جنگ نیوز
سری نگر/سری نگر میں بدھ کے روز حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے الگ الگ احتجاجی مظاہرے کرکے ایک دوسرے کی حکومتوں اور پالیسیوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث شہر میں سیاسی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔
بی جے پی کارکنوں نے لال چوک کے گھنٹہ گھر کے قریب جمع ہوکر نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کے خلاف نعرے بلند کیے اور سول سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کے قریب رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
بی جے پی کے جموں و کشمیر صدر اور راجیہ سبھا رکن ست شرما نے حکومت پر ترقیاتی محاذ پر ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو باقی تین سال کے دوران کام کرنا چاہیے یا اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے بجلی، پانی، سڑکوں اور روزگار کے مسائل پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ احتجاج عوامی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں میں روزگار کے مسائل اور بجلی، پانی اور سڑکوں سے متعلق مشکلات کا حوالہ دیا۔
سنیل شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ریاستی درجے کے معاملے پر عوامی حمایت کے بارے میں پُراعتماد ہیں تو گاندربل اسمبلی نشست سے استعفیٰ دے کر اسی مسئلے پر تازہ عوامی مینڈیٹ حاصل کریں۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے راج باغ کے گنڈون اسپورٹس کمپلیکس سے بی جے پی کے جموں و کشمیر دفتر کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے راج باغ تھانے کے قریب جلوس کو روک دیا جبکہ بعض مظاہرین کو احتیاطی حراست میں بھی لیا گیا۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویـر صادق نے کہا کہ احتجاج کا مقصد مرکز میں بی جے پی کی قیادت کو جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدے یاد دلانا ہے۔ انہوں نے ریاستی درجہ بحال کرنے، آئینی ضمانتیں فراہم کرنے اور نوجوانوں سے متعلق ریزرویشن کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
کابینہ وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے خصوصی درجے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے لئے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ دو برس تک انتظار کے بعد نیشنل کانفرنس کو احتجاج کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ انہوں نے ریاستی درجے کی بحالی، ریزرویشن میں معقولیت اور ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری میں تاخیر پر سوالات اٹھائے۔
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ چودھری رمضان نے کہا کہ احتجاج کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو جموں و کشمیر سے متعلق مبینہ نامکمل وعدے یاد دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی بحالی تک پارٹی وقتاً فوقتاً احتجاج جاری رکھے گی۔
وزیر اعلیٰ کہتے ہیں!
عمر عبداللہ نے سری نگر میں نیشنل کانفرنس (NC) اور بی جے پی (BJP) کے احتجاج کا موازنہ مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے دونوں مظاہروں سے مختلف سلوک کیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو احتجاج کی اجازت دی گئی، جبکہ نیشنل کانفرنس کے مظاہرے کو ’’بے رحمی سے کچل دیا گیا‘‘۔
شام دیر گئے۔۔۔
محبوبہ مفتی نے بھی علیحدہ احتجاج میں حصہ لیا، طبی طلبہ کے وظیفے میں اضافے کا مطالبہ کیا

سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جی ایم سی بمنہ سری نگر کے طبی طلبہ کے نصف شب احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ان کے 30 ہزار روپے تک کے جائز وظیفے کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے احتجاجی طلبہ سے ملاقات بھی کی اور رات گئے منعقدہ موم بتی مارچ میں ان کے مطالبے کی تائید کی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا جب سری نگر میں حکمران نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن بی جے پی نے بھی مختلف سیاسی و عوامی مسائل پر الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔


