
غلام غوث
ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایڈولف ہٹلر کو کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ اس نے فرانس، برطانیہ، روس اور امریکہ کے خلاف جنگ شروع کر دی؟ اسے ایسا یقین کیوں تھا کہ وہ ان چاروں کو شکست دے سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے ہمیں ہٹلر کی زندگی اور جرمن عوام کی سوچ کو سمجھنا ہوگا۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران جرمنی میں ’’ولیم قیصر دوم‘‘ بادشاہ کی حکومت تھی۔ دسمبر 1918 میں جنگ ختم ہونے کے چار سال بعد بادشاہ کو تخت سے اتار دیا گیا۔ جرمنی پر برطانیہ، فرانس اور امریکہ کا قبضہ ہو گیا۔ جرمن جرنیلوں کا خیال تھا کہ انہیں جنگ میں سیاست دانوں کی وجہ سے شکست ہوئی۔ اس وقت جرمنی میں اناج اور دیگر اشیا کی اتنی قلت ہو گئی تھی کہ لوگ بھوک سے تڑپنے لگے۔
جنگ کے بعد امریکہ کے صدر ’’وڈرو ولسن‘‘ نے جرمنی آ کر لیگ آف نیشنز کی بنیاد ڈالی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کے تمام ممالک آئندہ جنگ کرنے کے بجائے اپنے تمام مسائل بات چیت اور بحث کے ذریعے حل کریں۔
جرمنی اور اس کے ساتھی آسٹریا اور ہنگری کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ کر جرمنی کو چھوٹا کر دیا گیا۔ جرمنی کو کہا گیا کہ وہ تمام تباہی کا ذمہ دار ہے، اس لئے اسے 6.6 بلین پاؤنڈ (آج کے حساب سے 270 بلین ڈالر) معاوضہ دینا ہوگا، جبکہ جرمنی قلاش ہو چکا تھا اور اس کی معیشت برباد ہو گئی تھی۔ ٹکڑے کیے گئے نئے ممالک میں زیادہ تر جرمن عوام آباد تھے، جس کی وجہ سے یہ تقسیم جرمنوں کو پسند نہیں تھی۔
اب جرمنی جمہوریت میں تبدیل ہو گیا۔ مگر 1923 میں وہاں لوگ دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نیشنلسٹ اور دوسرا کمیونسٹ گروپ تھا۔ دونوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی اور کافی خون خرابہ ہونے لگا۔
ایسے میں چاروں طرف ایسے لیڈر ابھرے جو جذباتی اور جوشیلے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ جرمنی کمیونسٹ ملک بن جائے۔ ان میں سے ایک ہٹلر تھا، جو آسٹریا میں پیدا ہوا تھا اور جنگ کے دوران کارپورل بن کر پیغامات ایک جگہ سے دوسری جگہ افسروں تک پہنچاتا تھا۔ اس کی بہادری کو دیکھ کر اسے آئرن کراس سے نوازا گیا اور وہ جرمنی میں رہنے لگا۔
وہ اس معاہدے سے بہت ناخوش تھا اور ہر طرف اس کے خلاف جوشیلے بیانات دینے لگا۔ وہ ایک اچھا مقرر تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک نئی پارٹی بنائی اور اس کا نام نازی پارٹی رکھا۔
ہٹلر اور اس کے ساتھی جھوٹے وعدے کرنے، سنہری خواب دکھانے اور عوام کو بیوقوف بنانے میں ماہر تھے۔ یہ پارٹی کمیونسٹوں کے خلاف تھی۔ 1929 میں اس پارٹی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ کا محاصرہ کر لیا اور حکومت کو بدلنے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب بھی ہو گئے، مگر جرمن فوج نے اس بغاوت کو کچل دیا اور ہٹلر گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے اسے سات سال کی سزا سنائی، مگر کہا کہ وہ نو ماہ کے بعد پیرول پر رہا ہو سکتا ہے۔
نازی پارٹی کا خیال تھا کہ جنگ کے بعد ہونے والے معاہدے، یعنی Treaty of Versailles، میں نہ صرف جرمنی کو معاوضہ دینے کی شرط رکھی گئی بلکہ اس کے ٹکڑے بھی کر دیے گئے، اسے demilitarise کر دیا گیا اور ایک لاکھ سے زیادہ فوج نہ رکھنے اور جنگی سازوسامان نہ بنانے کی شرط بھی رکھی گئی۔
جرمن عوام نے اسے ایک شرمناک معاہدہ قرار دیا اور ان میں دوبارہ بدلہ لینے کی خواہش پیدا ہو گئی۔ وہ ایسی شرمناک شکست برداشت کرنا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ ایسے میں ہٹلر کی جذباتی تقریروں نے انہیں اس کا طرفدار بنا دیا۔
ہر طرف آوازیں اٹھنے لگیں کہ جرمنی کی قیادت بدل دینی چاہیے۔ یہ وہ وقت تھا جب قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں۔ قحط جیسی حالت تھی اور عوام اور حکومت، دونوں مالی طور پر قلاش تھے۔
جیل میں رہتے ہوئے ہٹلر نے Mein Kampf نامی کتاب لکھی، جس میں اس نے جرمنی کی بے سروسامانی کے لئے وہاں کے یہودیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور عوام کو یہودیوں کے خلاف بھڑکایا۔ اس کے نتیجے میں لوگوں میں یہودیوں کے خلاف نفرت بڑھنے لگی۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد ہٹلر نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے جمہوریت کا ہی راستہ چنا۔ عوام پہلے ہی قحط اور بدانتظامی سے پریشان تھے۔ ایسے میں ہٹلر نے عوام کو یہ کہہ کر اپنی طرف کر لیا کہ اگر وہ اقتدار میں آیا تو بے روزگاری دور کر دے گا اور سب کو روزگار فراہم کرے گا، قیمتوں میں کمی کرے گا، ملک میں کمیونسٹوں کو بڑھنے نہیں دے گا اور امن و امان قائم کرتے ہوئے جرمنی کی خودداری اور اس کے حقوق کو بحال کرے گا۔
اس نے نازی پارٹی کے لئے ایک نشان بھی مقرر کر دیا اور لوگوں کو اس قدر جذباتی بنا دیا کہ وہ ہٹلر ہی کو اپنا اور جرمنی کا مسیحا سمجھنے لگے۔
اکتوبر 1929 میں امریکہ کا اسٹاک مارکیٹ کریش کر گیا اور اس کی معیشت کمزور ہو گئی۔ اس کے اثرات سے ساری دنیا کی معیشت کمزور ہو گئی اور جرمنی میں چھ ملین افراد بے روزگار ہو گئے۔
1932 میں جب انتخابات ہوئے تو نازی پارٹی بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئی، مگر اس کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پر حکومت بنا سکتی۔ ایسے میں ملی جلی حکومت ہی ایک واحد راستہ تھا۔ مگر ہٹلر نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔
ایسی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے جنوری 1933 میں صدر ہنڈن برگ نے ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر بنا دیا۔
ہٹلر کی پارٹی نے خفیہ طریقے سے پارلیمنٹ میں آگ لگا دی اور اس کی ذمہ داری کمیونسٹوں پر ڈال دی۔ اس طرح ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ عوام اسے سچ ماننے لگی۔ ایسے میں ہٹلر نے ہنگامی اختیارات کی مانگ رکھی تاکہ وہ کمیونسٹوں کو سبق سکھا سکے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکے۔ ہنڈن برگ نے اسے یہ اختیارات دے دیے۔
اب ہٹلر نے تمام سیاسی جماعتوں کو ختم کر دیا اور جرمنی میں صرف نازی پارٹی ہی باقی رہ گئی۔ اگست 1934 میں جب ہنڈن برگ کی وفات ہو گئی تو ہٹلر نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ اب کوئی بھی اس کی مخالفت کرنے والا نہیں رہا اور وہ حقیقت میں جرمنی کا ڈکٹیٹر بن گیا۔
جرمنی قلاش تھا اور اس کے پاس عوام کو دینے کے لئے کوئی فنڈ نہیں تھا۔ عوام بھی قلاش اور بے روزگار تھے۔ کاروبار بھی دم توڑ چکا تھا اور قیمتیں بھی آسمان چھونے لگی تھیں۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ہٹلر نے تین سال جرمنی کی معیشت کو سنوارنے میں لگا دیے۔ اس نے تمام بچا ہوا سرمایہ جرمنی میں فیکٹریاں قائم کرنے، سڑکیں بنانے اور روزگار مہیا کرنے میں لگا دیا۔


