جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے کلاس فور کی 2800 آسامیوں کے اشتہار کے بعد زیادہ سے زیادہ تعلیمی قابلیت کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی معمولی سرکاری ملازمت کے لئے قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔
اگر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ نوجوان کلاس فور کی نوکری کے خواہش مند ہیں تو یہ محض ’’اوور کوالیفیکیشن‘‘ Over Qualificationکا مسئلہ نہیں، بلکہ روزگار کے سنگین بحران کی علامت ہے۔ تاہم، تعلیمی حد ختم کرنے سے ان افراد کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں جن کے لئے یہ پابندی ابتدا ہی میں عائد کی گئی تھی۔
یہ پابندی بھی کسی خاص طبقے کو محروم کرنے کے لئے نہیں بلکہ کم تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدواروں کے لئے روزگار کے مواقع محفوظ رکھنے کے مقصد سے متعارف کرائی گئی تھی۔ اگر اسے مکمل طور پر ختم کیا جاتا ہے تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ان امیدواروں کے مستقبل اور مواقع کا تحفظ کیسے کیا جائے گا۔
دوسری جانب، تعلیم یافتہ نوجوانوں کو صرف اس بنیاد پر سرکاری ملازمت کے دروازے سے باہر رکھنا بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جب ہزاروں نوجوان ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود محدود مواقع کے باعث کلاس فور کی آسامیوں کا رخ کرتے ہیں تو یہ پورے روزگار نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
لہٰذا حکومت کو محض شرط ختم کرنے یا برقرار رکھنے کے بجائے دونوں طبقات کے مفادات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ کلاس فور کی نوکری کے لئے کون اہل ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کلاس فور کی نوکری تک پہنچنے پر مجبور ہی کیوں ہونا پڑ رہا ہے؟
روزگار کی یہ گتھی قواعد بدلنے سے نہیں، روزگار کے نئے اور باعزت مواقع پیدا کرنے سے سلجھے گی۔ بصورتِ دیگر، آج کلاس فور کی آسامیوں پر جاری بحث کل اس سے بھی نچلی سطح کی ملازمتوں کے لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی دوڑ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
مسئلہ حدِ تعلیم کا نہیں، روزگار کا ہے
مسئلہ حدِ تعلیم کا نہیں، روزگار کا ہے
جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے کلاس فور کی 2800 آسامیوں کے اشتہار کے بعد زیادہ سے زیادہ تعلیمی قابلیت کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی معمولی سرکاری ملازمت کے لئے قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔
اگر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ نوجوان کلاس فور کی نوکری کے خواہش مند ہیں تو یہ محض ’’اوور کوالیفیکیشن‘‘ Over Qualificationکا مسئلہ نہیں، بلکہ روزگار کے سنگین بحران کی علامت ہے۔ تاہم، تعلیمی حد ختم کرنے سے ان افراد کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں جن کے لئے یہ پابندی ابتدا ہی میں عائد کی گئی تھی۔
یہ پابندی بھی کسی خاص طبقے کو محروم کرنے کے لئے نہیں بلکہ کم تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدواروں کے لئے روزگار کے مواقع محفوظ رکھنے کے مقصد سے متعارف کرائی گئی تھی۔ اگر اسے مکمل طور پر ختم کیا جاتا ہے تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ان امیدواروں کے مستقبل اور مواقع کا تحفظ کیسے کیا جائے گا۔
دوسری جانب، تعلیم یافتہ نوجوانوں کو صرف اس بنیاد پر سرکاری ملازمت کے دروازے سے باہر رکھنا بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جب ہزاروں نوجوان ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود محدود مواقع کے باعث کلاس فور کی آسامیوں کا رخ کرتے ہیں تو یہ پورے روزگار نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
لہٰذا حکومت کو محض شرط ختم کرنے یا برقرار رکھنے کے بجائے دونوں طبقات کے مفادات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ کلاس فور کی نوکری کے لئے کون اہل ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کلاس فور کی نوکری تک پہنچنے پر مجبور ہی کیوں ہونا پڑ رہا ہے؟
روزگار کی یہ گتھی قواعد بدلنے سے نہیں، روزگار کے نئے اور باعزت مواقع پیدا کرنے سے سلجھے گی۔ بصورتِ دیگر، آج کلاس فور کی آسامیوں پر جاری بحث کل اس سے بھی نچلی سطح کی ملازمتوں کے لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی دوڑ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔


