
محمد اظہر شمشاد
بہت دنوں سے کچھ لکھنے کا سوچ رہا تھا، لیکن جب کچھ لکھنے کا قصد کرتا، دل اور دماغ میں کسی سوکن کی طرح جھگڑا شروع ہو جاتا۔
دماغ کہتا، لکھو! اس سے فیس بک پر لائک اور شہرت ملے گی، ادبی لوگ جانیں گے، مگر پوسٹ کرنے سے پہلے دس پندرہ لوگوں کی پوسٹ پر لائک اور کمنٹس ضرور کر دینا، تاکہ تمہاری پوسٹ پر بھی وہ لائک اور کمنٹس کریں، کیوں کہ سوشل میڈیا کا یہی دستور ہے: "من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو۔”
دل کہتا، سستی شہرت کے لئے پوری زندگی پڑی ہے۔ آج کل صرف ملازمت کے لئے منتخب ہو جانا کامیابی نہیں ہے، بلکہ ملازمت جوائن کر لینا کامیابی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو وہ بھی کامیابی نہیں ہے، کیوں کہ اب جوائن کر لینے کے بعد بھی ملازمت جا سکتی ہے، جس کی مثال بنگال کے ٹیچروں کی موجودہ صورتِ حال اور مالک خود ہیں۔
اس لئے میرا مشورہ ہے کہ مالک چھ مہینے کا خوشامدی اور خصیہ برداری کا کورس کر کے، چھ مہینے کا اور جھاڑو پونچھا لگانے، سبزی خریدنے، بچہ کھلانے کا بھی کورس کر لیں اور پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن لے کر پروفیسر بننے کی کوشش کریں۔ یہ اسکول ٹیچر کی نوکری میں کیا رکھا ہے؟ جاب لگی اور ہاتھ سے چلی بھی گئی۔
دل و دماغ کے اس جھگڑے سے تنگ آ کر موبائل میں فیس بک اسکرول کرنے لگا، تبھی میری نظر ایک پوسٹ پر پڑی، جس پوسٹ کو کچھ دن پہلے میں نے کسی اور کی وال پر، ان کے نام کے ساتھ دیکھی تھی۔
میں سوچنے لگا کہ زمانہ بدل گیا ہے، ٹھیک ہے، لیکن اتنا بدل گیا ہے کہ اردو ادب کے دو ادیبوں کے دماغ میں ایک ہی طرح کی فکر آنے لگے، وہ بھی اس قدر یکسانیت کے ساتھ کہ ایک حرف کا بھی الٹ پھیر نہ ہو۔
حیرت و استعجاب میں، میں نے کمنٹ سیکشن کھولا کہ شاید اس بارے میں کسی نے کمنٹ کیا ہوگا کہ جناب! آپ نے کل رات دیسی کے بجائے انگریزی دوا لے لی تھی اور اس چکر میں آپ کی کاپی کسی دوسرے کی کاپی سے بدل گئی۔
لیکن اس کے برخلاف، کمنٹ سیکشن کا ماحول بالکل الگ تھا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ دل کی جو فرمائش تھی، چھ مہینے کی خوشامدی اور خصیہ برداری والی، وہ یہیں سے ان لوگوں کے پاس کر لوں۔ پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن کے ساتھ ساتھ، کیا پتا کسی کالج کا جوائننگ لیٹر بھی ساتھ میں مل جائے۔
خیر، کمنٹ میں ایک شخص نے لکھا تھا:
"جناب! آپ اتنا شاندار لکھتے ہیں کہ اگر سرسید مرحوم آج زندہ ہوتے تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب کی کتابیں آپ سے ہی تالیف کرواتے۔”
ایک کمنٹ تھا:
"جناب! آپ کی تحریروں میں مجھے میر درد اور جگر مرادآبادی کا حسن نظر آتا ہے۔”
یہ کمنٹ پڑھ کر تھوڑی دیر تو میں سکتے میں رہا، پھر اچانک ممی کے چلانے کی آواز کانوں میں پڑی۔ بیدار ہونے تک دو طمانچے میرے رخسار پر پڑ چکے تھے اور آلو بخارا کی طرح لال مائل بہ سیاہ ہو چکے تھے۔
ممی کو جھاڑو لگانا تھا، اس لئے وہ اس جگہ سے ہٹنے کے لئے کہہ رہی تھیں۔ اس لئے چپ چاپ اپنی آنکھوں میں موتیوں کی دو لڑیاں لئے دوسری جگہ بیٹھ کر یہ سوچنے لگا کہ میر درد اور جگر مرادآبادی نے نثر نگاری میں بھی اتنا بڑا مقام حاصل کیا ہے اور میں نے اب تک ان کی کوئی تحریر نہیں پڑھی۔
اسی خیال میں تھا کہ الہام ہوا کہ ہو سکتا ہے وہ اردو ادب کا کوئی نیا طالب علم ہو اور اس نے ابھی غزل سے متعلق ہی پڑھا ہو۔
خیر، آگے ایک اور کمنٹ پڑھنے لگا، جس میں ایک صاحب نے لکھا تھا:
"دورِ حاضر میں آپ سے بڑا نثر نگار کوئی نہیں ہے۔ آپ کی تحریروں کے سامنے خالد جاوید اور اشعر نجمی کی تحریریں بھی کچھ نہیں۔”
جیسے ہی میں نے ان دو حضرات کا نام پڑھا، فوراً موبائل رکھ دیا، کیوں کہ جتنی controversy ابھی سوشل میڈیا پر چل رہی ہے، اتنی کافی ہے۔ مزید اور نئی کسی controversy کی ضرورت نہیں ہے۔
اور سوچنے لگا کہ آخر وہ تحریر کس کی تھی؟ جس نے بھی لکھا تھا، لکھا اچھا تھا۔ پہلے جس نے پوسٹ کیا تھا، اس کا یا ابھی جس کی پوسٹ پڑھ رہا تھا، اس کا؟ یہ جاننے کے لئے میں نے گوگل بابا کی طرف رخ کیا تو پتا چلا کہ وہ تحریر ان دونوں صاحبوں میں سے کسی کی نہیں تھی، بلکہ پاکستان کے کسی صاحب کی تھی۔
عجیب بات ہے کہ اب لوگوں میں اس قدر سستی اور کاہلی آگئی ہے کہ سرقہ کرنے میں بھی محنت نہیں کرتے ہیں۔ اس میں بھی محنت سے جان چراتے ہیں۔
یہی سوچتے سوچتے قلم پھر ہاتھ میں اٹھایا کہ کچھ لکھوں، لیکن پھر دل اور دماغ کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔
دماغ کہنے لگا کہ کچھ اچھا لکھو، سستی شہرت حاصل کرو، لوگوں میں اپنا نام بناؤ، آگے بڑھو۔
دل کہنے لگا کہ چپ چاپ خاموشی سے محنت کرو، اچھی جاب حاصل کرو۔
میں نے من میں کہا کہ آج ان دونوں کو اچھے سے جھگڑنے دیا جائے، تاکہ کسی نتیجے تک پہنچوں۔
دل نے کہا، دیکھو، تم نے چپ چاپ محنت کی تو بنگال ٹیچر میں جاب ہوئی نا۔
دماغ نے فوراً کہا، کیا فائدہ ایسے جاب کا جو دے کر چھین لیا جائے؟ اب تو اور رسوائی کی بات ہے۔ جاب لگنے کے بعد بوا اور رشتے داروں پر جو مالک نے زہر آلود تیر چلائے تھے، وہ سب وہ لوگ اب واپس ان پر چلائیں گے۔
اگر مالک کو جاب نکالنا ہی تھا تو جنرل کیٹیگری میں نکالتے، او بی سی میں کیوں نکالے؟ اب 17 اور 7 کے چکر میں پس گئے نا!
اب سنو بوا اور رشتے داروں کے طعنے!
میں نے دماغ کو ٹوکتے ہوئے کہا، تم دونوں اپنی جنگ میں بوا اور رشتے داروں کو بیچ میں مت لاؤ۔ اس کا خیال آتے ہی میری جان نکلنے لگتی ہے۔ جاب جانے کا اب جتنا غم نہیں ہے، اس سے کہیں زیادہ ان کے طعنے اور خوش ہونے کا غم ہے۔
بوا تو لگتا ہے کہ اب بیس فقیروں کو کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ قرآن خوانی، فاتحہ، میلاد، سب کروائیں گی، اور بھی نہ جانے کون کون رشتے دار خوشی میں یہ کارِ خیر انجام دیں۔
اس لئے بیچ میں رشتے داروں والی بات مت لاؤ، ورنہ سفیر صدیقی کی غزلیں پسند آنے لگیں گی۔
خیر، دماغ نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ ان نازک حالات میں رشتے داروں کا ذکر نہیں کرے گا اور دل سے جنگ میں مصروف ہو گیا، اور کہنے لگا:
"تم نے ہی کہا تھا نا کہ سرکار بدلو۔ ایک ہی سرکار زیادہ دن رہے تو اچھی بات نہیں، پریورتن چاہیے، پریورتن! تو اب بھگتو پریورتن کی مار۔”
یہ سن کر دل اچھل کر کہنے لگا، اس میں میری کیا غلطی کہ اگر سرکار کو تمام کاموں میں سب سے اہم کام او بی سی کو گھٹانا لگتا ہے؟ اس میں میری کیا غلطی کہ بعد میں بننے والا قانون، اس قانون سے پہلے جاب حاصل کرنے والوں پر لاگو کیا جائے؟ اس میں میری کیا غلطی اگر کورٹ اس پر کچھ نہ کہے؟ اس میں میری کیا غلطی اگر بنگال کے طلبہ اس پر احتجاج نہ کریں؟ اس میں میری کیا غلطی، جاب حاصل کر کے کھونے والے طلبہ کا کوئی سننے والا نہیں؟
اسی طرح دل اپنی صفائی دے ہی رہا تھا کہ کانوں میں ممی کی آواز پھر سے آئی:
"یہاں بھی جھاڑو لگانا ہے، ہٹو!”


