ہماری آنگن واڑی، ہماری ذمہ داری

 

 

اَنپورنا دیوی

2047 کا وکست بھارت ان بچوں کے ہاتھوں سے تعمیر ہوگا، جو ابھی اسکول کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچے ہیں۔ ان کے صحت مند اور قابل بننے کے سفر کی سب سے اہم بنیاد زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں میں ہی رکھی جاتی ہے۔ کروڑوں بھارتی بچوں اور ماؤں کے لیے اس سفر کا قابل بھروسہ سہارا ان کے آس پاس ہی ’ آنگن واڑی‘کی شکل میں موجود ہے۔
اسکول جانے سے بہت پہلے بچے کا وزن اور لمبائی آنگن واڑی میں ناپی جاتی ہے۔ وہیں اسے گرم پکا ہوا کھانا اور گھر سے باہر کی دنیا سے جڑنے کا پہلا موقع ملتا ہے، اور حاملہ ماں کو غذائیت سے متعلق پہلی معلومات و مشورہ بھی۔ ملک بھر کے تقریباً 14 لاکھ آنگن واڑی مراکز9.8کروڑ سے زیادہ بچوں، خواتین اور نوعمر لڑکیوں تک پہنچ رہے ہیں، اور انہیں چلانے والی 25.2 لاکھ کارکنان اور معاون خواتین اسی سماج سے تعلق رکھتی ہیں، جس کی وہ خدمت کرتی ہیں۔ آنگن واڑی ہمارے معاشرے سے الگ کوئی نظام نہیں، بلکہ ہمارے اپنے پڑوس کا ایک حصہ ہے۔
مارچ 2018 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے پوشن ابھیان کا آغاز کرکے اسی جانے پہچانے نظام کو ملک گیر عوامی تحریک کی مضبوط بنیاد بنایا۔ اس سال 9واں راشٹریہ پوشن ماہ 9 ستمبر 2026 سے ’’ہماری آنگن واڑی، ہماری ذمہ داری‘‘ موضوع کے ساتھ شروع ہوا۔ معیاری خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری پوری طرح حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور یہ عزم غیر متزلزل ہے۔ تاہم ایک آنگن واڑی مرکز حقیقی معنوں میں تبھی ترقی کرتا ہے جب معاشرہ اسے اپنے ایک حصے کے طور پر اپنا لے۔ ایک ‘وِکست بھارت’ صرف ‘سب کا پریاس’ سے ہی تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ تغذیہ کو محض ایک سرکاری خدمت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
استفادہ کنندہ سے حصہ دار تک
معاشرے کی ملکیت کا احساس اکثر محض ایک اپیل تک ہی محدود رہا ہے۔ اس سال یہ ایک ادارے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ آنگن واڑی انتظامی کمیٹیاں والدین، پنچایت کے نمائندوں اور سیلف ہیلپ گروپس (خواتین کے امدادِ باہمی کے گروپوں) کو مرکزی حیثیت دلاتی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر اہل بچے تک رسائی حاصل ہو۔ سماجی آڈٹ برادریوں کو خدمات کا جائزہ لینے، حقداروں کی تصدیق کرنے اور باضابطہ طور پر نتائج کو ریکارڈ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس طرح جوابدہی کا عمل، خدمات حاصل کرنے والے خاندانوں کے اندرونی تصدیقی نظام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مائیں اس پورے عمل کا مرکز و محور ہیں۔ ایس این پی مینو بورڈ گرم پکے ہوئے کھانوں اور گھر لے جانے والے راشن کے لیے دن کے حساب سے مقررہ حقداریاں ظاہر کرتا ہے۔ جب ایک ماں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بچہ کس چیز کا حقدار ہے، تو شفافیت روزمرہ کا معمول بن جاتی ہے۔ اس طرح سماج معیار کو یقینی بنانے میں ایک باخبر شراکت دار بن جاتا ہے۔
پوشان ماہ 2026 کے دوران، ‘تِتھی بھوج’، ٹیسٹنگ سیشنز اور کھانوں کی تراکیب کے عملی مظاہروں کے ساتھ ساتھ، کمیٹیوں، سوشل آڈٹ اور مینو بورڈز کو بھی فعال کیا جا رہا ہے۔
مینیو بورڈ سے آگے
پہلی چیز خود غذا ہے۔ ایک سپوشت بھارت(صحت مند اور غذائیت سے بھرپور بھارت) کے لیے متوازن غذا ضروری ہے: جیسے اناج اور موٹا اناج، دالیں، گری دار میوے اور بیج، دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات، انڈے، موسمی پھل اور ہری سبزیاں۔ جولائی میں جاری کردہ تکمیلی غذائیت کے پروگرام، 2026′ کی جامع رہنما ہدایات، گرم پکے ہوئے کھانوں کی وضاحت کرتی ہیں اورنیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ، 2013’ کے تحت مائیکرو نیوٹرینٹ کے اصولوں کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
دوسری چیز ابتدائی تعلیم و تربیت ہے۔ بچہ جو کچھ کھاتا ہے اور جو کچھ سیکھتا ہے، وہ آپس میں مضبوطی سے مربوط ہیں۔ آنگن واڑی کارکنان بچے کے ابتدائی تین برسوں میں نشوونما کے 34 اہم مراحل کی نگرانی کرتی ہیں۔ وچیتنا اور آدھار شلاکے نصاب، غذائیت اور دیکھ بھال کو اسکول کے لیے ذہنی آمادگی کے عمل کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔
تیسری چیز بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ حمل کے دوران ایک ماں کی اپنی غذائیت، اس کے بچے کی زندگی کی شروعات کو سنوارتی ہے۔ یہ پوشان ماہ ‘پردھان منتری ماترُو وندنا یوجنا’ کے دس سال مکمل ہونے کی علامت ہے، جو وزیر اعظم کے اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی بھی خاتون کو اپنی کمائی اور صحت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ایک دہائی گزرنے کے بعد، 65.4کروڑ مستفیدین کو براہ راست ان کے کھاتوں میں 21511 کروڑ روپے موصول ہوئے ہیں۔ مشن شکتی کے تحت مزید مضبوط کی گئی یہ اسکیم، دوسری بیٹی کی پیدائش پر اضافی فائدہ فراہم کرتی ہے۔ اقتصادی سروے26- 2025واضح کرتا ہے کہ اس طرح کی نقد رقم کی منتقلی اپنے مکمل مقصد کو تبھی حاصل کرتی ہے جب اس کے ساتھ ایسی مشاورت بھی فراہم کی جائے جو خاندان کے اندر باخبر فیصلے کرنے کے قابل بنائے۔ راجستھان کے ‘کیش پلس’ ماڈل کا جائزہ لیتے ہوئے، جس نے ان مالی منتقلیوں کو مستقل طرزِ عمل کی تبدیلی کی گفتگو کے ساتھ جوڑا تھا، یہ ریکارڈ کیا گیا کہ اس امداد کو خوراک پر خرچ کرنے والی خواتین کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد ہو گیا، اور زچگی کی غذائیت سے متعلق غلط فہمیاں ختم ہو گئیں کیونکہ شوہر اور خاندان بھی اس گفتگو کا حصہ بنے۔ آنگن واڑیوں کے گرد شراکت داری اس لیے بڑھتی ہے کیونکہ ایک ماں کی غذائیت کو یقینی بنانا کبھی بھی تنہا اس کی ذمہ داری نہیں تھی۔
آنگن واڑی کارکن کا احترام
اس پورے عمل کے مرکز میں آنگن واڑی ورکر کھڑی ہے۔ معاشرتی ملکیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ غذائیت اور بچپن کی ابتدائی دیکھ بھال کا پورا بوجھ اسی پر ڈال دیا جائے۔ اس کا حقیقی مطلب اس کا احترام کرنا، اس کی حمایت کرنا اور اسے مضبوط بنانا ہے۔ اس کا علم اور اس پر عوام کا بھروسہ بے حد ضروری ہے۔
اس ستمبر، میں ہر شہری سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اپنے علاقے کی کم از کم ایک آنگن واڑی کا دورہ ضرور کریں۔ کارکن سے بات کیجیے، مینو بورڈ پڑھیے، بچوں کو ملنے والی خدمات کے بارے میں جانیے—اور سب سے اہم بات، یہ پوچھیے کہ آپ کیا تعاون کر سکتے ہیں۔
اس ستمبر جن بچوں کا وزن آنگن واڑی مراکز میں کیا جا رہا ہے، وہ 2047 میں تقریباً بیس پچیس سال کے ہوں گے۔ وہ جس صحت، خود اعتمادی اور صلاحیت کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیں گے، اس کی بنیاد آج رکھی جا رہی ہے۔ جب ہر معاشرہ اپنی آنگن واڑی کو اپنی ذمہ داری مان کر اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، تب ہر بچے کا مستقبل اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں متعدد مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے سر جوڑے

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/دو سال سے زائد عرصے کے وقفے...

اپنا انمول وقت عوام کی خدمت کیلئے اِستعمال کریں/وزیراعلیٰ کی نوتعینات اَفسران سے اپیل

 جنگ  نیوز سری نگر/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں ایس...

کیا وادی بڑے زلزلے کیلئے تیار ہے؟

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/کشمیر وادی ایک بار پھر زلزلے...

مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں اچانک سکیورٹی الرٹ

  جنگ نیوز سعودی عرب نے منگل کو مکہ مکرمہ، جدہ...

UPI سے رقم بھیجنا بدستور مفت،P2Pلین دین پر کوئی فیس نہیں

جنگ نیوز نئی دہلی/حکومت نے واضح کیا ہے کہ یونیفائیڈ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں متعدد مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے سر جوڑے

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/دو سال سے زائد عرصے کے وقفے...

اپنا انمول وقت عوام کی خدمت کیلئے اِستعمال کریں/وزیراعلیٰ کی نوتعینات اَفسران سے اپیل

 جنگ  نیوز سری نگر/وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں ایس...

کیا وادی بڑے زلزلے کیلئے تیار ہے؟

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/کشمیر وادی ایک بار پھر زلزلے...

مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں اچانک سکیورٹی الرٹ

  جنگ نیوز سعودی عرب نے منگل کو مکہ مکرمہ، جدہ...

UPI سے رقم بھیجنا بدستور مفت،P2Pلین دین پر کوئی فیس نہیں

جنگ نیوز نئی دہلی/حکومت نے واضح کیا ہے کہ یونیفائیڈ...

ہماری آنگن واڑی، ہماری ذمہ داری

 

 

اَنپورنا دیوی

2047 کا وکست بھارت ان بچوں کے ہاتھوں سے تعمیر ہوگا، جو ابھی اسکول کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچے ہیں۔ ان کے صحت مند اور قابل بننے کے سفر کی سب سے اہم بنیاد زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں میں ہی رکھی جاتی ہے۔ کروڑوں بھارتی بچوں اور ماؤں کے لیے اس سفر کا قابل بھروسہ سہارا ان کے آس پاس ہی ’ آنگن واڑی‘کی شکل میں موجود ہے۔
اسکول جانے سے بہت پہلے بچے کا وزن اور لمبائی آنگن واڑی میں ناپی جاتی ہے۔ وہیں اسے گرم پکا ہوا کھانا اور گھر سے باہر کی دنیا سے جڑنے کا پہلا موقع ملتا ہے، اور حاملہ ماں کو غذائیت سے متعلق پہلی معلومات و مشورہ بھی۔ ملک بھر کے تقریباً 14 لاکھ آنگن واڑی مراکز9.8کروڑ سے زیادہ بچوں، خواتین اور نوعمر لڑکیوں تک پہنچ رہے ہیں، اور انہیں چلانے والی 25.2 لاکھ کارکنان اور معاون خواتین اسی سماج سے تعلق رکھتی ہیں، جس کی وہ خدمت کرتی ہیں۔ آنگن واڑی ہمارے معاشرے سے الگ کوئی نظام نہیں، بلکہ ہمارے اپنے پڑوس کا ایک حصہ ہے۔
مارچ 2018 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے پوشن ابھیان کا آغاز کرکے اسی جانے پہچانے نظام کو ملک گیر عوامی تحریک کی مضبوط بنیاد بنایا۔ اس سال 9واں راشٹریہ پوشن ماہ 9 ستمبر 2026 سے ’’ہماری آنگن واڑی، ہماری ذمہ داری‘‘ موضوع کے ساتھ شروع ہوا۔ معیاری خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری پوری طرح حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور یہ عزم غیر متزلزل ہے۔ تاہم ایک آنگن واڑی مرکز حقیقی معنوں میں تبھی ترقی کرتا ہے جب معاشرہ اسے اپنے ایک حصے کے طور پر اپنا لے۔ ایک ‘وِکست بھارت’ صرف ‘سب کا پریاس’ سے ہی تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ تغذیہ کو محض ایک سرکاری خدمت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
استفادہ کنندہ سے حصہ دار تک
معاشرے کی ملکیت کا احساس اکثر محض ایک اپیل تک ہی محدود رہا ہے۔ اس سال یہ ایک ادارے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ آنگن واڑی انتظامی کمیٹیاں والدین، پنچایت کے نمائندوں اور سیلف ہیلپ گروپس (خواتین کے امدادِ باہمی کے گروپوں) کو مرکزی حیثیت دلاتی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر اہل بچے تک رسائی حاصل ہو۔ سماجی آڈٹ برادریوں کو خدمات کا جائزہ لینے، حقداروں کی تصدیق کرنے اور باضابطہ طور پر نتائج کو ریکارڈ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس طرح جوابدہی کا عمل، خدمات حاصل کرنے والے خاندانوں کے اندرونی تصدیقی نظام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مائیں اس پورے عمل کا مرکز و محور ہیں۔ ایس این پی مینو بورڈ گرم پکے ہوئے کھانوں اور گھر لے جانے والے راشن کے لیے دن کے حساب سے مقررہ حقداریاں ظاہر کرتا ہے۔ جب ایک ماں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بچہ کس چیز کا حقدار ہے، تو شفافیت روزمرہ کا معمول بن جاتی ہے۔ اس طرح سماج معیار کو یقینی بنانے میں ایک باخبر شراکت دار بن جاتا ہے۔
پوشان ماہ 2026 کے دوران، ‘تِتھی بھوج’، ٹیسٹنگ سیشنز اور کھانوں کی تراکیب کے عملی مظاہروں کے ساتھ ساتھ، کمیٹیوں، سوشل آڈٹ اور مینو بورڈز کو بھی فعال کیا جا رہا ہے۔
مینیو بورڈ سے آگے
پہلی چیز خود غذا ہے۔ ایک سپوشت بھارت(صحت مند اور غذائیت سے بھرپور بھارت) کے لیے متوازن غذا ضروری ہے: جیسے اناج اور موٹا اناج، دالیں، گری دار میوے اور بیج، دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات، انڈے، موسمی پھل اور ہری سبزیاں۔ جولائی میں جاری کردہ تکمیلی غذائیت کے پروگرام، 2026′ کی جامع رہنما ہدایات، گرم پکے ہوئے کھانوں کی وضاحت کرتی ہیں اورنیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ، 2013’ کے تحت مائیکرو نیوٹرینٹ کے اصولوں کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
دوسری چیز ابتدائی تعلیم و تربیت ہے۔ بچہ جو کچھ کھاتا ہے اور جو کچھ سیکھتا ہے، وہ آپس میں مضبوطی سے مربوط ہیں۔ آنگن واڑی کارکنان بچے کے ابتدائی تین برسوں میں نشوونما کے 34 اہم مراحل کی نگرانی کرتی ہیں۔ وچیتنا اور آدھار شلاکے نصاب، غذائیت اور دیکھ بھال کو اسکول کے لیے ذہنی آمادگی کے عمل کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔
تیسری چیز بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ حمل کے دوران ایک ماں کی اپنی غذائیت، اس کے بچے کی زندگی کی شروعات کو سنوارتی ہے۔ یہ پوشان ماہ ‘پردھان منتری ماترُو وندنا یوجنا’ کے دس سال مکمل ہونے کی علامت ہے، جو وزیر اعظم کے اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی بھی خاتون کو اپنی کمائی اور صحت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ایک دہائی گزرنے کے بعد، 65.4کروڑ مستفیدین کو براہ راست ان کے کھاتوں میں 21511 کروڑ روپے موصول ہوئے ہیں۔ مشن شکتی کے تحت مزید مضبوط کی گئی یہ اسکیم، دوسری بیٹی کی پیدائش پر اضافی فائدہ فراہم کرتی ہے۔ اقتصادی سروے26- 2025واضح کرتا ہے کہ اس طرح کی نقد رقم کی منتقلی اپنے مکمل مقصد کو تبھی حاصل کرتی ہے جب اس کے ساتھ ایسی مشاورت بھی فراہم کی جائے جو خاندان کے اندر باخبر فیصلے کرنے کے قابل بنائے۔ راجستھان کے ‘کیش پلس’ ماڈل کا جائزہ لیتے ہوئے، جس نے ان مالی منتقلیوں کو مستقل طرزِ عمل کی تبدیلی کی گفتگو کے ساتھ جوڑا تھا، یہ ریکارڈ کیا گیا کہ اس امداد کو خوراک پر خرچ کرنے والی خواتین کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد ہو گیا، اور زچگی کی غذائیت سے متعلق غلط فہمیاں ختم ہو گئیں کیونکہ شوہر اور خاندان بھی اس گفتگو کا حصہ بنے۔ آنگن واڑیوں کے گرد شراکت داری اس لیے بڑھتی ہے کیونکہ ایک ماں کی غذائیت کو یقینی بنانا کبھی بھی تنہا اس کی ذمہ داری نہیں تھی۔
آنگن واڑی کارکن کا احترام
اس پورے عمل کے مرکز میں آنگن واڑی ورکر کھڑی ہے۔ معاشرتی ملکیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ غذائیت اور بچپن کی ابتدائی دیکھ بھال کا پورا بوجھ اسی پر ڈال دیا جائے۔ اس کا حقیقی مطلب اس کا احترام کرنا، اس کی حمایت کرنا اور اسے مضبوط بنانا ہے۔ اس کا علم اور اس پر عوام کا بھروسہ بے حد ضروری ہے۔
اس ستمبر، میں ہر شہری سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اپنے علاقے کی کم از کم ایک آنگن واڑی کا دورہ ضرور کریں۔ کارکن سے بات کیجیے، مینو بورڈ پڑھیے، بچوں کو ملنے والی خدمات کے بارے میں جانیے—اور سب سے اہم بات، یہ پوچھیے کہ آپ کیا تعاون کر سکتے ہیں۔
اس ستمبر جن بچوں کا وزن آنگن واڑی مراکز میں کیا جا رہا ہے، وہ 2047 میں تقریباً بیس پچیس سال کے ہوں گے۔ وہ جس صحت، خود اعتمادی اور صلاحیت کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیں گے، اس کی بنیاد آج رکھی جا رہی ہے۔ جب ہر معاشرہ اپنی آنگن واڑی کو اپنی ذمہ داری مان کر اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، تب ہر بچے کا مستقبل اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون