
بھائیوں کے درمیاں بنٹتا ہوا گھر دیکھنا
اپنے ہی نیزے پہ رکّھا اپنا ہی سر دیکھنا
اُن کی در پردہ ملاقاتوں کا منظر دیکھنا
ضبط کے قابل نہیں ہوگا میاں پر دیکھنا
یوں ہتھیلی وا نہ کی ہم نے کسی کے سامنے
کیا کسی کے ہاتھ میں اپنا مقدّر دیکھنا
عشق ہے ایسا تماشا جس میں لازم ہے فنا
یہ تماشا بھی یہاں سب کچھ لُٹا کر دیکھنا
زندگی مزدور کی تم کو سمجھ میں آئیگی
اپنے سر پے بوجھ سورج کا اٹھا کر دیکھنا
قتل کا الزام بھی مقتول کے سر آ گیا
اِس سے بڑھ کر اور کیا اب عدلِ احقر دیکھنا
ہم نے اب تک جانا تھا ان کو صداقت کے سفیر
اب اُلٹ کردار میں گاندھی کے بندر دیکھنا
نفرتوں کی بستیوں سے ہو کے جب تم جاؤگے
امن کی چھتری پہ بیٹھے ہیں کبوتر دیکھنا
گر یہی طرزِ تکلم ہے تمھارے بیچ میں
دوستوں کے درمیاں نکلنگے خنجر دیکھنا
تشنہ دل کی وادیوں میں پیاس کا بارـ ہجوم
ریت کے صحرا میں جھلمل اک سمندر دیکھنا
گر یہی صورت ہے اہلِ ابرہہ کے ظلم کی
ایک دن پھر سے ابابیلوں کے لشکر دیکھنا


