11/9کے 25 برس، دنیا نے کیا سیکھا؟

11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کو 25 برس گزر چکے ہیں، مگر ان کے اثرات آج بھی عالمی سیاست، سلامتی اور انسانی معاشرے پر نمایاں ہیں۔ نائن الیون نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ دہشت گردی صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، جس کا مقابلہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔گزشتہ ڈھائی دہائیوں کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ دہشت گردی کا جواب صرف فوجی طاقت نہیں۔

انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے مؤثر حکمرانی، تعلیم، معاشی مواقع، انصاف اور سیاسی مسائل کے پُرامن حل بھی ضروری ہیں۔ جنگیں دہشت گرد تنظیموں کو کمزور کرسکتی ہیں، لیکن دیرپا امن صرف سیاسی اور سماجی استحکام سے قائم ہوتا ہے۔نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں سلامتی کے نام پر نگرانی اور سخت قوانین میں اضافہ ہوا۔ شہریوں کا تحفظ ضروری ہے، لیکن سلامتی اور آزادی کے درمیان توازن بھی اتنا ہی اہم ہے۔

دہشت گردی سے نمٹتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ایک اور اہم سبق اجتماعی الزام تراشی سے گریز ہے۔ کسی دہشت گرد گروہ کے اعمال کو کسی مذہب یا پوری برادری سے جوڑنا ناانصافی ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ مجرموں کے خلاف کارروائی سے ہونا چاہیے، بے گناہ لوگوں کے خلاف تعصب سے نہیں۔

25 برس بعد نائن الیون کی یاد ہمیں صرف ماضی کا غم نہیں دیتی بلکہ مستقبل کے لئے ایک واضح پیغام بھی دیتی ہے: دہشت گردی کا مقابلہ ضروری ہے، مگر اس جنگ میں انصاف، آزادی، انسانی وقار اور امن کو کبھی قربان نہیں ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

11/9کے 25 برس، دنیا نے کیا سیکھا؟

11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کو 25 برس گزر چکے ہیں، مگر ان کے اثرات آج بھی عالمی سیاست، سلامتی اور انسانی معاشرے پر نمایاں ہیں۔ نائن الیون نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ دہشت گردی صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، جس کا مقابلہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔گزشتہ ڈھائی دہائیوں کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ دہشت گردی کا جواب صرف فوجی طاقت نہیں۔

انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے مؤثر حکمرانی، تعلیم، معاشی مواقع، انصاف اور سیاسی مسائل کے پُرامن حل بھی ضروری ہیں۔ جنگیں دہشت گرد تنظیموں کو کمزور کرسکتی ہیں، لیکن دیرپا امن صرف سیاسی اور سماجی استحکام سے قائم ہوتا ہے۔نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں سلامتی کے نام پر نگرانی اور سخت قوانین میں اضافہ ہوا۔ شہریوں کا تحفظ ضروری ہے، لیکن سلامتی اور آزادی کے درمیان توازن بھی اتنا ہی اہم ہے۔

دہشت گردی سے نمٹتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ایک اور اہم سبق اجتماعی الزام تراشی سے گریز ہے۔ کسی دہشت گرد گروہ کے اعمال کو کسی مذہب یا پوری برادری سے جوڑنا ناانصافی ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ مجرموں کے خلاف کارروائی سے ہونا چاہیے، بے گناہ لوگوں کے خلاف تعصب سے نہیں۔

25 برس بعد نائن الیون کی یاد ہمیں صرف ماضی کا غم نہیں دیتی بلکہ مستقبل کے لئے ایک واضح پیغام بھی دیتی ہے: دہشت گردی کا مقابلہ ضروری ہے، مگر اس جنگ میں انصاف، آزادی، انسانی وقار اور امن کو کبھی قربان نہیں ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں