چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری نگر نے 2026 کی تیسری قومی لوک عدالت ضلع عدالت کمپلیکس مومن آباد سری نگر اور ایڈیشنل اسپیشل موبائل مجسٹریٹ/جے ایم آئی سی پنتھہ چوک کی عدالت میں منعقد کی۔
لوک عدالت کا افتتاح ڈاکٹر پشپیندر سنگھ بھاٹی، چیف جسٹس جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ اور سرپرستِ اعلیٰ جموں و کشمیر قانونی خدمات اتھارٹی نے کیا۔ اس موقع پر جسٹس سنجیو کمار، ایگزیکٹو چیئرمین جموں و کشمیر قانونی خدمات اتھارٹی، ایم کے شرما، رجسٹرار جنرل ہائی کورٹ، شازیہ تبسم، ممبر سیکریٹری جموں و کشمیر قانونی خدمات اتھارٹی اور حق نواز زرگر، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج و چیئرمین ڈی ایل ایس اے سری نگر سمیت دیگر عدالتی افسران موجود تھے۔
چیف جسٹس نے مختلف بنچوں کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک عدالت محض تنازعات کے حل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں فریقین باہمی رضامندی سے قابلِ قبول حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے وقت اور مقدمات کے اخراجات میں کمی کے ساتھ عوام میں خیرسگالی کو فروغ ملتا ہے۔
ضلع میں مقدمات کے دوستانہ تصفیے کے لئے 11 بنچ قائم کیے گئے، جن کے سامنے مجموعی طور پر 9888 مقدمات پیش ہوئے، جن میں سے 9394 مقدمات نمٹائے گئے۔
موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل (MACT) کے بنچ نے 85 مقدمات میں سے 33 کا تصفیہ کیا اور 6 کروڑ 72 لاکھ 35 ہزار روپے بطور معاوضہ منظور کیے۔ ان میں سے 3 کروڑ 42 لاکھ 45 ہزار روپے کے چیک موقع پر ہی دعویداروں میں تقسیم کیے گئے۔
بنچ نمبر 5، جس کی صدارت فدا حسین نائیک، میونسپل مجسٹریٹ سری نگر نے کی اور جس میں جنید امتیاز میر، سب جج سری نگر شامل تھے، نے 63 میں سے 19 مقدمات نمٹائے، جن میں 101 کروڑ 24 لاکھ 17 ہزار 752 روپے کی رقم طے ہوئی۔
مجموعی طور پر لوک عدالت میں نمٹائے گئے مقدمات میں 111 کروڑ 14 لاکھ 88 ہزار 832 روپے بطور تصفیہ رقم منظور کیے گئے۔
حکام کے مطابق لوک عدالت میں سول مقدمات، ازدواجی تنازعات، قابلِ مصالحت فوجداری مقدمات، بینک وصولیوں اور مقدمہ دائر ہونے سے قبل کے معاملات سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات نمٹائے گئے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے ساتھ عوام کے قانونی نظام پر اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

میرواعظ کشمیر کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات

  جنگ نیوز میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے...

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

میرواعظ کشمیر کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات

  جنگ نیوز میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری نگر نے 2026 کی تیسری قومی لوک عدالت ضلع عدالت کمپلیکس مومن آباد سری نگر اور ایڈیشنل اسپیشل موبائل مجسٹریٹ/جے ایم آئی سی پنتھہ چوک کی عدالت میں منعقد کی۔
لوک عدالت کا افتتاح ڈاکٹر پشپیندر سنگھ بھاٹی، چیف جسٹس جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ اور سرپرستِ اعلیٰ جموں و کشمیر قانونی خدمات اتھارٹی نے کیا۔ اس موقع پر جسٹس سنجیو کمار، ایگزیکٹو چیئرمین جموں و کشمیر قانونی خدمات اتھارٹی، ایم کے شرما، رجسٹرار جنرل ہائی کورٹ، شازیہ تبسم، ممبر سیکریٹری جموں و کشمیر قانونی خدمات اتھارٹی اور حق نواز زرگر، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج و چیئرمین ڈی ایل ایس اے سری نگر سمیت دیگر عدالتی افسران موجود تھے۔
چیف جسٹس نے مختلف بنچوں کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک عدالت محض تنازعات کے حل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں فریقین باہمی رضامندی سے قابلِ قبول حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے وقت اور مقدمات کے اخراجات میں کمی کے ساتھ عوام میں خیرسگالی کو فروغ ملتا ہے۔
ضلع میں مقدمات کے دوستانہ تصفیے کے لئے 11 بنچ قائم کیے گئے، جن کے سامنے مجموعی طور پر 9888 مقدمات پیش ہوئے، جن میں سے 9394 مقدمات نمٹائے گئے۔
موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل (MACT) کے بنچ نے 85 مقدمات میں سے 33 کا تصفیہ کیا اور 6 کروڑ 72 لاکھ 35 ہزار روپے بطور معاوضہ منظور کیے۔ ان میں سے 3 کروڑ 42 لاکھ 45 ہزار روپے کے چیک موقع پر ہی دعویداروں میں تقسیم کیے گئے۔
بنچ نمبر 5، جس کی صدارت فدا حسین نائیک، میونسپل مجسٹریٹ سری نگر نے کی اور جس میں جنید امتیاز میر، سب جج سری نگر شامل تھے، نے 63 میں سے 19 مقدمات نمٹائے، جن میں 101 کروڑ 24 لاکھ 17 ہزار 752 روپے کی رقم طے ہوئی۔
مجموعی طور پر لوک عدالت میں نمٹائے گئے مقدمات میں 111 کروڑ 14 لاکھ 88 ہزار 832 روپے بطور تصفیہ رقم منظور کیے گئے۔
حکام کے مطابق لوک عدالت میں سول مقدمات، ازدواجی تنازعات، قابلِ مصالحت فوجداری مقدمات، بینک وصولیوں اور مقدمہ دائر ہونے سے قبل کے معاملات سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات نمٹائے گئے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے ساتھ عوام کے قانونی نظام پر اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں