ہو تو اسے سماجی رواداری یا قسمت کا لکھا کہا جاتا ہے، لیکن جب ایک حکمران اور ووٹر کے درمیان نصف صدی کا خلا حائل ہو جائے اور حکمران اصرار کرے کہ "فرینڈز، ہم تو بالکل تمہارے جیسے ہیں”، تو پھر بات محض مذاق نہیں رہتی بلکہ باقاعدہ سیاپا بن جاتی ہے۔
چنانچہ ہمارے مرشدِ برحق اور پردھان سیوک (اور اندھ بھکتوں کے وشو گرو) کے ساتھ حادثہ یہ پیش نہیں آیا کہ انہوں نے 75 گرمیاں کاٹ کر زندگی کے آخری زینے پر لاٹھی ٹیک دی ہے، بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ ان کے اندر کا الگورتھم کریش ہو چکا ہے اور وہ ونڈوز 95 کے سست پروسیسر پر زبردستی جین زی کا سائبر پنک چلانے کی ضد باندھے بیٹھے ہیں۔ نتیجہ: پروسیسر گرم، پنکھا بے حال، نیلا دھواں جاری اور آخرکار پوری اسکرین پر وہی موت کا تاریخی پیغام (Blue Screen of Death)، یعنی سسٹم نے بھی صاف کہہ دیا: اب مجھ سے مزید وشو گرو گری نہیں ہونے والی۔
حالانکہ انسان کو 75 سال کی عمر میں تسبیح، پوتوں پوتیوں کے سامنے مصنوعی دانت سنبھالنے کی مشقت اور پرانی پنشن کے قصوں میں پناہ لینی چاہیے، مگر قبلہ کو یہ سودا سمایا ہے کہ وہ پورے ملک کے اسکرپٹ میں تنہا ’مین کریکٹر‘ ہیں اور باقی 1 ارب 40 کروڑ خلقت صرف پسِ منظر میں تالیاں پیٹنے والے این پی سیز (NPCs) ہیں۔ المیہ یہ ہوا کہ جنتر منتر پر امتحانات کے پرچے افشا ہونے کے خلاف طلبا کے احتجاج نے جب زور پکڑا اور محکمہ تعلیم کا سرور بیٹھ گیا، تو دربارِ شاہی میں اچانک خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
اسی گھبراہٹ کے عالم میں درباری مشیروں نے فکرمند ہو کر عرض کیا: "حضور! یہ جین زی پچھلی نسل جیسی سادہ لوح رعایا نہیں جو 15 لاکھ کے ٹیکسٹ میسج پر تاحیات ناچتی رہے۔ یہ وہ نسل ہے جو 2 سیکنڈ میں کھوٹ سونگھ کر آپ کو سیدھا گوسٹ (Ghost) کر دیتی ہے۔ اگر انتخابی سرور پر لاگ ان رہنا ہے تو اپنی منفی سطح پر پہنچی ہوئی اورا (Aura) فوراً ری چارج کرنی پڑے گی۔ جب تک آپ ان کی بولی نہیں بولیں گے، یہ آپ کے 56 انچ کے سینے کو ’کرِنج‘ (Cringe) ہی سمجھتی رہے گی۔”
درباریوں کے اس مشورے پر دہلی کے ایس آر سی سی میں جو تماشا برپا ہوا، وہ زبان اور انٹرنیٹ دونوں کی تاریخ میں پھوہڑ پن کی معراج مانا جائے گا۔ ایک 75 سالہ بزرگ، جو سفید ڈاڑھی اور نپے تلے شاہانہ تیوروں کے لئے جانے جاتے ہیں، مائیک پر تشریف لائے اور فرمایا کہ "یہاں کے سابق طلبہ تو اصل میں او جی (OG) ہیں!” جب انہوں نے منہ بنا کر ’او جی‘ اور ’فلیکس‘ کا لفظ ادا کیا، تو یوں لگا جیسے کوئی وظیفہ یاب پٹواری کالج کی کینٹین میں گھس کر تنگ جینز پہننے کی ناکام کوشش میں الجھ کر رہ گیا ہو۔ جو الفاظ نوجوان سرگوشی یا شوخی میں بولتے ہیں، وہ پردھان سیوک کے حلق سے یوں برآمد ہوئے جیسے کچی لسی پینے کے بعد زبردستی کی ڈکار۔ جس لہجے میں کبھی انہوں نے اقتدار کے حصول کے لئے چنگھاڑ کر لال قلعے کی فصیلیں ہلائی تھیں، اسی لہجے میں جب وہ نوخیز منچلوں کے ادھار لئے ہوئے سستے بازاری الفاظ بول رہے تھے، تو پنڈال میں بیٹھی نئی نسل تالیاں نہیں بجا رہی تھی، بلکہ اسکرین کے پیچھے منہ چھپا کر سوچ رہی تھی کہ آخر اس درجے کی شرمندگی کو کس کھاتے میں درج کیا جائے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اسی تقریر کے دوران انہوں نے حزبِ اختلاف کو ’ناراض پھوپھا‘ قرار دے دیا۔ اب بندہ پوچھے کہ بھارت کے سیاسی واٹس ایپ گروپوں میں سب سے بڑا پھوپھا کون ہے؟ پھوپھا دراصل وہ ہوتا ہے جو خاندان کے ہر بیاہ میں کیٹرنگ کی بریانی پر نکتہ چینی کرے، جس کا پیٹ ہر سال 2 انچ بڑھے مگر خوشنودی رتی بھر نہ ہو، اور جو صبح 5:30 بجے سرخ گلاب کی تصویر کے ساتھ اخلاقیات کا گھسا پٹا پروپیگنڈا بھیج کر دن بھر سب کے جواب کا منتظر رہے۔ 2013 کے غضب ناک خطابات سے لے کر آج کے زوال تک، اگر ملکی سیاست کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ تلملائے ہوئے اور سب سے مستقل مزاج پھوپھا کی تلاش نکلے، تو شجرۂ نسب سیدھا اِسی ایک واسکٹ پوش سفید ریش بزرگ کی چوکھٹ پر جا کر رکے گا۔ علمِ نفسیات میں اس کیفیت کو پروجیکشن کہتے ہیں، یعنی چور خود چوک پر کھڑا ہو کر مجمعے کو متنبہ کرے کہ خبردار، فلاں شخص جیب کترنے کی تاک میں ہے۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ جین زی اپنی خیالی دنیا میں مگن ضرور رہتی ہے، لیکن حکمرانوں کی کھوکھلی خطابت کو سچ ماننے پر تیار نہیں۔ نوجوانوں کے منسوخ شدہ امتحانی پرچوں اور چھینی گئی ملازمتوں کے عوض انہیں کھوکھلی میمز کا چورن نہیں بیچا جا سکتا۔ یہ وہ نسل ہے جو 1 پل میں براؤزر ہسٹری صاف کر دیتی ہے۔ وہ کسی بزرگ کو پاپ کارن کی طرح اچھلتے دیکھ کر یہ نہیں کہتی کہ "واہ کیا جوان سوچ ہے”، بلکہ کمنٹ باکس میں ایک سپاٹ ایموجی بنا کر اسکرول آگے بڑھا دیتی ہے۔
آخرکار، جب عمرِ عزیز کے 75 کوٹھے جل چکے ہوں، تو انسان کو بالوں کی قدرتی سفیدی قبول کر لینی چاہیے اور یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ کیمرے کے سامنے جبڑا ٹیڑھا کر کے پوز بنانے سے سنِ پیدائش تبدیل نہیں ہوتا۔ پردھان سیوک کو شاید کسی نے سمجھایا ہی نہیں کہ نوجوانی عمر کے عدد سے نہیں، بلکہ فکر کی تازگی سے عبارت ہے۔ جب ذہن کے سرورز فرسودہ منافرت کے وائرس سے اَٹے پڑے ہوں،


