
مجھے اس درد سے تو بیگانہ کردے
کرم مجھ پہ اب اے زمانہ کردے
وہ جو گزرا دفتر ماضی میں رکھ کر
اے شوق ِمنفعل! اُسے فسانہ کردے
میں بھٹکتا ہی پھررہاہوں مارے تیرے
اب تو آنے کا کوئی کوئی بہانہ کردے
حق ہے میرا،میرے نام کا تو کوئی حصہ
دن کاگر نہ سہی، پھر بھی شبانہ کردے
بڑا دشوار ہے اس حال میں چین سے رہنا
اے میرے رب! مجھے ماضی سے انجانہ کردے
اب توطوفان سے نکال اپنی یہ کشتی ساحلؔ
یا اسے نذ رِ دلِ موجِ روانہ کردے


