پرائیویٹ کمرے میں زچگی کے مبینہ واقعے کے بعد نوزائیدہ بچے کی موت، خاتون وینٹی لیٹر پر

راجوری، 7 ستمبر:

راجوری میں ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں زچگی کے دوران مبینہ طور پر ایک نوزائیدہ    بچے کی موت ہو گئی، جبکہ ماں کی حالت تشویشناک ہے اور اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری میں وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا گیا ہے۔

خاتون، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، ضلع ریاسی کے سب ڈویژن ماہور کی تحصیل چاسانہ کے گاؤں مام کوٹ کی رہنے والی ہے۔ اسے زچگی کے لیے جی ایم سی راجوری لایا گیا تھا۔

خاتون کے اہل خانہ کے مطابق، ایک فی میل نرسنگ اسٹاف، ایک آشا ورکر اور ایک دیگر خاتون نارمل ڈلیوری کا جھانسا دے کر اسے ہسپتال سے باہر ایک پرائیویٹ کمرے میں لے گئیں۔

اہل خانہ نے بتایا، "ہم بچے کی پیدائش کا انتظار کر رہے تھے کہ نرسنگ اسٹاف اور دیگر افراد ہمارے پاس آئے اور ہمیں ورغلایا۔”

اہل خانہ کا الزام ہے کہ پرائیویٹ کمرے میں زچگی کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں، جس کے نتیجے میں نوائیدہ بچے کی موت ہو گئی، جبکہ شدید خون بہنے کی وجہ سے خاتون کی حالت بگڑ گئی اور اسے بعد میں نازک حالت میں جی ایم سی راجوری منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے خاتون کے شوہر نے الزام لگایا کہ نرسنگ اسٹاف، آشا ورکر اور ایک دیگر خاتون نے انہیں زچگی کے لیے پرائیویٹ کمرے میں منتقل ہونے پر راضی کیا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہوئیں جس کے نتیجے میں بچے کی موت ہو گئی، جبکہ ان کی بیوی اب زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔

شوہر نے اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

اس دوران، راجوری پولیس نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے نوائیدہ بچے کی موت سے متعلق حالات کے حوالے سے تھانہ راجوری میں موصول ہونے والی ایک تحریری شکایت کا نوٹس لیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ اس کیس میں جی ایم سی راجوری کی ایک خاتون ملازم سمیت دو افراد کا ملوث ہونا سامنے آیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

پرائیویٹ کمرے میں زچگی کے مبینہ واقعے کے بعد نوزائیدہ بچے کی موت، خاتون وینٹی لیٹر پر

راجوری، 7 ستمبر:

راجوری میں ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں زچگی کے دوران مبینہ طور پر ایک نوزائیدہ    بچے کی موت ہو گئی، جبکہ ماں کی حالت تشویشناک ہے اور اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری میں وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا گیا ہے۔

خاتون، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، ضلع ریاسی کے سب ڈویژن ماہور کی تحصیل چاسانہ کے گاؤں مام کوٹ کی رہنے والی ہے۔ اسے زچگی کے لیے جی ایم سی راجوری لایا گیا تھا۔

خاتون کے اہل خانہ کے مطابق، ایک فی میل نرسنگ اسٹاف، ایک آشا ورکر اور ایک دیگر خاتون نارمل ڈلیوری کا جھانسا دے کر اسے ہسپتال سے باہر ایک پرائیویٹ کمرے میں لے گئیں۔

اہل خانہ نے بتایا، "ہم بچے کی پیدائش کا انتظار کر رہے تھے کہ نرسنگ اسٹاف اور دیگر افراد ہمارے پاس آئے اور ہمیں ورغلایا۔”

اہل خانہ کا الزام ہے کہ پرائیویٹ کمرے میں زچگی کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں، جس کے نتیجے میں نوائیدہ بچے کی موت ہو گئی، جبکہ شدید خون بہنے کی وجہ سے خاتون کی حالت بگڑ گئی اور اسے بعد میں نازک حالت میں جی ایم سی راجوری منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے خاتون کے شوہر نے الزام لگایا کہ نرسنگ اسٹاف، آشا ورکر اور ایک دیگر خاتون نے انہیں زچگی کے لیے پرائیویٹ کمرے میں منتقل ہونے پر راضی کیا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہوئیں جس کے نتیجے میں بچے کی موت ہو گئی، جبکہ ان کی بیوی اب زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔

شوہر نے اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

اس دوران، راجوری پولیس نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے نوائیدہ بچے کی موت سے متعلق حالات کے حوالے سے تھانہ راجوری میں موصول ہونے والی ایک تحریری شکایت کا نوٹس لیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ اس کیس میں جی ایم سی راجوری کی ایک خاتون ملازم سمیت دو افراد کا ملوث ہونا سامنے آیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں