غزل: ساحلؔ عرفان شفیع

 

مجھے اس درد سے تو بیگانہ کردے
کرم مجھ پہ اب اے زمانہ کردے
وہ جو گزرا دفتر ماضی میں رکھ کر
اے شوق ِمنفعل! اُسے فسانہ کردے
میں بھٹکتا ہی پھررہاہوں مارے تیرے
اب تو آنے کا کوئی کوئی بہانہ کردے
حق ہے میرا،میرے نام کا تو کوئی حصہ
دن کاگر نہ سہی، پھر بھی شبانہ کردے
بڑا دشوار ہے اس حال میں چین سے رہنا
اے میرے رب! مجھے ماضی سے انجانہ کردے
اب توطوفان سے نکال اپنی یہ کشتی ساحلؔ
یا اسے نذ رِ دلِ موجِ روانہ کردے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

غزل: ساحلؔ عرفان شفیع

 

مجھے اس درد سے تو بیگانہ کردے
کرم مجھ پہ اب اے زمانہ کردے
وہ جو گزرا دفتر ماضی میں رکھ کر
اے شوق ِمنفعل! اُسے فسانہ کردے
میں بھٹکتا ہی پھررہاہوں مارے تیرے
اب تو آنے کا کوئی کوئی بہانہ کردے
حق ہے میرا،میرے نام کا تو کوئی حصہ
دن کاگر نہ سہی، پھر بھی شبانہ کردے
بڑا دشوار ہے اس حال میں چین سے رہنا
اے میرے رب! مجھے ماضی سے انجانہ کردے
اب توطوفان سے نکال اپنی یہ کشتی ساحلؔ
یا اسے نذ رِ دلِ موجِ روانہ کردے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں