جنگ نیوز
سری نگر/ڈاکٹر جسٹس پشپندر سنگھ بھاٹی نے بدھ کے روز سکاسٹ(ایس کے یو اے ایس ٹی) سری نگر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے 39ویں چیف جسٹس کے عہد ے کا حلف اُٹھایا۔
ڈاکٹر جسٹس پُشپندر سنگھ بھاٹی کو لیفٹیننٹ گورنر لداخ یونین ٹیریٹر ی وینائی کما رسکسینہ جن کے پاس یونین ٹیریٹر ی جموںوکشمیر کا اضافی چارج بھی ہے ، نے حلف دلایا ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض لیفٹیننٹ گورنر یوٹی لداخ کی سیکرٹری ششانکا آلا نے اَنجام دیں جبکہ چیف جسٹس کی تقرری کا وارنٹ رجسٹرار جنرل جموںوکشمیر او رلداخ ہائی کورٹ ایم کے شرما نے پڑھ کر سُنایا۔
اس موقعہ پروزیراعلیٰ جموںوکشمیر یوٹی ، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوںکے ساتھ اُن کی اپنی شریک حیات ، سپیکر قانون ساز اسمبلی ، کابینہ کے وزرأ، ممبران پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ یوٹی جموں و کشمیر کے مشیر، چیئرپرسن جموں و کشمیر وقف بورڈ، جموں و کشمیر الیکشن کمشنر، ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور ججوںکے علاوہ عدلیہ، بار، سول و پولیس انتظامیہ اورتعلیمی اداروںکی نمائندگی کرنے والوںنے پُروقار تقریب میں شرکت کی۔
ملک بھر کی متعدد ہائی کورٹس بالخصوص راجستھان کے علاوہ دہلی، پنجاب، ہریانہ اور الہ آباد ہائی کورٹس کے موجودہ اور سابق چیف جسٹس اور ججوں کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی۔ راجستھان ہائی کورٹ کی جج اور چیف جسٹس کی شریک حیات ڈاکٹر جسٹس نوپور بھاٹی، ان کے والدین، قریبی رشتہ داروں اور دیگراَفراد کی موجودگی نے اس موقعے کو خصوصی اہمیت بخشی۔
دیگر معزز شخصیات کے علاوہ چیف سیکرٹری جموں و کشمیر، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جموں و کشمیر، حکومت یوٹی جموں و کشمیر اور یوٹی لداخ کے کمشنروں،سیکرٹریوں، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں،ممبران سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کے علاوہ کشمیر ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جموں کے ایگزیکٹیو ممبران؛ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے لأ اَفسران؛ جوڈیشل اَفسران اور ہائی کورٹ رجسٹری کے افسران بھی موجو دتھے۔
اس تقریب میں راجستھان سے سینئر وکلأ ، گورنمنٹ ایڈووکیٹس اور بار کے دیگر اراکین کی خاصی تعداد کے علاوہ عملے کے اَرکان اور دیگر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔
مرکزی وزارت قانون و انصاف نے 5 ؍ستمبر 2026 ء کو ڈاکٹر جسٹس پشپندر سنگھ بھاٹی کی جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کی تقرری سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
21 ؍ستمبر 1970 ء کو پیدا ہوئے ڈاکٹر جسٹس بھاٹی نے 1992 ء میں بطور ایڈووکیٹ اندراج کروایا اور بنیادی طور پر جودھ پور میں راجستھان ہائی کورٹ میںپریکٹس کیاور اُنہوں نے وہاں قانون کے مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل کیاجس میں آئینی اور رٹ دائرہ اختیار، سروس کے معاملات، مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی ، الیکشن،ریونیو ، کان کنی، تعلیم، پنچایتی راج، خاندانی اور فوجداری قانون شامل ہیں۔
16 ؍نومبر 2016 ء کو راجستھان ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی پانے سے قبل ڈاکٹر جسٹس بھاٹی نے 13؍ اکتوبر 2008 ء سے 29 ؍دسمبر 2008 ء تک اور دوبارہ 6 ؍جنوری 2014 ء سے ریاست راجستھان کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔
بار میں اپنے شاندار کیریئر کے دوران ڈاکٹر جسٹس بھاٹی 2009 ء سے 2015 ء کے عرصے کے لئے بار کونسل آف راجستھان کے رُکن منتخب ہوئے۔ اُنہوں نے 2011ء سے 2013 ء تک راجستھان ہائی کورٹ لائرز ایسوسی ایشن کے صدر اور 2001 ء میں راجستھان ہائی کورٹ ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر جسٹس بھاٹی نے بی اے، ایل ایل بی اور مرکنٹائل لأ میں ایل ایل ایم کے علاوہ پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ اُنہوں نے 1997 ء سے 2016 ء تک 19 برس تک فیکلٹی آف لأ ، جئے نارائن ویاس یونیورسٹی جودھ پور میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر اور نیشنل لأ یونیورسٹی، جودھ پور میں ایک برس تک وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ انڈین لأ انسٹی چیوٹ کے راجستھان چپٹر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رُکن بھی ہیں۔


