
عمیر کوٹی ندوی
ذات وبرادری کی بنیاد پر پیچیدہ تر سماجی تقسیم کانظام اوراس کی پاداش میں غیر انسانی رویہ کے ظہور کاچلن ہمارے ملک میں آج بھی موجود ہے۔ حالانکہ بہت فخر سے کہاجاتاہے کہ ہندوستانی معاشرہ کو تہذیبی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی تنوع او ررنگا رنگی کے لئے شہرت حاصل ہے۔ اس پر کالر بھی اونچا کیا جاتاہے، لیکن ایسا کرتے وقت سماجی ڈھانچے کی تلخ حقیقت کو نظرانداز کردیا جاتاہے۔ایسی تلخ حقیقت جس نے صدیوں سے معاشرے کی ساخت، افراد کے باہمی تعلقات، مواقع کی تقسیم او راقتدار کے نظام کو بری طرح متاثر کیا۔فرد کی سماجی شناخت، اس کے مرتبہ، شادی بیاہ، رہن سہن، سیاسی و معاشی مواقع تک رسائی میں ناقابل تصورحد تک منفی اثر ڈالا۔ آزادی کے بعد ملک کے آئین وقانون میں دئے گئے حقوق و تحفظ کے ذریعہ امتیاز کو ختم کرنے کی کوشش بھی اس پرکاری ضرب نہ لگاسکی۔ اس کے برخلاف انسانوں کے درمیان ذات ونسل، جنس و مذہب کی بنیاد پر امتیاز اپنی تمام تر خرابیوں او رنمونہ پزیر پیچیدگیوں کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا۔
اس صورتحال کو اعداد شمار سے بخوبی سمجھا جاسکتاہے۔ملک کی آزادی سے قبل 1931ء کی مردم شماری میں 4147 ذاتیں درج ہوئی تھیں۔ آزادی کے 33 برس بعد 1980ء کے ایک سروے میں 3800 ذاتیں شمار کی گئیں۔ اس کے 31برس بعد 2011ء میں ہونے والی مردم شماری میں ذاتیں گنی گئیں تو حیرت انگیز اضافہ سامنے آیا۔ اس میں تقریباً 46لاکھ 7ہزار ذات پرمبنی اندراجات سامنے آئے۔ملک کی آزادی سے 16برس پہلے اور اس کے 80 برس او رملک کی آزادی کے 46 برس بعد کی مردم شماری میں درج ذاتوں کی تعداد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان اعداد شمار پربات اورتاویلات اپنی جگہ،لیکن یہ بتاتے ہیں کہ 1947 ء میں ہمارا ملک تو آزاد ہوگیا لیکن غلامانہ ذہنیت سے لوگ آج بھی آزاد نہ ہوسکے۔ یہ ذہنیت او راس کی ستم ظریفی پوری رفتار کے ساتھ لوگوں کو روندتی چلی جارہی ہے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ ارباب اختیار اور سربرآور دہ لوگوں کی توجہ ذات کے مسئلہ اورامتیاز کے خاتمہ پرنہیں ہے۔ ان کی توجہ یہ جاننے یا چھپانے پر ہے کہ مختلف ذاتوں کی آبادی کتنی ہے، وسائل او رمواقع میں ان کی شرکت کتنی ہے، کون سے طبقات اب بھی محرومی کاشکار ہیں۔
2027 ء کی مجوزہ مردم شماری میں ذات کی گنتی کے ایک بڑے قومی مباحثہ کا موضوع بن جانے کی بڑی وجہ یہی ہے۔ جاننے یا چھپانے کے درمیان جاری سیاسی او رمادہ پرستانہ کشمکش کے درمیان قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ ہندوستان میں ذات برادری کا معاملہ گوکہ نئی دریافت نہیں ہے، تاہم پوری شدت سے چاہا جارہا ہے کہ صدیوں پرمحیط معاشرتی نابرابری او رسماجی ناانصافی بدستور جاری رہے۔ یہی اس معاملہ کااندوہناک پہلو ہے۔ روشن خیالی و ترقی پزیر کی باتوں او رعالمی سطح پرقائدانہ مقام کے حصول کے دعوؤں کے باوجود نابرابری اور نا انصافی کی فرسودہ سوچ آج بھی اسی شدت کے ساتھ موجود ہے جو پہلے کبھی تھی۔ یہ سوچ صاحب اقتدار واختیار ہونے اور اعلیٰ مناصب پرفائز ہونے کے باوجود دل سے ان کی توقیر سے باز رکھتی ہے۔ انسانیت کی توقیر کے بجائے اس کی تذلیل و تحقیر او رسماجی تقسیم کی یہ سوچ کسی عام فرد تو کیا سر بر آوردہ، اقتدار پرفائز او ربااثر شخصیات کے کسی مقام سے واپسی پراس جگہ کو’پاک‘ کرنے پربھی کوئی عار و شرمندگی محسوس نہیں کرتی، بلکہ کبھی ڈھٹائی تو کبھی دروغ گوئی او رکبھی بہانے بازی کاسہارا لیتی رہتی ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ لوگ کھلی آنکھوں کرتے رہتے ہیں۔یہ بات الگ ہے کہ صدیوں پرمحیط اس ذہنیت او ر عمل کی مختلف ادوار او رعلاقوں میں شکل مختلف رہی ہے۔ سماجی درجہ بندی طویل عرصہ سے افراد کی زندگی پرمنفی اثر ڈال رہی ہے۔ جمہوریت کو اختیار کرکے ہمارے ملک نے اس نظام کو قانونی اور اخلاقی سطح پرتو چیلنج کیا مگر قانون بن جانے کے باوجود معاشرتی رویہ میں تبدیلی نہیں آئی۔ذات کی شناخت آج بھی شادی، انتخابی سیاست،سماجی تنظیم، سرکاری نمائندگی اوربعض علاقوں میں روزمرہ کی زندگی پراثر انداز ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ذات وبرادری پرگفتگو محض ماضی کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ ہندوستان کی سیاسی او رسماجی حقیقت کامطالعہ بھی ہے۔ اس وقت محروم طبقات کی طرف سے اپنے حقیقی حجم اور نمائندگی کو سامنے لانے کامطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس کے برخلاف برسراقتدار او راپوزیشن سیاسی پارٹیوں کے سامنے غور وفکر کامرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر ذاتوں کے درست اعداد سامنے آگئے تو ان کے سیاسی، سماجی نتائج کیا ہوں گے او رکسے فائدہ ہوگا او رکس کو نقصان پہنچے گا۔
ذات برادری کامسئلہ فائدہ اورنقصان سے ماوراء سماجی عدم مساوات کی نشاندہی کرتاہے۔ اگر کسی معاشرے میں مواقع افراد کی پیدائشی شناخت سے متاثر ہوں تو مساوات کاتصور کمزور ہوجاتاہے۔ ملک کے آئین نے امتیاز کو ختم یا کم سے کم ترکرنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لئے جو خصوصی اقدامات کی بنیاد فراہم کی، ریزرویشن اسی سے تعلق رکھتاہے،لیکن ایک تویہ مادّی فوائد اور رعایت محدود ہے، دوسرے تقسیم درتقسیم کے شکار سماج کے سامنے پسماندگی او رمحرومی کے تعلق سے حقیقی اورغیر حقیقی، اصلی اور نقلی کا سوال بھی پیدا کردیتاہے۔ یہ سوال بھی پیدا کردیتاہے کہ عدل وانصاف، مساوات ویکسانیت کی جگہ رعایت پرتوجہ، اس پرانحصار اور اس کے لئے سردھڑ کی بازی کا لگ جانا کہیں احترام انسانیت اورعزت ووقار پرحرف لانے والا عمل تو نہیں ہے؟ او رکیا یہ روش تقسیم کی کھائی کومزید گہری تو نہیں کررہی ہے؟۔یہ پہلو اس لئے بھی لائق توجہ ہے کہ انسانوں کوپیداکرنے والے کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں۔ اس کے بنائے گئے قانون میں انسانوں میں سے کسی کوکمتر سمجھنے کی کہیں کوئی گنجائش نہیں۔ اس کی بتائی ہوئی شاہراہ میں کہیں کوئی پگڈنڈی نہیں۔
کائنات کو بنانے والی ہستی نے انسانوں کو مساوات کی بنیاد پر پیدا کیا ہے’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیداکیا‘۔ اس نے پیدائش کی بنیاد پر کسی کو اونچا او رباعزت او رکسی کو نیچا او ربے عزت قرار نہیں دیا بلکہ صاف صاف کہہ دیا کہ ’ہم نے اولادِ آدم کوعزت بخشی او رانہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا او رانہیں پاکیزہ روزی دی اوراپنی بہت سے مخلوقات پرانہیں فضیلت دی‘۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے کو کمتر سمجھنے او ر مذاق اڑانے سے بھی منع کیا ’کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے،ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں‘۔ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی یہ اعلان کرادیا کہ ’اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ، تمہارا رب ایک ہے او رتمہارا باپ (آدم) بھی ایک ہے‘۔ اس بات کا بھی اعلان کرایا کہ ’کسی عربی کو کسی عجمی پراو رکسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ فام کو سیاہ فام پر او رکسی سیاہ فام کو سرخ فام پر کوئی فضلیت حاصل نہیں ہے‘۔ اور یہ کہ ’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ (خاندان) ہے‘۔ ان سب کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ انسان اپنی پیدائش کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سوچ، خیال، فکر او راپنے عمل سے اچھا او راونچا بنتاہے۔ انسان کو اونچا اٹھانے والی چیز ذات برادری نہیں، ’تقویٰ‘ ہے۔ یہ بھی بتایا کہ ’انسانوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو انسانوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے‘۔ جب انسانی رشتوں،مقام ومرتبہ، احترام و توقیر او رمقصد ومراد کی بات صاف او رآسان لفظوں میں بتادی گئی ہوتو اس کے باوجود اونچ نیچ کی بحث سماج میں جاری رہے، جنہیں یہ بات تمام لوگوں کو بتانی او رسمجھانی چاہئے، خود وہ لوگ بھی فریب میں آکر اس کا شکار ہوجائیں تو مسئلہ کی سنگینی پرسنجیدگی سے غورکرنے اورذمہ داری کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت او ربھی محسوس ہونے لگتی ہے۔
بشکریہ : نیو ایج اسلام


