غزل: جاوید قسیم

 

بھائیوں کے درمیاں بنٹتا ہوا گھر دیکھنا
اپنے ہی نیزے پہ رکّھا اپنا ہی سر دیکھنا
اُن کی در پردہ ملاقاتوں کا منظر دیکھنا
ضبط کے قابل نہیں ہوگا میاں پر دیکھنا
یوں ہتھیلی وا نہ کی ہم نے کسی کے سامنے
کیا کسی کے ہاتھ میں اپنا مقدّر دیکھنا
عشق ہے ایسا تماشا جس میں لازم ہے فنا
یہ تماشا بھی یہاں سب کچھ لُٹا کر دیکھنا
زندگی مزدور کی تم کو سمجھ میں آئیگی
اپنے سر پے بوجھ سورج کا اٹھا کر دیکھنا
قتل کا الزام بھی مقتول کے سر آ گیا
اِس سے بڑھ کر اور کیا اب عدلِ احقر دیکھنا
ہم نے اب تک جانا تھا ان کو صداقت کے سفیر
اب اُلٹ کردار میں گاندھی کے بندر دیکھنا
نفرتوں کی بستیوں سے ہو کے جب تم جاؤگے
امن کی چھتری پہ بیٹھے ہیں کبوتر دیکھنا
گر یہی طرزِ تکلم ہے تمھارے بیچ میں
دوستوں کے درمیاں نکلنگے خنجر دیکھنا
تشنہ دل کی وادیوں میں پیاس کا بارـ ہجوم
ریت کے صحرا میں جھلمل اک سمندر دیکھنا
گر یہی صورت ہے اہلِ ابرہہ کے ظلم کی
ایک دن پھر سے ابابیلوں کے لشکر دیکھنا

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

غزل: جاوید قسیم

 

بھائیوں کے درمیاں بنٹتا ہوا گھر دیکھنا
اپنے ہی نیزے پہ رکّھا اپنا ہی سر دیکھنا
اُن کی در پردہ ملاقاتوں کا منظر دیکھنا
ضبط کے قابل نہیں ہوگا میاں پر دیکھنا
یوں ہتھیلی وا نہ کی ہم نے کسی کے سامنے
کیا کسی کے ہاتھ میں اپنا مقدّر دیکھنا
عشق ہے ایسا تماشا جس میں لازم ہے فنا
یہ تماشا بھی یہاں سب کچھ لُٹا کر دیکھنا
زندگی مزدور کی تم کو سمجھ میں آئیگی
اپنے سر پے بوجھ سورج کا اٹھا کر دیکھنا
قتل کا الزام بھی مقتول کے سر آ گیا
اِس سے بڑھ کر اور کیا اب عدلِ احقر دیکھنا
ہم نے اب تک جانا تھا ان کو صداقت کے سفیر
اب اُلٹ کردار میں گاندھی کے بندر دیکھنا
نفرتوں کی بستیوں سے ہو کے جب تم جاؤگے
امن کی چھتری پہ بیٹھے ہیں کبوتر دیکھنا
گر یہی طرزِ تکلم ہے تمھارے بیچ میں
دوستوں کے درمیاں نکلنگے خنجر دیکھنا
تشنہ دل کی وادیوں میں پیاس کا بارـ ہجوم
ریت کے صحرا میں جھلمل اک سمندر دیکھنا
گر یہی صورت ہے اہلِ ابرہہ کے ظلم کی
ایک دن پھر سے ابابیلوں کے لشکر دیکھنا

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں