بھارت میں چینی، نمک، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور غیر صحت بخش چکنائی سے بھرپور غذاؤں کا بڑھتا استعمال تشویش ناک ہے۔ ایسے وقت میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کی جانب سے پیک شدہ غذاؤں پر سرخ مسدس شکل کے وارننگ لیبل لگانے کی تجویز ایک خوش آئند قدم ہے۔ میٹھے مشروبات کے لئے بھی الگ انتباہی نشان تجویز کیا گیا ہے۔
اس اقدام کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بھارت بچوں میں موٹاپے کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فوڈ ریگولیٹر کو وارننگ لیبلز کے معاملے میں سست روی پر تنقید بھی اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
یقیناً صرف لیبل لگانے سے غذائی عادات نہیں بدلیں گی۔ آمدنی، آگاہی، ثقافت اور صحت مند غذا کی دستیابی جیسے عوامل بھی اہم ہیں۔ تاہم عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ واضح وارننگز صارفین کے انتخاب پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ چلی میں وارننگ لیبل متعارف ہونے کے بعد میٹھے مشروبات کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
بھارت کے لئے ضروری ہے کہ لیبل واضح، نمایاں اور آسان زبان میں ہوں۔ سابقہ ’ہیلتھ اسٹار ریٹنگ‘ کے بجائے واضح انتباہ زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، کیونکہ ستارے بعض اوقات مثبت تاثر پیدا کرتے ہیں۔
تاہم اصل ضرورت ایک جامع پالیسی کی ہے جس میں بچوں کو غیر صحت بخش اشتہارات سے تحفظ، اسکولوں میں غذائی آگاہی، خوراک میں نمک اور چینی کی کمی اور صحت مند غذاؤں کو سستا اور قابلِ رسائی بنانا شامل ہو۔
سرخ نشان مسئلے کا مکمل حل نہیں، مگر صحت کے تحفظ کی جانب ایک ضروری قدم ضرور ہے۔
خوراک پر سرخ نشان!
خوراک پر سرخ نشان!
بھارت میں چینی، نمک، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور غیر صحت بخش چکنائی سے بھرپور غذاؤں کا بڑھتا استعمال تشویش ناک ہے۔ ایسے وقت میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کی جانب سے پیک شدہ غذاؤں پر سرخ مسدس شکل کے وارننگ لیبل لگانے کی تجویز ایک خوش آئند قدم ہے۔ میٹھے مشروبات کے لئے بھی الگ انتباہی نشان تجویز کیا گیا ہے۔
اس اقدام کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بھارت بچوں میں موٹاپے کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فوڈ ریگولیٹر کو وارننگ لیبلز کے معاملے میں سست روی پر تنقید بھی اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
یقیناً صرف لیبل لگانے سے غذائی عادات نہیں بدلیں گی۔ آمدنی، آگاہی، ثقافت اور صحت مند غذا کی دستیابی جیسے عوامل بھی اہم ہیں۔ تاہم عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ واضح وارننگز صارفین کے انتخاب پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ چلی میں وارننگ لیبل متعارف ہونے کے بعد میٹھے مشروبات کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
بھارت کے لئے ضروری ہے کہ لیبل واضح، نمایاں اور آسان زبان میں ہوں۔ سابقہ ’ہیلتھ اسٹار ریٹنگ‘ کے بجائے واضح انتباہ زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، کیونکہ ستارے بعض اوقات مثبت تاثر پیدا کرتے ہیں۔
تاہم اصل ضرورت ایک جامع پالیسی کی ہے جس میں بچوں کو غیر صحت بخش اشتہارات سے تحفظ، اسکولوں میں غذائی آگاہی، خوراک میں نمک اور چینی کی کمی اور صحت مند غذاؤں کو سستا اور قابلِ رسائی بنانا شامل ہو۔
سرخ نشان مسئلے کا مکمل حل نہیں، مگر صحت کے تحفظ کی جانب ایک ضروری قدم ضرور ہے۔


