جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر: جموں و کشمیر وقف بورڈ نے وقف اداروں کی انتظامیہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ٹیکنالوجیکل امپاورمنٹ انیشی ایٹو کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت مختلف درگاہوں اور ذیلی یونٹس کے منتظمین میں کمپیوٹر سسٹم تقسیم کیے گئے۔
نیو سینٹرل وقف آفس، سونہ وار، سری نگر میں منعقدہ تقریب کے دوران جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے مختلف درگاہوں اور ذیلی یونٹس کے منتظمین میں کمپیوٹر سسٹم تقسیم کیے۔
یہ اقدام وقف اداروں کے روزمرہ انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ریکارڈ کے بہتر انتظام، سرکاری مواصلات کو جدید بنانے اور خدمات کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب میں وقف بورڈ کے متعدد اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر بشیر احمد، جے کے اے ایس، اسپیشل آفیسر اوقاف؛ اشتیاق محی الدین، جے کے اے ایس، ایگزیکٹو مجسٹریٹ و تحصیلدار، جموں و کشمیر وقف بورڈ؛ انجینئر قاضی مشتاق، ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر رحمت اللہ بٹ، جونیئر انجینئر و انچارج آفیسر؛ اور انجینئر مرتضیٰ، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر شامل تھے۔
وقف بورڈ کے اس اقدام کا بنیادی مقصد درگاہوں اور ذیلی یونٹس میں دستیاب انتظامی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہے، تاکہ روزمرہ امور کی انجام دہی میں تیزی اور شفافیت لائی جا سکے۔ کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے ریکارڈ رکھنے، سرکاری خط و کتابت اور دیگر انتظامی سرگرمیوں کو زیادہ منظم بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ اقدام بورڈ کے وسیع تر جدیدکاری اور اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کے تحت ڈیجیٹلائزیشن، ای-گورننس، ریکارڈ رکھنے کے نظام میں بہتری، شفافیت اور جواب دہی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ وقف انتظامیہ
وقف بورڈ کی جانب سے شروع کیا گیا یہ پروگرام محض کمپیوٹرز کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ وقف انتظامیہ کو بتدریج ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام میں منتقل کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔
’’ٹیکنالوجی کے ذریعے انتظامیہ کو بااختیار بنانا‘‘ کے تصور کے تحت شروع کیا گیا یہ اقدام جموں و کشمیر بھر میں ایک جدید، مؤثر، شفاف اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ وقف انتظامیہ کے قیام کے بورڈ کے عزم کو نمایاں کرتا ہے۔


