جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد دوبارہ فوجی حملوں نے واضح کردیا ہے کہ دونوں ملکوں کی کشیدگی اب بھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں تنازع زیادہ تر اقتصادی پابندیوں اور توانائی کی سیاست کے گرد گھوم رہا تھا، مگر تازہ حملوں نے عسکری محاذ کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بحران میں جنگ اور معیشت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لئے نئی پابندیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن تہران برسوں سے پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے متبادل راستے اختیار کرتا آیا ہے۔ اس معاملے میں چین بھی ایک اہم عنصر ہے، جو ایران کے تیل کا بڑا خریدار ہے۔ چینی کمپنیوں کو نشانہ بنانا امریکہ کے لئے آسان نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے اپنے تجارتی مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان امن اور مذاکرات کے امکانات کی بات کررہے ہیں، مگر ایران کے سخت گیر عسکری حلقے کسی بڑی رعایت کو کمزوری تصور کرسکتے ہیں۔ یہی داخلی اختلاف کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اس تمام کشمکش کا مرکز بالآخر آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ یہاں معمولی فوجی کشیدگی بھی عالمی تیل کی قیمتوں اور معیشت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
تازہ واقعات سے واضح ہے کہ نہ امریکہ فوجی آپشن ترک کرنے کو تیار ہے اور نہ ایران دباؤ کے آگے مکمل پسپائی پر آمادہ ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر کوئی پائیدار سمجھوتہ نہیں ہوتا، فوجی حملوں اور اقتصادی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ ایسے میں طاقت کے بجائے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جو اس خطرناک بحران کو ایک بڑے علاقائی اور عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد دوبارہ فوجی حملوں نے واضح کردیا ہے کہ دونوں ملکوں کی کشیدگی اب بھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں تنازع زیادہ تر اقتصادی پابندیوں اور توانائی کی سیاست کے گرد گھوم رہا تھا، مگر تازہ حملوں نے عسکری محاذ کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بحران میں جنگ اور معیشت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لئے نئی پابندیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن تہران برسوں سے پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے متبادل راستے اختیار کرتا آیا ہے۔ اس معاملے میں چین بھی ایک اہم عنصر ہے، جو ایران کے تیل کا بڑا خریدار ہے۔ چینی کمپنیوں کو نشانہ بنانا امریکہ کے لئے آسان نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے اپنے تجارتی مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان امن اور مذاکرات کے امکانات کی بات کررہے ہیں، مگر ایران کے سخت گیر عسکری حلقے کسی بڑی رعایت کو کمزوری تصور کرسکتے ہیں۔ یہی داخلی اختلاف کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اس تمام کشمکش کا مرکز بالآخر آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ یہاں معمولی فوجی کشیدگی بھی عالمی تیل کی قیمتوں اور معیشت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
تازہ واقعات سے واضح ہے کہ نہ امریکہ فوجی آپشن ترک کرنے کو تیار ہے اور نہ ایران دباؤ کے آگے مکمل پسپائی پر آمادہ ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر کوئی پائیدار سمجھوتہ نہیں ہوتا، فوجی حملوں اور اقتصادی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ ایسے میں طاقت کے بجائے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جو اس خطرناک بحران کو ایک بڑے علاقائی اور عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں