وزیر اعلیٰ کی نئے ڈاکٹروں سےخدمت خلوص کرنے کی اپیل

نیوز ڈیسک
سرینگر /وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے آج شیر کشمیر انٹر نیشنل کنونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) میں منعقدہ ایک تقریب میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کے نئے مقرر کردہ میڈیکل آفیسرز کو تقرری کے احکامات سپُرد کئے ۔
جموں و کشمیر بھر میں تعینات نئے بھرتی شدہ میڈیکل آفیسرز کو ذاتی طور پر تقرری کے احکامات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے انہیں جموں و کشمیر حکومت کی سروس میں شامل ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ وہ اپنی تقرری کو عوام کی خدمت کیلئے وقف ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھیں ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تقرری مقرر کردہ افراد اور ان کے خاندانوں کی برسوں کی سخت محنت ، ثابت قدمی اور قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔
انہوں نے کہا ’’ آج آپ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے ۔ اس باب میں آپ کیا لکھیں گے اور دوسروں کے پڑھنے کیلئے کیا چھوڑیں گے ، یہ آپ پر منحصر ہے ۔ ‘‘ انہوں نے ان والدین اور خاندانوں کے تعاون اور قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا جنہوں نے ان نوجوان ڈاکٹروں کے پورے سفر میں ان کا ساتھ دیا ۔
میڈیکل کالج میں داخلے سے لیکر طبی تعلیم ، تربیت ، انٹرن شپ اور تقرری تک کے مشکل سفر کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے مقرر کردہ میڈیکل افسران نے مسلسل محنت کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے ۔
تا ہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری خدمت میں خاص طور پر صحت کے شعبے میں  شامل ہونے کے ساتھ بہت بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے، جہاں لوگ اپنی زندگی کے سب سے مشکل اور کمزور لمحات میں ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ لوگوں کو آپ سے بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں ۔ سب سے مشکل وقت میں جب لوگ کسی کی تلاش میں نکلتے ہیں تو وہ ڈاکٹر کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ کچھ لوگآپ تک تب پہنچتے ہیں جب انہوں نے اپنی تمام امیدیں چھوڑ دی ہوتی ہیں اور وہ آپ میں امید کی آخری کرن دیکھتے ہیں ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ جہاں بھی تعینات ہوں ، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خدمت انجام دیں اور کہا کہ بنیادی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانا ضروری ہے تا کہ جموں اور سرینگر کے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہو ۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معمولی طبی طریقہ کار اور علاج کیلئے سب ڈسٹرکٹ اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں سے بڑے شہروں کا سفر نہیں کرنا چاہئیے ۔
انہوں نے کہا ’’ عام ڈیلیوری ، گال بلیڈر اور اپنڈیسائٹس کی سرجریز یہ سب ڈسٹرکٹ سطح پر دستیاب ہونی چاہئیں اور کم از کم ڈسٹرکٹ سطح پر جہاں یہ سب ڈسٹرکٹ سطح پر فراہم نہیں کی جا سکتیں ۔ لیکن اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ مریضوں کو براہ راست سرینگر یا جموں بھیج دیا جاتا ہے ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ نئے تقرر شدہ ڈاکٹر اس صورحال کو تبدیل کرنے میں مدد کریں گے تا کہ لوگوں کے رہنے کی جگہوں کے قریب معیاری اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال فراہم کی جا سکے ۔
اسی کے ساتھ انہوں نے تسلیم کیا کہ دور دراز علاقوں میں تعینات ڈاکٹروں کو حکومت سے انفراسٹرکچر ، کنیکٹیویٹی اور بہتر کام کے حالات کے حوالے سے جائیز توقعات ہوں گی ۔
انہوں نے کہا ’’ آپ ہم سے توقع کریں گے کہ ہم آپ کو مناسب انفراسٹرکچر فراہم کریں تا کہ آپ اپنے فرائض صحیح طریقے سے ادا کر سکیں ۔ آپ ہم سے توقع کریں گے کہ جن علاقوں میں ہم آپ کو تعینات کرتے ہیں وہاں مناسب کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے ۔ ‘‘ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سروس کنڈیشنز اور صحت کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے کام جاری رکھے گی ۔
وزیر اعلیٰ نے دور دراز علاقوں میں تعیناتی کے بارے میں سوچ میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرنے کیلئے نئے تقرر شدہ ڈاکٹروں سے اپنی پہلے کی بات چیت کا ایک واقعہ بھی بیان کیا اور کہا کہ نسبتاً قابل رسائی جگہوں پر تعیناتی کو بھی کبھی کبھی مشکل سمجھا جاتا ہے ۔
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا ’’ ہمیں جموں و کشمیر کا مستقبل بدلنا ہے ۔ مستقبل بدلنے کیلئے ہم دو چیزوں تعلیم اور صحت پر خاص توجہ دے رہے ہیں ۔ ‘‘
انہوں نے تعلیم اور صحت کو جموں و کشمیر کی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ دیگر شعبوں میں ترقی اس وقت تک اپنی پوری صلاحیت نہیں دکھا سکتی جب تک لوگ تعلیم یافتہ اور صحت مند نہ ہوں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے تعلیم اور صحت کے محکموں کے پروگراموں کو خاص اہمیت دی ہے ۔
حکومت کی جانب سے طبی تعلیم کو مزید قابل رسائی بنانے کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر طبی تعلیم کو اب بھی کافی حد تک سبسڈی دیتا ہے تا کہ طلباء نسبتاً سستے اخراجات پر طبی تعلیم حاصل کر سکیں ۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں طبی تعلیم کئی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر سستی ہے حالانکہ ڈاکٹر کو تربیت میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے ۔
انہوں نے کہا ’’ ہم خوشی سے یہ اخراجات برداشت کرتے ہیں کیونکہ ہم زیادہ ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے مرکز کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجز میں داخلہ کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات بھی کئے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈیکل سیٹس کی تعداد بڑھانے سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا ایک بڑا ذخیرہ تیار ہو گا جو بعد میں سرکاری خدمت میں شامل ہو کر پورے جموں و کشمیر میں صحت کی خدمات کی فراہمی میں حصہ ڈال سکیں گے ۔
نئے تقرر شدہ میڈیکل آفیسرز کو حکومت کی مسلسل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ ہم آپ کے سروس کنڈیشنز کو بہتر بنائیں گے تا کہ آپ بغیر کسی خوف کے اپنا کام کر سکیں ۔ ہم آپ کا انفراسٹرکچر بھی بہتر بنائیں گے اور میڈیکل کالجز میں جہاں کہیں بھی کمی ہے وہاں بھی ہم بہتری لائیں گے ۔ ‘‘
ڈاکٹروں سے اپنی طویل سرکاری خدمت کا بھر پور فائدہ اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وہ آنے والی دہائیوں کو لوگوں کی خدمت اور جموں و کشمیر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے وقف کریں گے ۔
انہوں نے کہا ’’ آپ جموں و کشمیر کی حکومت میں داخل ہو چکے ہیں ۔ براہ کرم اسی جذبے کے ساتھ اپنا کام کریں اس امید کے ساتھ کہ لوگ آپ کو ان عہدوں پر دیکھیں اور اس امید کے ساتھ کہ آپ کے والدین اور خاندان جنہوں نے قربانیاں دے کر اور آپ کی حمایت کر کے آپ کو یہاں تک پہنچنے میں مدد دی ، آپ پر فخر کر سکیں ۔ ‘‘
نئے تقرر شدہ میڈیکل آفیسرز کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے انہیں عوامی خدمت میں کامیاب اور بامعنی کیرئیر کی خواہش کی اور تاکید کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں لگن اور ہمدردی کے ساتھ نبھائیں ۔
اس موقع پر وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر ، ہیلتھ سروسز کشمیر کے فیکلٹی ممبران ، نئے تقرر شدہ میڈیکل آفیسرز اور ان کے فخر مند والدین موجود تھے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کرگل میں ملک کا 457واںپوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا کیندر کھل گیا

جنگ نیوز ڈیسک کرگل، 2 ستمبر: وزارت امور خارجہ نے...

جموں کشمیر بینک کا دعویٰ: ’بگ ویک مہم‘ میں 3100 نوجوانوں کو قرضے جاری

جنگ نیوز جموں و کشمیر بینک اور مشن یواوا کے...

بجلی کے بقایاجات پر NRPC کاجموں کشمیر کو سخت انتباہ

  جنگ نیوز شمالی علاقائی پاور کمیٹی (NRPC) نے جموں و...

03 ستمبر 1783:معاہدۂ پیرس اور ایک نئی عالمی طاقت کا ظہور

    جنگ فیچر ڈیسک تاریخ میں بعض معاہدے محض جنگوں کا...

تازہ ترین خبریں

کرگل میں ملک کا 457واںپوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا کیندر کھل گیا

جنگ نیوز ڈیسک کرگل، 2 ستمبر: وزارت امور خارجہ نے...

جموں کشمیر بینک کا دعویٰ: ’بگ ویک مہم‘ میں 3100 نوجوانوں کو قرضے جاری

جنگ نیوز جموں و کشمیر بینک اور مشن یواوا کے...

بجلی کے بقایاجات پر NRPC کاجموں کشمیر کو سخت انتباہ

  جنگ نیوز شمالی علاقائی پاور کمیٹی (NRPC) نے جموں و...

03 ستمبر 1783:معاہدۂ پیرس اور ایک نئی عالمی طاقت کا ظہور

    جنگ فیچر ڈیسک تاریخ میں بعض معاہدے محض جنگوں کا...

وزیر اعلیٰ کی نئے ڈاکٹروں سےخدمت خلوص کرنے کی اپیل

نیوز ڈیسک
سرینگر /وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے آج شیر کشمیر انٹر نیشنل کنونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) میں منعقدہ ایک تقریب میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کے نئے مقرر کردہ میڈیکل آفیسرز کو تقرری کے احکامات سپُرد کئے ۔
جموں و کشمیر بھر میں تعینات نئے بھرتی شدہ میڈیکل آفیسرز کو ذاتی طور پر تقرری کے احکامات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے انہیں جموں و کشمیر حکومت کی سروس میں شامل ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ وہ اپنی تقرری کو عوام کی خدمت کیلئے وقف ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھیں ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تقرری مقرر کردہ افراد اور ان کے خاندانوں کی برسوں کی سخت محنت ، ثابت قدمی اور قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔
انہوں نے کہا ’’ آج آپ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے ۔ اس باب میں آپ کیا لکھیں گے اور دوسروں کے پڑھنے کیلئے کیا چھوڑیں گے ، یہ آپ پر منحصر ہے ۔ ‘‘ انہوں نے ان والدین اور خاندانوں کے تعاون اور قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا جنہوں نے ان نوجوان ڈاکٹروں کے پورے سفر میں ان کا ساتھ دیا ۔
میڈیکل کالج میں داخلے سے لیکر طبی تعلیم ، تربیت ، انٹرن شپ اور تقرری تک کے مشکل سفر کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے مقرر کردہ میڈیکل افسران نے مسلسل محنت کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے ۔
تا ہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری خدمت میں خاص طور پر صحت کے شعبے میں  شامل ہونے کے ساتھ بہت بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے، جہاں لوگ اپنی زندگی کے سب سے مشکل اور کمزور لمحات میں ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ لوگوں کو آپ سے بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں ۔ سب سے مشکل وقت میں جب لوگ کسی کی تلاش میں نکلتے ہیں تو وہ ڈاکٹر کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ کچھ لوگآپ تک تب پہنچتے ہیں جب انہوں نے اپنی تمام امیدیں چھوڑ دی ہوتی ہیں اور وہ آپ میں امید کی آخری کرن دیکھتے ہیں ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ جہاں بھی تعینات ہوں ، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خدمت انجام دیں اور کہا کہ بنیادی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانا ضروری ہے تا کہ جموں اور سرینگر کے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہو ۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معمولی طبی طریقہ کار اور علاج کیلئے سب ڈسٹرکٹ اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں سے بڑے شہروں کا سفر نہیں کرنا چاہئیے ۔
انہوں نے کہا ’’ عام ڈیلیوری ، گال بلیڈر اور اپنڈیسائٹس کی سرجریز یہ سب ڈسٹرکٹ سطح پر دستیاب ہونی چاہئیں اور کم از کم ڈسٹرکٹ سطح پر جہاں یہ سب ڈسٹرکٹ سطح پر فراہم نہیں کی جا سکتیں ۔ لیکن اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ مریضوں کو براہ راست سرینگر یا جموں بھیج دیا جاتا ہے ۔ ‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ نئے تقرر شدہ ڈاکٹر اس صورحال کو تبدیل کرنے میں مدد کریں گے تا کہ لوگوں کے رہنے کی جگہوں کے قریب معیاری اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال فراہم کی جا سکے ۔
اسی کے ساتھ انہوں نے تسلیم کیا کہ دور دراز علاقوں میں تعینات ڈاکٹروں کو حکومت سے انفراسٹرکچر ، کنیکٹیویٹی اور بہتر کام کے حالات کے حوالے سے جائیز توقعات ہوں گی ۔
انہوں نے کہا ’’ آپ ہم سے توقع کریں گے کہ ہم آپ کو مناسب انفراسٹرکچر فراہم کریں تا کہ آپ اپنے فرائض صحیح طریقے سے ادا کر سکیں ۔ آپ ہم سے توقع کریں گے کہ جن علاقوں میں ہم آپ کو تعینات کرتے ہیں وہاں مناسب کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے ۔ ‘‘ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سروس کنڈیشنز اور صحت کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے کام جاری رکھے گی ۔
وزیر اعلیٰ نے دور دراز علاقوں میں تعیناتی کے بارے میں سوچ میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرنے کیلئے نئے تقرر شدہ ڈاکٹروں سے اپنی پہلے کی بات چیت کا ایک واقعہ بھی بیان کیا اور کہا کہ نسبتاً قابل رسائی جگہوں پر تعیناتی کو بھی کبھی کبھی مشکل سمجھا جاتا ہے ۔
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا ’’ ہمیں جموں و کشمیر کا مستقبل بدلنا ہے ۔ مستقبل بدلنے کیلئے ہم دو چیزوں تعلیم اور صحت پر خاص توجہ دے رہے ہیں ۔ ‘‘
انہوں نے تعلیم اور صحت کو جموں و کشمیر کی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ دیگر شعبوں میں ترقی اس وقت تک اپنی پوری صلاحیت نہیں دکھا سکتی جب تک لوگ تعلیم یافتہ اور صحت مند نہ ہوں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے تعلیم اور صحت کے محکموں کے پروگراموں کو خاص اہمیت دی ہے ۔
حکومت کی جانب سے طبی تعلیم کو مزید قابل رسائی بنانے کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر طبی تعلیم کو اب بھی کافی حد تک سبسڈی دیتا ہے تا کہ طلباء نسبتاً سستے اخراجات پر طبی تعلیم حاصل کر سکیں ۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں طبی تعلیم کئی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر سستی ہے حالانکہ ڈاکٹر کو تربیت میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے ۔
انہوں نے کہا ’’ ہم خوشی سے یہ اخراجات برداشت کرتے ہیں کیونکہ ہم زیادہ ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے مرکز کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجز میں داخلہ کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات بھی کئے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈیکل سیٹس کی تعداد بڑھانے سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا ایک بڑا ذخیرہ تیار ہو گا جو بعد میں سرکاری خدمت میں شامل ہو کر پورے جموں و کشمیر میں صحت کی خدمات کی فراہمی میں حصہ ڈال سکیں گے ۔
نئے تقرر شدہ میڈیکل آفیسرز کو حکومت کی مسلسل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ ہم آپ کے سروس کنڈیشنز کو بہتر بنائیں گے تا کہ آپ بغیر کسی خوف کے اپنا کام کر سکیں ۔ ہم آپ کا انفراسٹرکچر بھی بہتر بنائیں گے اور میڈیکل کالجز میں جہاں کہیں بھی کمی ہے وہاں بھی ہم بہتری لائیں گے ۔ ‘‘
ڈاکٹروں سے اپنی طویل سرکاری خدمت کا بھر پور فائدہ اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وہ آنے والی دہائیوں کو لوگوں کی خدمت اور جموں و کشمیر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے وقف کریں گے ۔
انہوں نے کہا ’’ آپ جموں و کشمیر کی حکومت میں داخل ہو چکے ہیں ۔ براہ کرم اسی جذبے کے ساتھ اپنا کام کریں اس امید کے ساتھ کہ لوگ آپ کو ان عہدوں پر دیکھیں اور اس امید کے ساتھ کہ آپ کے والدین اور خاندان جنہوں نے قربانیاں دے کر اور آپ کی حمایت کر کے آپ کو یہاں تک پہنچنے میں مدد دی ، آپ پر فخر کر سکیں ۔ ‘‘
نئے تقرر شدہ میڈیکل آفیسرز کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے انہیں عوامی خدمت میں کامیاب اور بامعنی کیرئیر کی خواہش کی اور تاکید کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں لگن اور ہمدردی کے ساتھ نبھائیں ۔
اس موقع پر وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر ، ہیلتھ سروسز کشمیر کے فیکلٹی ممبران ، نئے تقرر شدہ میڈیکل آفیسرز اور ان کے فخر مند والدین موجود تھے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں