جنگ نیوز
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے امریکہ کے شہر شکاگو، الینوائے میں منعقدہ آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) عالمی سابق طلبہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیا اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا۔
منوج سنہا نے مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انجینئرنگ تعلیم کے فروغ اور ہندوستان کو صنعتی ملک بنانے میں ان کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالویہ کے نظریات آج بھی نئی نسلوں کو ٹیکنالوجی، معیشت اور سماجی خدمت کے میدان میں آگے بڑھنے کی تحریک دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی صلاحیت اور مشینی ذہانت کو یکجا کرکے اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دے سکتی ہے، تاہم اسے اخلاقیات، بنیادی اقدار اور سخت انسانی نگرانی سے وابستہ رکھنا ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نیا ہندوستان اندرونی طور پر مضبوط، بیرونی دنیا میں پراعتماد اور انسانیت کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہندوستان کا لمحہ ہے، یہ ہندوستان کی صدی ہے اور یہ ایک ایسی تہذیبی طاقت کا عروج ہے جو پراعتماد، ہمدرد، اختراعی اور ناقابل تسخیر ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان دنیا میں اپنا مقام مضبوط کرنے اور عالمی قیادت کے لئے تیار ہو رہا ہے۔
منوج سنہا نے جموں و کشمیر میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد خطے میں ترقی، سرمایہ کاری اور مواقع کے نئے راستے کھلے ہیں۔
انہوں نے آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) کے عالمی سابق طلبہ اور ہندوستانی تارکین وطن پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی معاشی و تہذیبی پیش رفت میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے سابق طلبہ کے لئے چار نکاتی لائحۂ عمل پیش کرتے ہوئے سرپرستی اور سرمایہ کاری، امریکی و ہندوستانی اداروں کے درمیان شراکت داری، ہندوستان کی ترقی کی درست تصویر اجاگر کرنے اور اپنی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ملک سے دوبارہ جوڑنے پر زور دیا۔
موقع پر آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) عالمی سابق طلبہ انجمن کے ارکان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔


