
سراج نقوی
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات قریب دیکھ کر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھ پائوں پھول گئے ہیں۔اس لئے کہ بیشتر سروے بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھاری کمی آئی ہے،اور یہ رجحان جاری رہا تو ان کی پارٹی کو شکست کا منھ دیکھنا پڑ سکتاہے،اور اگر ایسا ہوا تو ان کی پارٹی امریکی کانگریس میں اکثریت سے محروم ہو جائیگی۔اس کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کانگریس کے ذریعے رد کیے جانے کا خطرہ ٹرمپ کے سر پر منڈراتا رہے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ میں آئیندہ تین نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں۔اس کے تحت ایوان نمائیندگان کی تمام435نشستوں پر ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ان انتخابات میں سینیٹ کی ایک تہائی
نشستوں کے لئے الیکشن ہونا ہے۔اس کے علاوہ کئی ریاستوں کے گورنروں مقامی سطح کے بھی کچھ عہدیداروں کا اس الیکشن میں انتخاب ہونا ہے۔ٹرمپ کی پریشانی یہ ہے کہ اگر ان کی ریپبلیکن پارٹی یہ الیکشن ہار جاتی ہے ،اور ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس یا سینیٹ یا دونوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے، تو اس کا راست اثر صدر کو حاصل وسیع تر اختیارات پر پڑیگا۔اس لئے کہ کسی بھی معاملے میں قانون سازی اور بجٹ پاس کرنے کا اختیارایوانوںکو ہی ہوتا ہے۔ شکست کی صورت میں ٹرمپ نئے قوانین نہیں پاس کرا سکیںگے۔جبکہ امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنانا،ٹیکسوں میں مزید تخفیف جیسے ٹرمپ کے ایجنڈے پر عمل درآمد نہیں ہو سکیگا۔ٹرمپ کے اس ایجنڈے کے برعکس ڈیموکریٹس ایسے قوانین پاس کرانے کی کوشش کرینگے جو ٹرمپ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے معاملے میں قدغن لگا سکتے ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹرمپ کو بار بار اپنے مخالفین کو روکنے کے لئے ویٹو کا استعمال کرناپڑیگا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بجٹ پاس کرانے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ٹرمپ کی پارٹی کے کانگریس میں اکثریت کھو دینے سے صدر کے منصوبوں پر عمل کرنا مشکل ہو جائے گا۔اسی طرح سے جنگ کے ماحول میں صدر کے لئے دفاعی بجٹ کے لئے مزید فنڈ حاصل کرنا بھی مشکل ہوگا۔اس کا اثر کچھ سرکاری اداروں پر پڑے گا اور وہ بند بھی ہو سکتے ہیں۔یعنی ماضی قریب کی طرح ’شٹ ڈائون‘ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔اسی طرح سرکاری کمپنیوں کا کنٹرول بھی ڈیموکریٹس کے پاس جا سکتا ہے۔ان سرکاری سطح کی مشکلات کے ساتھ ساتھ خود ٹرمپ کے کاروبار پر بھی اس کے منفی اثرات پڑنے کے اندیشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ممکن ہے کہ ان کی پالیسیوں اور کاروبار کے خلاف تحقیقات کے دروازے کھل جائیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا خطرہ بہت دن سے منڈرا رہا ہے۔اگر ان کی پارٹی کو وسط مدتی الیکشن میں شکست ہوتی ہے تو ایک مرتبہ پھر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا امکان بڑھ جائے گا۔شکست کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ڈیمو کریٹک پارٹی سیسنیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو ٹرمپ سپریم کورٹ یا وفاقی عدالتوں میں اپنی پسند کے ججوں کا تقرر نہیں کر سکیں گے۔اسی طرح وزراء کی تقرری ،اہم سفیروں کی تقرری،کے لئے بھی سینیٹ کی منظوری لازمی ہوتی ہے،اور ریپبلیکن پارٹی کی شکست سے یہ منظوری ملنا مشکل ہو جائے گا۔ان تمام حالات کا منفی اثر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑیگا اور عالمی سطح پر ان کی سیاسی طاقت کم ہو جائے گی۔ظاہر ہے ایک کمزور صدر کے ساتھ دوسرے ممالک کوئی ایسا معاہدہ یا ڈیل کرنے سے گریز کرینگے کہ جن پر عمل درآمد کے لئے ٹرمپ کو اپوزیشن کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے اور وہ اپنے فیصلوں کے معاملے میں اپوزیشن کے پابند ہو جائیں۔
یہی تمام اسباب ہیں کہ جو ٹرمپ کو پریشان کیے ہوئے ہیں اور انھیں ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کی طرز پرعوام سے ایسے وعدے کرنے پرمجبور کررہے ہیں کہ جن پر عمل خود انکے لئے نئے مسئلے پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔شائد اسی لئے بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے وسط مدتی الیکشن میں جیت حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے انتخابات جیسا انتخابی وعدہ کیا ہے۔
دراصل ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ’ اگر وسط مدتی الیکشن میں ریپبلیکن پارٹی کا کانگریس پر دبدبہ برقرار رہتا ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو پانچ ہزار ڈالر کا امریکی ڈیویڈنڈ دینگے۔‘ٹرمپ کے اس وعدے پر ہندوستانی میڈیا خصوصاً ’دی ہندو‘ جیسے بڑے اور موقر انگریزی اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ورگیز کے جارج نے بہت دلچسپ اور معنی ْخیزتبصرہ کیا ہے کہ ’’ٹرمپ ہندوستان میں الیکشن جیتنے کے فارمولے کی کاپی کر رہے ہیں۔‘‘ بی بی سی کی رپورٹ میں اس بات کو بھی یاد دلایا گیا ہے کہ ٹرمپ چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا گیانیش کمار کی بھی تعریف کر چکے ہیں۔ٹرمپ کے اس بیان کو یاد دلانا اور ان کے انتخابی وعدے پر ’دی ہندو‘ کا تبصرہ بین السطور بہت کچھ کہتا ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہندستان میں تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں ہی الیکشن کے موقع پر کس طرح جھوٹے وعدوں کی گٹھری کھول دیتی ہیں،لیکن ان میں سے بیشتر وعدے صرف وعدے ہی رہتے ہیں اور عوام بھی ایسے وعدوں کو بھلانے کے عادی ہو چکے ہیں۔یاد کیجیے کہ کس طرح بی جے پی نے 2014کے پارلیمانی الیکشن میں ہر ووٹر کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپئے ڈالنے کا وعدہ کیا تھا،لیکن جب کئی سال گزرنے کے بعد اس وعدے کی یاد دلائی گئی تو اسے محض’’جملہ‘‘ کہہ کر اس وعدے سے پلّہ جھاڑ لیا گیا۔ اب ذرا ٹرمپ کے اس وعدے پر غور کریں کہ اگر وسط مدتی الیکشن میں ریپبلیکن پارٹی اپنی پوزیشن برقرار رکھتی ہے تو ٹرمپ امریکہ کے ہر بالغ شہری کو پانچ ہزار ڈالر کا ڈیویڈنڈ دیں گے۔ٹرمپ نے ڈلاس میں ریپبلیکن پارٹی کے پہلے وسط مدتی کنوینشن کے شروع میں ہی یہ اعلان کیا ہے۔انھوں ووٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ،’’وہ بس یہ مان کر چلیں کہ میں بس ایک بار اور بیلٹ پر ہوں۔‘‘ٹرمپ نے ملک کی معیشت کے تعلق سے بھی کچھ ایسے دعوے کیے اور عوام کو فرضی تصویر دکھائی کہ جس پر یقین کرنا مشکل ہے۔اس لئے کہ دنیا جانتی ہے کہ اس وقت امریکی معیشت ایک خطرناک بحران کی سمت بڑھنے کے خطرے سے دوچار ہے۔۔ایسے میں ٹرمپ کا یہ کہنا محض جملہ ہے کہ ’’معیشت کے معاملے میں ہماری طاقت اور کامیابی بہت بڑی ہے۔ٹھیک ویسے ہی جیسے کوئی کامیاب کمپنی اپنے شئیر ہولڈروں کو نقد دیتی ہے۔‘‘ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ ٹرمپ جتنی رقم دینے کا وعدہ کر رہے ہیں وہ ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ظاہر ہے امریکی معیشت پر اتنابوجھ ڈالنے کے حالات فی الحال نہیں ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ اس رقم کو حاصل کرنے کے لئے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔اسی لئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ سرکاری پیسے سے ووٹ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس تعلق سے بھی اگر ہندوستان کی مودی سرکار کی اقتصادی پالیسیوں پر نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جائیگا کہ ٹرمپ کماز کم انتخابی وعدوں کے تعلق سے تو ہندوستان کو ’وشو گرو‘ مان ہی رہے ہیں اور مودی سرکار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انتخابی وعدے کر رہے ہیں۔لیکن ٹرمپ شائد اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ امریکی عوام اور ہندوستانی عوام کے سیاسی شعور میں بہت فرق ہے۔امریکی عوام ٹرمپ سے اس وقت بری طرح ناراض ہیں۔یہ ناراضگی اس حد تک ہے کہ اسرائیل سے امریکہ کی پرانی دوستی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔دراصل اسرائیل کے اشارے پر امریکہ نے ایران پر جو جنگ تھوپی ہے وہ اب بھی جاری ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ اس جنگ میں اب تک مطلوبہ نشانوں کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ خود امریکی میڈیا اور دفاعی ماہرین بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے۔حالات یہ ہیں ٹرمپ اپنی ساکھ بچانے کے لئے بار بار ایران پر اب بھی حملے کر رہے ہیں اور ہر بار ان کی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ان حالات کے سبب امریکی معیشت کا بر ا حال ہے۔ایسے میں ٹرمپ کے پاگلپن سے بھرے وعدے امریکہ کو صرف نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ان سے امریکی معیشت ،عوام حتیٰ کہ خود ان کی پارٹی کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ٹرمپ ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں کی طرز پر ہی اپنی حدود پار کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو پاگل اور جنونی بتا کر سیاسی ماحول میں نفرت گھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ ہندوستانی حکمراں جماعت کی طرز پر ہی امریکی عوام کو ڈرا رہے ہیں کہ’ اگر انھوں نے ٹرمپ کی بات نہیں مانی تو امریکہ کو المیہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘ بہرحال سچ یہ ہے کہ ٹرمپ وسط مدتی الیکشن جیتنے کے لئے امریکی عوام سے جو وعدے کر رہے ہیں ان کی حقیقت ’’وعدہ ترا وعدہ‘‘سے زیادہ نہیں ہے،اور اس بات کا امکان برائے نام ہی ہے کہ امریکی عوام ان پر یقین کریں۔


