پھوپھی سبک کلام: تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ

 

ذوالفقار علی بخاری

 

شعری مجموعے ’پھوپھی سبک کلام‘ سے قبل کوکب مشتاقؔ کا افسانوی مجموعہ ’جوئے یاس‘ اور سرورِ کونین ﷺ کے گھرانے پر لکھی گئی جامع کتاب ’بیت الحمود‘ شائع ہو چکی ہیں۔ کوکب مشتاقؔ کا ادبی سفر کہانی نویسی سے شروع ہوا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انھوں نے شاعری کے میدان میں بھی اپنی ساکھ بنائی۔ وہ بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے لکھ رہی ہیں اور قارئین سے داد وصول کر رہی ہیں۔
’پھوپھی سبک کلام‘ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں ایک مخصوص مزاحیہ کردار کو مرکز بنایا گیا ہے۔ پھوپھی کی چٹ پٹی باتوں، دلچسپ عادات اور مزے دار کارناموں کو دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ بچوں کے لئے لکھی گئی مزاحیہ نظموں کا مجموعہ ہے۔ کسی تخلیق کار کے لئے کسی خاص کردار کو تخلیق کرکے اسے قارئین میں مقبول بنانا ایک بڑا معرکہ ہوتا ہے۔ کوکب مشتاقؔ بھی اس کردار کے ذریعے اپنی انفرادیت قائم کرنے اور نونہالوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ ادبِ اطفال میں خواتین کے مزاحیہ کرداروں کی تعداد بھی بہت کم ہے، اس لئے ’پھوپھی سبک کلام‘ کی آمد قابلِ توجہ ہے۔
ڈاکٹر راج محمد آفریدی کے بقول:
’’مجموعی لحاظ سے ’پھوپھی سبک کلام‘ بچوں کے لئے ایک ایسا تحفہ ہے جو انھیں ہنستے کھیلتے اخلاقیات اور سماجی رشتوں کی اہمیت سکھاتی ہے۔ کوکب مشتاق کا اسلوبِ بیان سادہ، رواں اور شگفتہ ہے جو یقیناً بچوں کے ادب میں ایک معتبر حوالہ بنے گا۔‘‘
ریاض عادل فرماتے ہیں:
’’کوکب مشتاق کا مجموعہ ’پھوپھی سبک کلام‘ واقعی ہوا کے ایک خوشگوار اور خنک جھونکے کی مانند آیا ہے۔ یہ بچوں کے لئے لکھی گئی محض پانچ نظموں پر مشتمل ایک چھوٹی سی، مگر انتہائی مزیدار اور چٹ پٹی کتاب ہے۔‘‘ وہ مزید ان نظموں کی سادہ، سلیس، رواں اور مترنم زبان کو سراہتے ہیں۔
یاسر فاروق نے تشہیری رنگ میں کوکب مشتاقؔ کی حوصلہ افزائی کی ہے:
واہ واہ کیسا لکھیں کوکب
بہت ہی پختہ لکھیں کوکب
’’پھوپھی سبک کلام‘‘ ہیں لائیں
ہر جانب ہی یہ ہیں چھائیں
نظموں میں ہے مزہ، روانی
ہر اک میں ہے ایک کہانی
محمد رمضان شاکر لکھتے ہیں:
’’یہ نظمیں انتہائی دلچسپ، رواں اور خوبصورت تصاویر سے مزین ہیں جو نظم کے اک اک شعر سے مطابقت رکھتی ہیں اور نظم کو پُراثر اور پُرلطف بناتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق فل سائز صفحات اور خوبصورت تصاویر نے کتاب کی کشش میں اضافہ کیا ہے اور یہ کتاب بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
شعری مجموعے ’پھوپھی سبک کلام‘ میں پانچ نظمیں شامل ہیں، جن میں رشتوں کی اہمیت، دیہی معاشرت کی عکاسی، جانوروں سے لگاؤ اور تخلیق کاروں کی پزیرائی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
نظم ’پھوپھی سبک کلام‘ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
اودھم پور کی ہیں رانی
سب کی جانی پہچانی
پھوپھی ان کو کہتے ہیں
کب ہیں کسی سے انجانی
پھوپھی جی کی رشتے داری
پڑتی ہے جو سب کو بھاری
اس نظم میں ٹوٹ بٹوٹ، چھکن، انور ماموں، میاں وہمی، چچا حیرت، پھلکے میاں، اول جلول، چچا فٹافٹ اور چچا تیز گام وغیرہ جیسے کئی کرداروں کے نام آتے ہیں، جس سے نظم میں تشہیری رنگ بھی محسوس ہوتا ہے۔
نظم: ’پھوپھی سبک کلام کی مرغی‘
پھوپھی جی نے مرغی پالی
پیارے پیارے رنگوں والی
سر ہے بھورا، پاؤں پیلے
دم ہے کالی، پر ہیں نیلے
نظم: ’پھوپھی جی نے کڑھی پکائی‘
پھوپھی سبک کلام نے پیاری
مزے کی چٹپٹی اور کراری
سب نے ہی آواز لگائی
پھوپھی جی نے کڑھی پکائی
نظم: ’پھوپھی لائی بلی‘
پھوپھی لائی بلی ایک
لگے بظاہر وہ تو نیک
شیر کی پر خالہ ہے
آفت کی پرکالہ ہے
کتاب میں مشکل الفاظ کے معانی بھی شائع کیے گئے ہیں، مثلاً سبک کلام، کہسار، روٹین، راج دلاری، چانٹے، کڑھی، دہی کے کونڈے، شنوائی، بکھیڑے، آسائش، عاجز، جون میں آنا، معجون، نان، حلوہ پوری اور دہقان وغیرہ۔ تاہم ’متوالا‘، ’ناک میں دم‘ اور ’آفت کی پرکالہ‘ جیسے الفاظ اور محاوروں کی وضاحت موجود نہیں۔
پانچوں نظموں میں مشکل الفاظ کی موجودگی اور بعض اشعار میں پھوپھی کی شخصیت کے منفی پہلو قاری کو کچھ الجھن میں مبتلا کرتے ہیں۔ کتاب کے صفحات 22 اور 23 پر اشعار کی تکرار بھی نظر آتی ہے۔ دوسری طرف صفحہ 24 پر ’رنگ بھریں‘ کا سلسلہ بچوں کے لئے ایک مثبت اور دلچسپ سرگرمی ہے۔ اسی طرح اسکیچز کی شمولیت بھی قابلِ تعریف ہے، جو یقیناً بچوں کو کتاب کی جانب مائل کر سکتی ہے۔
تاہم کوکب مشتاقؔ کی نظموں میں سبق آموز پیغام کی کمی محسوس ہوتی ہے، جس پر مزید توجہ دی جاسکتی ہے۔ بچوں کے ادب میں تفریح کے ساتھ تربیت اور مثبت اقدار کی ترسیل بھی اہمیت رکھتی ہے۔
بہرحال، یقینِ کامل ہے کہ کوکب مشتاقؔ ’پھوپھی سبک کلام‘ کی بدولت ادبِ اطفال میں نہ صرف یاد رکھی جائیں گی بلکہ ننھے قارئین کے دل و دماغ پر اپنے تخلیق کردہ کردار کی چھاپ نقش کرنے میں بھی کامیاب ہوں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

پھوپھی سبک کلام: تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ

 

ذوالفقار علی بخاری

 

شعری مجموعے ’پھوپھی سبک کلام‘ سے قبل کوکب مشتاقؔ کا افسانوی مجموعہ ’جوئے یاس‘ اور سرورِ کونین ﷺ کے گھرانے پر لکھی گئی جامع کتاب ’بیت الحمود‘ شائع ہو چکی ہیں۔ کوکب مشتاقؔ کا ادبی سفر کہانی نویسی سے شروع ہوا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انھوں نے شاعری کے میدان میں بھی اپنی ساکھ بنائی۔ وہ بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے لکھ رہی ہیں اور قارئین سے داد وصول کر رہی ہیں۔
’پھوپھی سبک کلام‘ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں ایک مخصوص مزاحیہ کردار کو مرکز بنایا گیا ہے۔ پھوپھی کی چٹ پٹی باتوں، دلچسپ عادات اور مزے دار کارناموں کو دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ بچوں کے لئے لکھی گئی مزاحیہ نظموں کا مجموعہ ہے۔ کسی تخلیق کار کے لئے کسی خاص کردار کو تخلیق کرکے اسے قارئین میں مقبول بنانا ایک بڑا معرکہ ہوتا ہے۔ کوکب مشتاقؔ بھی اس کردار کے ذریعے اپنی انفرادیت قائم کرنے اور نونہالوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ ادبِ اطفال میں خواتین کے مزاحیہ کرداروں کی تعداد بھی بہت کم ہے، اس لئے ’پھوپھی سبک کلام‘ کی آمد قابلِ توجہ ہے۔
ڈاکٹر راج محمد آفریدی کے بقول:
’’مجموعی لحاظ سے ’پھوپھی سبک کلام‘ بچوں کے لئے ایک ایسا تحفہ ہے جو انھیں ہنستے کھیلتے اخلاقیات اور سماجی رشتوں کی اہمیت سکھاتی ہے۔ کوکب مشتاق کا اسلوبِ بیان سادہ، رواں اور شگفتہ ہے جو یقیناً بچوں کے ادب میں ایک معتبر حوالہ بنے گا۔‘‘
ریاض عادل فرماتے ہیں:
’’کوکب مشتاق کا مجموعہ ’پھوپھی سبک کلام‘ واقعی ہوا کے ایک خوشگوار اور خنک جھونکے کی مانند آیا ہے۔ یہ بچوں کے لئے لکھی گئی محض پانچ نظموں پر مشتمل ایک چھوٹی سی، مگر انتہائی مزیدار اور چٹ پٹی کتاب ہے۔‘‘ وہ مزید ان نظموں کی سادہ، سلیس، رواں اور مترنم زبان کو سراہتے ہیں۔
یاسر فاروق نے تشہیری رنگ میں کوکب مشتاقؔ کی حوصلہ افزائی کی ہے:
واہ واہ کیسا لکھیں کوکب
بہت ہی پختہ لکھیں کوکب
’’پھوپھی سبک کلام‘‘ ہیں لائیں
ہر جانب ہی یہ ہیں چھائیں
نظموں میں ہے مزہ، روانی
ہر اک میں ہے ایک کہانی
محمد رمضان شاکر لکھتے ہیں:
’’یہ نظمیں انتہائی دلچسپ، رواں اور خوبصورت تصاویر سے مزین ہیں جو نظم کے اک اک شعر سے مطابقت رکھتی ہیں اور نظم کو پُراثر اور پُرلطف بناتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق فل سائز صفحات اور خوبصورت تصاویر نے کتاب کی کشش میں اضافہ کیا ہے اور یہ کتاب بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
شعری مجموعے ’پھوپھی سبک کلام‘ میں پانچ نظمیں شامل ہیں، جن میں رشتوں کی اہمیت، دیہی معاشرت کی عکاسی، جانوروں سے لگاؤ اور تخلیق کاروں کی پزیرائی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
نظم ’پھوپھی سبک کلام‘ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
اودھم پور کی ہیں رانی
سب کی جانی پہچانی
پھوپھی ان کو کہتے ہیں
کب ہیں کسی سے انجانی
پھوپھی جی کی رشتے داری
پڑتی ہے جو سب کو بھاری
اس نظم میں ٹوٹ بٹوٹ، چھکن، انور ماموں، میاں وہمی، چچا حیرت، پھلکے میاں، اول جلول، چچا فٹافٹ اور چچا تیز گام وغیرہ جیسے کئی کرداروں کے نام آتے ہیں، جس سے نظم میں تشہیری رنگ بھی محسوس ہوتا ہے۔
نظم: ’پھوپھی سبک کلام کی مرغی‘
پھوپھی جی نے مرغی پالی
پیارے پیارے رنگوں والی
سر ہے بھورا، پاؤں پیلے
دم ہے کالی، پر ہیں نیلے
نظم: ’پھوپھی جی نے کڑھی پکائی‘
پھوپھی سبک کلام نے پیاری
مزے کی چٹپٹی اور کراری
سب نے ہی آواز لگائی
پھوپھی جی نے کڑھی پکائی
نظم: ’پھوپھی لائی بلی‘
پھوپھی لائی بلی ایک
لگے بظاہر وہ تو نیک
شیر کی پر خالہ ہے
آفت کی پرکالہ ہے
کتاب میں مشکل الفاظ کے معانی بھی شائع کیے گئے ہیں، مثلاً سبک کلام، کہسار، روٹین، راج دلاری، چانٹے، کڑھی، دہی کے کونڈے، شنوائی، بکھیڑے، آسائش، عاجز، جون میں آنا، معجون، نان، حلوہ پوری اور دہقان وغیرہ۔ تاہم ’متوالا‘، ’ناک میں دم‘ اور ’آفت کی پرکالہ‘ جیسے الفاظ اور محاوروں کی وضاحت موجود نہیں۔
پانچوں نظموں میں مشکل الفاظ کی موجودگی اور بعض اشعار میں پھوپھی کی شخصیت کے منفی پہلو قاری کو کچھ الجھن میں مبتلا کرتے ہیں۔ کتاب کے صفحات 22 اور 23 پر اشعار کی تکرار بھی نظر آتی ہے۔ دوسری طرف صفحہ 24 پر ’رنگ بھریں‘ کا سلسلہ بچوں کے لئے ایک مثبت اور دلچسپ سرگرمی ہے۔ اسی طرح اسکیچز کی شمولیت بھی قابلِ تعریف ہے، جو یقیناً بچوں کو کتاب کی جانب مائل کر سکتی ہے۔
تاہم کوکب مشتاقؔ کی نظموں میں سبق آموز پیغام کی کمی محسوس ہوتی ہے، جس پر مزید توجہ دی جاسکتی ہے۔ بچوں کے ادب میں تفریح کے ساتھ تربیت اور مثبت اقدار کی ترسیل بھی اہمیت رکھتی ہے۔
بہرحال، یقینِ کامل ہے کہ کوکب مشتاقؔ ’پھوپھی سبک کلام‘ کی بدولت ادبِ اطفال میں نہ صرف یاد رکھی جائیں گی بلکہ ننھے قارئین کے دل و دماغ پر اپنے تخلیق کردہ کردار کی چھاپ نقش کرنے میں بھی کامیاب ہوں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں