چراغ جلتا رہا: تنقیدی و تحسینی زاویے

 

 

شکیل رشڑوی

اردو تنقید اور مابعد جدید ادبی منظر نامے پر تخلیقی و تنقیدی توازن قائم رکھنا، عصرِ حاضر کے اہم ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اس پس منظر میں جب میرے مخلص، سنجیدہ شاعروادیب ومبصر دوست جنابِ نسیم اشک نے شفقت فرماتے ہوئے اپنی تازہ ترین نثری کاوش ”چراغ جلتا رہا“ مجھے بطورِ تحفہ پیش کی، تو اس کا مطالعہ میرے لئے ایک علمی مسرت اور تنقیدی ذمہ داری کا باعث بن گیا۔ 112 صفحات پر مشتمل یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ نسیم اشک کے فکری سفر، مشاہداتی گہرائی اور مختلف اصناف و شخصیات پر ان کی متوازن تنقیدی بصیرت کا بین ثبوت ہے، جسے پریس کارنر، کانکی نارہ (مغربی بنگال) نے خوبصورت گٹ اپ کے ساتھ شائع کیا ہے۔
یہ نسیم اشک صاحب کا دوسرا نثری مجموعہ ہے، اس سے قبل وہ ”بساطِ فن“ کے ذریعے اپنے تخلیقی و نثری نقوش قارئین کے سپرد کر چکے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب کا انتساب انہوں نے علم و ادب کی روشنی کے استعارے، ڈاکٹر دبیر احمد کے نام کیا ہے، جو مصنف کے اعلیٰ ادبی ذوق اور قدر شناسی کا آئینہ دار ہے۔
کتاب کا آغاز مصنف کے پیش لفظ ”اپنی بات“ سے ہوتا ہے، جو روایتی دیباچوں سے ہٹ کر ایک تخلیق کار کی داخلی کیفیات، زندگی کی ناہمواریوں اور نامساعد حالات کے خلاف عزمِ مسلسل کا بیانیہ ہے۔ نسیم اشک نے تپتے صحراؤں میں پھول اُگانے کے استعارے سے اپنے ادبی سفر کی دشواریوں کو واضح کیا ہے۔ وہ انتہائی انکساری کے ساتھ اپنی تحریروں کو ”آڑی ترچھی لکیریں“ کہتے ہیں، مگر اُن کا یہ اعتراف کہ ”زندگی کے شب و روز میں طوفان آتے رہے مگر حیات کے ساتھ ادب کا چراغ جلتا رہا تھا اور جل رہا ہے“، کتاب کے عنوان کی معنویت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علمی سفر میں انہوں نے ڈاکٹر نسیم احمد نسیم، ڈاکٹر خان محمد رضوان (دہلی) اور ڈاکٹر نعمان قیصر کی رہنمائی اور قیمتی آراء کا شکریہ ادا کیا ہے جو ان کےادبی ذوق کا ثبوت ہے۔
مضامین کا تنقیدی اشاریہ اور فکری جہات
کتاب میں شامل مضامین کا دائرہ کار کلاسک سے لے کر مابعد جدیدیت اور مکتوب نگاری سے لے کر رثائی ادب اور ریڈیائی ڈراموں تک پھیلا ہوا ہے۔ *ذیل میں اہم مضامین جو قابلِ ستائش ہے، وہ ہیں
۱۔ مولانا آزاد کا نثری اختصاص اور انتقادی پہلو (غبارِ خاطر کی روشنی میں):
نسیم اشک نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی کثیر الجہات شخصیت بالخصوص ان کی مکتوب نگاری کا گہرا اسلوبیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ نقاد نے درست نشان دہی کی ہے کہ ’غبارِ خاطر‘ کے ۲۴ خطوط روایتی آداب و القاب اور محض خبر رسانی سے پاک ہیں، بلکہ ان میں فلسفۂ زیست اور انشائیہ، سوانح و افسانہ طرازی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ پروفیسر شہناز نبی کے حوالے سے انہوں نے اسلوب کی انفرادیت کو واضح کیا ہے۔ نسیم اشک کا یہ تجزیہ صائب ہے کہ مولانا آزاد قید و بند کی صعوبتوں میں بھی شکوہ سنج ہونے کے بجائے زندگی کا روشن پہلو تلاش کرتے ہیں۔ عربی و فارسی اشعار کی کثرت اور فلسفیانہ گہرائی کو مصنف نے مولانا کی ذہانت و فطانت کا ثبوت قرار دیا ہے۔
۲۔ نظیر اکبر آبادی کی نظم ”آدمی نامہ“:
اس مضمون میں نسیم اشک نے نظیر کو ’عوامی شاعر‘ تسلیم کرتے ہوئے ان کی شاہکار نظم ”آدمی نامہ“ کی آفاقیت پر گفتگو کی ہے۔ مبصر نے نظم کے اس اہم پہلو کو ابھارا ہے کہ آدمی بادشاہ ہو یا فقیر، رہبر ہو یا رہزن، عبادت گاہ کا امام ہو یا جوتیاں چرانے والا—وہ اپنی تمام تر صفات و تضادات کے ساتھ آدمی ہی رہتا ہے۔ نسیم اشک نے نظم کے کلیدی فقرے ”سو ہے وہ بھی آدمی“ کے ذو معنی مفہوم کی عمدہ تشریح کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا محض شکل و شباہت کی بنیاد پر ہر کوئی آدمی کہلانے کا مستحق ہے یا اس کے لئے آدمیت کے اوصاف بھی ضروری ہیں؟
۳۔ ابنِ صفی کی شعری جمالیات:
ابنِ صفی (اسرار احمد) کو عام طور پر جاسوسی ناول نگار کے طور پر جانا جاتا ہے، مگر نسیم اشک نے ان کی مخفی شعری صلاحیتوں (بطور اسرار ناروی) کو موضوعِ بحث بنا کر ایک اہم تنقیدی خلا کو پُر کیا ہے۔ انہوں نے ابنِ صفی کے اشعار کی سادگی، سلاست اور عام فہم زبان کی تعریف کی ہے اور مومن و غالب کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ مقبولِ عام شاعری وہی ہے جو ابہام سے پاک ہو۔ ابنِ صفی کی غزلوں میں عصری مسائل، انسانیت کی پامالی اور شیزوفرینیا کے مرض سے صحت یابی کے بعد کی داخلی کیفیات کا عکس نسیم اشک نے نہایت خوبصورتی سے دریافت کیا ہے۔
۴۔ سجاد ظہیر کا افسانہ ”گرمیوں کی ایک رات“:
ترقی پسند تحریک کے تناظر میں لکھے گئے اس افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے نسیم اشک نے سجاد ظہیر کی حقیقت نگاری اور طبقاتی کشمکش کی منظر کشی کو سراہا ہے۔ انہوں نے افسانے کے تین کرداروں: لالہ جی (ہیڈ کلرک)، منشی برکت علی اور جمن چپراسی کے ذریعے سماجی ناہمواری اور مقتدر طبقے کی نفسیات کو واضح کیا ہے۔ لکھنؤ کے امین آباد پارک کی منظر نگاری کا جو اقتباس انہوں نے منتخب کیا ہے، وہ افسانہ نگار کی جزئیات نگاری اور نقاد کی گہری نظر کو ثابت کرتا ہے۔
۵۔ ظفر اوگانوی ”بیچ کا ورق“ کے تناظر میں:
یہ مضمون ظفر اوگانوی کی تجریدی و علامتی افسانہ نگاری پر ایک فکر انگیز تاثر ہے۔ نسیم اشک نے پروفیسر ڈاکٹر دبیر احمد کی مرتب کردہ کتاب کے حوالے سے مابعد جدید افسانے کی گتھیوں کو سلجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انہوں نے ظفر اوگانوی کے نمائندہ افسانے ”انٹرا موروس“، ”نیا آئینہ“ اور ”نئی سڑک“ کا تجزیہ کرتے ہوئے وجودیت کی تلاش، داخلی تصادم اور تنہائی کے خوف کو موضوع بنایا ہے اور ڈاکٹر دبیر احمد کے بسیط مقدمے کو ایک تاریخی دستاویز قرار دیا ہے۔
۶۔ وحید عرشی: یادوں کے ریگزاروں پر ایک آبلہ پا شاعر:
پروفیسر وحید عرشی کی ہمہ جہت شخصیت (مصور، موسیقار اور شاعر) پر گفتگو کرتے ہوئے نسیم اشک نے ان کے شعری مجموعے ”یادوں کا زنداں“ کا محاکمہ کیا ہے۔ انہوں نے عرشی کی شاعری میں ’یادوں‘، ’جنون‘ اور ’تنہائی‘ کو بنیادی عناصر قرار دیتے ہوئے ان کے کلاسیکی رچاؤ اور دردمندی کی تحسین کی ہے۔ ان کی نظم ”بچھڑی ہوئی ماں کے نام“ اور نظمیں ”تنقید“ اور ”بیٹ ٹو“ کا تجزیہ کرکے عرشی کے منفرد اسلوب کو نمایاں کیا ہے۔
۷۔ پروفیسر اعزاز افضل رثائی کلام کے گلشن میں:
رثائی ادب اردو کا ایک انتہائی معتبر حصہ ہے۔ نسیم اشک نے پروفیسر اعزاز افضل کے مجموعے ”بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے“ کا تفصیلی اور رقت آمیز مطالعہ پیش کیا ہے۔ مبصر نے مقتلِ کربلا کے پس منظر میں حضرت امام حسین، حضرت عباس، علی اکبر اور علی اصغر کی شہادتوں پر کہے گئے سلام، نوحوں اور قطعات کی شعری محاسن اور مناصب و مراتب کے پاسداری کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ یہ مضمون نسیم اشک کے رثائی شعور اور اہل بیت سے سچی عقیدت کا مظہر ہے۔
۸۔ اردو شاعری کا خمریاتی رنگ:
یہ کتاب کا ایک انتہائی دلچسپ اور بوقلموں مضمون ہے جس میں نسیم اشک نے اردو شاعری میں شراب، ساقی، مے خانہ اور ساغر و مینا کے استعاراتی اور حقیقی استعمال کا کلاسک سے لے کر عہدِ حاضر تک احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے ریاض خیر آبادی (خمریات کے امام)، غالب، داغ، جگر، فیض، مجروح، ساحر لدھیانوی، جون ایلیا، شکیل بدایونی اور صوفی شعراء جیسے میر درد اور سراج اورنگ آبادی کے اشعار کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ خمریات محض نشہ بازی کا نام نہیں، بلکہ یہ سرشاری، عرفان، طنز و ظرافت اور زاہدِ خشک کے خلاف ایک احتجاجی اسلوب بھی ہے۔
۹۔ ریڈیائی ڈراموں کے آئینہ خانے میں انیس رفیع:
نسیم اشک نے اس مضمون میں عہد ساز افسانہ نگار انیس رفیع کی ریڈیائی ڈراما نگاری کی تکنیک پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈیائی ڈراما صرف سمعی (آئدیہ) ہوتا ہے، اس لئے اس میں مائیکروفون کے استعمال، آواز کے اتار چڑھاؤ اور مکالموں کی جادوگری کی کیا اہمیت ہے۔ انیس رفیع کے ڈراموں جیسے ”اوکھلی“، ”اٹھنی“ اور ”کہیں دال گل نہ جائے“ کا ذکر کرکے ان کی تکنیکی مہارت کو سراہا ہے۔
جنابِ نسیم اشک کا اسلوبِ نگارش سادہ، رواں اور شگفتہ ہے۔ وہ اصطلاحات کے بوجھ تلے قاری کو دبانے کے بجائے گفتگو میں ایسی مٹھاس اور تسلسل پیدا کرتے ہیں کہ قاری اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ ان کی تنقید ”تنقیص“ یا مرشدانہ فیصلے صادر کرنے کے بجائے ”تفہیم و تحسین“ کی راہ روشن کرتی ہے۔ وہ ہر تخلیق کو اس کے عہد کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور متن کی تہوں میں اتر کر معنی کی نئی جہتیں تلاش کرتے ہیںق۔
”چراغ جلتا رہا“ مغربی بنگال کے موجودہ ادبی منظر نامے میں ایک گراں قدر اور خوش آئند اضافہ ہے۔ نسیم اشک نے جن موضوعات اور شخصیات کا انتخاب کیا ہے، وہ ان کے وسیع مطالعے اور متوازن تنقیدی و جمالیاتی ذوق پر دال ہیں۔ یہ کتاب علم و ادب کے طالب علموں، محققین اور عام قارئین کے لئے ایک روشن ’لائٹ پوسٹ‘ کا کام کرے گی۔
میں اپنے عزیز دوست نسیم اشک کو اس کامیاب اور بصیرت افروز نثری کاوش پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ادب کی بساط پر ان کے افکار کا یہ روشن چراغ سدا یونہی پر ضیا رہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

چراغ جلتا رہا: تنقیدی و تحسینی زاویے

 

 

شکیل رشڑوی

اردو تنقید اور مابعد جدید ادبی منظر نامے پر تخلیقی و تنقیدی توازن قائم رکھنا، عصرِ حاضر کے اہم ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اس پس منظر میں جب میرے مخلص، سنجیدہ شاعروادیب ومبصر دوست جنابِ نسیم اشک نے شفقت فرماتے ہوئے اپنی تازہ ترین نثری کاوش ”چراغ جلتا رہا“ مجھے بطورِ تحفہ پیش کی، تو اس کا مطالعہ میرے لئے ایک علمی مسرت اور تنقیدی ذمہ داری کا باعث بن گیا۔ 112 صفحات پر مشتمل یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ نسیم اشک کے فکری سفر، مشاہداتی گہرائی اور مختلف اصناف و شخصیات پر ان کی متوازن تنقیدی بصیرت کا بین ثبوت ہے، جسے پریس کارنر، کانکی نارہ (مغربی بنگال) نے خوبصورت گٹ اپ کے ساتھ شائع کیا ہے۔
یہ نسیم اشک صاحب کا دوسرا نثری مجموعہ ہے، اس سے قبل وہ ”بساطِ فن“ کے ذریعے اپنے تخلیقی و نثری نقوش قارئین کے سپرد کر چکے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب کا انتساب انہوں نے علم و ادب کی روشنی کے استعارے، ڈاکٹر دبیر احمد کے نام کیا ہے، جو مصنف کے اعلیٰ ادبی ذوق اور قدر شناسی کا آئینہ دار ہے۔
کتاب کا آغاز مصنف کے پیش لفظ ”اپنی بات“ سے ہوتا ہے، جو روایتی دیباچوں سے ہٹ کر ایک تخلیق کار کی داخلی کیفیات، زندگی کی ناہمواریوں اور نامساعد حالات کے خلاف عزمِ مسلسل کا بیانیہ ہے۔ نسیم اشک نے تپتے صحراؤں میں پھول اُگانے کے استعارے سے اپنے ادبی سفر کی دشواریوں کو واضح کیا ہے۔ وہ انتہائی انکساری کے ساتھ اپنی تحریروں کو ”آڑی ترچھی لکیریں“ کہتے ہیں، مگر اُن کا یہ اعتراف کہ ”زندگی کے شب و روز میں طوفان آتے رہے مگر حیات کے ساتھ ادب کا چراغ جلتا رہا تھا اور جل رہا ہے“، کتاب کے عنوان کی معنویت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علمی سفر میں انہوں نے ڈاکٹر نسیم احمد نسیم، ڈاکٹر خان محمد رضوان (دہلی) اور ڈاکٹر نعمان قیصر کی رہنمائی اور قیمتی آراء کا شکریہ ادا کیا ہے جو ان کےادبی ذوق کا ثبوت ہے۔
مضامین کا تنقیدی اشاریہ اور فکری جہات
کتاب میں شامل مضامین کا دائرہ کار کلاسک سے لے کر مابعد جدیدیت اور مکتوب نگاری سے لے کر رثائی ادب اور ریڈیائی ڈراموں تک پھیلا ہوا ہے۔ *ذیل میں اہم مضامین جو قابلِ ستائش ہے، وہ ہیں
۱۔ مولانا آزاد کا نثری اختصاص اور انتقادی پہلو (غبارِ خاطر کی روشنی میں):
نسیم اشک نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی کثیر الجہات شخصیت بالخصوص ان کی مکتوب نگاری کا گہرا اسلوبیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ نقاد نے درست نشان دہی کی ہے کہ ’غبارِ خاطر‘ کے ۲۴ خطوط روایتی آداب و القاب اور محض خبر رسانی سے پاک ہیں، بلکہ ان میں فلسفۂ زیست اور انشائیہ، سوانح و افسانہ طرازی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ پروفیسر شہناز نبی کے حوالے سے انہوں نے اسلوب کی انفرادیت کو واضح کیا ہے۔ نسیم اشک کا یہ تجزیہ صائب ہے کہ مولانا آزاد قید و بند کی صعوبتوں میں بھی شکوہ سنج ہونے کے بجائے زندگی کا روشن پہلو تلاش کرتے ہیں۔ عربی و فارسی اشعار کی کثرت اور فلسفیانہ گہرائی کو مصنف نے مولانا کی ذہانت و فطانت کا ثبوت قرار دیا ہے۔
۲۔ نظیر اکبر آبادی کی نظم ”آدمی نامہ“:
اس مضمون میں نسیم اشک نے نظیر کو ’عوامی شاعر‘ تسلیم کرتے ہوئے ان کی شاہکار نظم ”آدمی نامہ“ کی آفاقیت پر گفتگو کی ہے۔ مبصر نے نظم کے اس اہم پہلو کو ابھارا ہے کہ آدمی بادشاہ ہو یا فقیر، رہبر ہو یا رہزن، عبادت گاہ کا امام ہو یا جوتیاں چرانے والا—وہ اپنی تمام تر صفات و تضادات کے ساتھ آدمی ہی رہتا ہے۔ نسیم اشک نے نظم کے کلیدی فقرے ”سو ہے وہ بھی آدمی“ کے ذو معنی مفہوم کی عمدہ تشریح کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا محض شکل و شباہت کی بنیاد پر ہر کوئی آدمی کہلانے کا مستحق ہے یا اس کے لئے آدمیت کے اوصاف بھی ضروری ہیں؟
۳۔ ابنِ صفی کی شعری جمالیات:
ابنِ صفی (اسرار احمد) کو عام طور پر جاسوسی ناول نگار کے طور پر جانا جاتا ہے، مگر نسیم اشک نے ان کی مخفی شعری صلاحیتوں (بطور اسرار ناروی) کو موضوعِ بحث بنا کر ایک اہم تنقیدی خلا کو پُر کیا ہے۔ انہوں نے ابنِ صفی کے اشعار کی سادگی، سلاست اور عام فہم زبان کی تعریف کی ہے اور مومن و غالب کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ مقبولِ عام شاعری وہی ہے جو ابہام سے پاک ہو۔ ابنِ صفی کی غزلوں میں عصری مسائل، انسانیت کی پامالی اور شیزوفرینیا کے مرض سے صحت یابی کے بعد کی داخلی کیفیات کا عکس نسیم اشک نے نہایت خوبصورتی سے دریافت کیا ہے۔
۴۔ سجاد ظہیر کا افسانہ ”گرمیوں کی ایک رات“:
ترقی پسند تحریک کے تناظر میں لکھے گئے اس افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے نسیم اشک نے سجاد ظہیر کی حقیقت نگاری اور طبقاتی کشمکش کی منظر کشی کو سراہا ہے۔ انہوں نے افسانے کے تین کرداروں: لالہ جی (ہیڈ کلرک)، منشی برکت علی اور جمن چپراسی کے ذریعے سماجی ناہمواری اور مقتدر طبقے کی نفسیات کو واضح کیا ہے۔ لکھنؤ کے امین آباد پارک کی منظر نگاری کا جو اقتباس انہوں نے منتخب کیا ہے، وہ افسانہ نگار کی جزئیات نگاری اور نقاد کی گہری نظر کو ثابت کرتا ہے۔
۵۔ ظفر اوگانوی ”بیچ کا ورق“ کے تناظر میں:
یہ مضمون ظفر اوگانوی کی تجریدی و علامتی افسانہ نگاری پر ایک فکر انگیز تاثر ہے۔ نسیم اشک نے پروفیسر ڈاکٹر دبیر احمد کی مرتب کردہ کتاب کے حوالے سے مابعد جدید افسانے کی گتھیوں کو سلجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انہوں نے ظفر اوگانوی کے نمائندہ افسانے ”انٹرا موروس“، ”نیا آئینہ“ اور ”نئی سڑک“ کا تجزیہ کرتے ہوئے وجودیت کی تلاش، داخلی تصادم اور تنہائی کے خوف کو موضوع بنایا ہے اور ڈاکٹر دبیر احمد کے بسیط مقدمے کو ایک تاریخی دستاویز قرار دیا ہے۔
۶۔ وحید عرشی: یادوں کے ریگزاروں پر ایک آبلہ پا شاعر:
پروفیسر وحید عرشی کی ہمہ جہت شخصیت (مصور، موسیقار اور شاعر) پر گفتگو کرتے ہوئے نسیم اشک نے ان کے شعری مجموعے ”یادوں کا زنداں“ کا محاکمہ کیا ہے۔ انہوں نے عرشی کی شاعری میں ’یادوں‘، ’جنون‘ اور ’تنہائی‘ کو بنیادی عناصر قرار دیتے ہوئے ان کے کلاسیکی رچاؤ اور دردمندی کی تحسین کی ہے۔ ان کی نظم ”بچھڑی ہوئی ماں کے نام“ اور نظمیں ”تنقید“ اور ”بیٹ ٹو“ کا تجزیہ کرکے عرشی کے منفرد اسلوب کو نمایاں کیا ہے۔
۷۔ پروفیسر اعزاز افضل رثائی کلام کے گلشن میں:
رثائی ادب اردو کا ایک انتہائی معتبر حصہ ہے۔ نسیم اشک نے پروفیسر اعزاز افضل کے مجموعے ”بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے“ کا تفصیلی اور رقت آمیز مطالعہ پیش کیا ہے۔ مبصر نے مقتلِ کربلا کے پس منظر میں حضرت امام حسین، حضرت عباس، علی اکبر اور علی اصغر کی شہادتوں پر کہے گئے سلام، نوحوں اور قطعات کی شعری محاسن اور مناصب و مراتب کے پاسداری کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ یہ مضمون نسیم اشک کے رثائی شعور اور اہل بیت سے سچی عقیدت کا مظہر ہے۔
۸۔ اردو شاعری کا خمریاتی رنگ:
یہ کتاب کا ایک انتہائی دلچسپ اور بوقلموں مضمون ہے جس میں نسیم اشک نے اردو شاعری میں شراب، ساقی، مے خانہ اور ساغر و مینا کے استعاراتی اور حقیقی استعمال کا کلاسک سے لے کر عہدِ حاضر تک احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے ریاض خیر آبادی (خمریات کے امام)، غالب، داغ، جگر، فیض، مجروح، ساحر لدھیانوی، جون ایلیا، شکیل بدایونی اور صوفی شعراء جیسے میر درد اور سراج اورنگ آبادی کے اشعار کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ خمریات محض نشہ بازی کا نام نہیں، بلکہ یہ سرشاری، عرفان، طنز و ظرافت اور زاہدِ خشک کے خلاف ایک احتجاجی اسلوب بھی ہے۔
۹۔ ریڈیائی ڈراموں کے آئینہ خانے میں انیس رفیع:
نسیم اشک نے اس مضمون میں عہد ساز افسانہ نگار انیس رفیع کی ریڈیائی ڈراما نگاری کی تکنیک پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈیائی ڈراما صرف سمعی (آئدیہ) ہوتا ہے، اس لئے اس میں مائیکروفون کے استعمال، آواز کے اتار چڑھاؤ اور مکالموں کی جادوگری کی کیا اہمیت ہے۔ انیس رفیع کے ڈراموں جیسے ”اوکھلی“، ”اٹھنی“ اور ”کہیں دال گل نہ جائے“ کا ذکر کرکے ان کی تکنیکی مہارت کو سراہا ہے۔
جنابِ نسیم اشک کا اسلوبِ نگارش سادہ، رواں اور شگفتہ ہے۔ وہ اصطلاحات کے بوجھ تلے قاری کو دبانے کے بجائے گفتگو میں ایسی مٹھاس اور تسلسل پیدا کرتے ہیں کہ قاری اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ ان کی تنقید ”تنقیص“ یا مرشدانہ فیصلے صادر کرنے کے بجائے ”تفہیم و تحسین“ کی راہ روشن کرتی ہے۔ وہ ہر تخلیق کو اس کے عہد کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور متن کی تہوں میں اتر کر معنی کی نئی جہتیں تلاش کرتے ہیںق۔
”چراغ جلتا رہا“ مغربی بنگال کے موجودہ ادبی منظر نامے میں ایک گراں قدر اور خوش آئند اضافہ ہے۔ نسیم اشک نے جن موضوعات اور شخصیات کا انتخاب کیا ہے، وہ ان کے وسیع مطالعے اور متوازن تنقیدی و جمالیاتی ذوق پر دال ہیں۔ یہ کتاب علم و ادب کے طالب علموں، محققین اور عام قارئین کے لئے ایک روشن ’لائٹ پوسٹ‘ کا کام کرے گی۔
میں اپنے عزیز دوست نسیم اشک کو اس کامیاب اور بصیرت افروز نثری کاوش پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ادب کی بساط پر ان کے افکار کا یہ روشن چراغ سدا یونہی پر ضیا رہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں