ایک سال میں 2 کروڑ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 21 ممالک میں تقریباً 2 کروڑ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کو ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک سے زائد بچے کم از کم ایک قسم کی آن لائن جنسی بدسلوکی سے متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً 60 فیصد واقعات Facebook، WhatsApp، Instagram، Snapchat اور TikTok جیسے سماجی ذرائع ابلاغ پر پیش آئے۔
تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا گیا، جبکہ کئی بچوں کو جنسی گفتگو پر مجبور کیا گیا یا ان کی نجی تصاویر بغیر اجازت شیئر کی گئیں۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت سے تیار کیے جانے والے جنسی مواد پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ نو ممالک میں تقریباً 11 لاکھ بچوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی جعلی جنسی تصاویر یا ویڈیوز تیار کی گئیں۔
یونیسیف کے مطابق متاثرہ بچوں میں اضطراب، خودکشی کے خیالات اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ اس کے باوجود ایک فیصد سے بھی کم واقعات حکام یا امدادی مراکز تک رپورٹ کیے گئے، جو آن لائن استحصال کی روک تھام اور متاثرہ بچوں تک مدد پہنچانے کے نظام میں موجود بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
ادارے نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لئے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، مصنوعی ذہانت سے متعلق جنسی استحصال سے نمٹنے کے لئے قوانین کو جدید بنایا جائے اور شکایات درج کرنے و متاثرہ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

ایک سال میں 2 کروڑ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 21 ممالک میں تقریباً 2 کروڑ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کو ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک سے زائد بچے کم از کم ایک قسم کی آن لائن جنسی بدسلوکی سے متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً 60 فیصد واقعات Facebook، WhatsApp، Instagram، Snapchat اور TikTok جیسے سماجی ذرائع ابلاغ پر پیش آئے۔
تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا گیا، جبکہ کئی بچوں کو جنسی گفتگو پر مجبور کیا گیا یا ان کی نجی تصاویر بغیر اجازت شیئر کی گئیں۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت سے تیار کیے جانے والے جنسی مواد پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ نو ممالک میں تقریباً 11 لاکھ بچوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی جعلی جنسی تصاویر یا ویڈیوز تیار کی گئیں۔
یونیسیف کے مطابق متاثرہ بچوں میں اضطراب، خودکشی کے خیالات اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ اس کے باوجود ایک فیصد سے بھی کم واقعات حکام یا امدادی مراکز تک رپورٹ کیے گئے، جو آن لائن استحصال کی روک تھام اور متاثرہ بچوں تک مدد پہنچانے کے نظام میں موجود بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
ادارے نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لئے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، مصنوعی ذہانت سے متعلق جنسی استحصال سے نمٹنے کے لئے قوانین کو جدید بنایا جائے اور شکایات درج کرنے و متاثرہ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں