نیپال کے سیلاب اور خاموش کشمیر

جب نیپال کے تباہ کن سیلاب کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو ان مناظر نے کشمیر کے ماہر ارضیات کے علاوہ ذی شعور لیڈران خاص کر میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کی توجہ فوراً اپنی جانب مبذول کرلی۔ پانی کے بے قابو ریلے اور لمحوں میں بدلتا منظرنامہ محض ایک آفت کی خبر نہیں تھا۔ ایک ماہراور مبلغ کی نظر اس تباہی کے پیچھے موجود زمین، پہاڑوں اور دریاؤں کی کہانی کو پڑھنے لگی۔ ہم عام طور پر سیلاب کو صرف موسلا دھار بارش کا نتیجہ سمجھتے ہیں، لیکن ایک ماہر کے لئے ہر آفت کئی سوالات اٹھاتی ہے: پانی کہاں سے آیا؟ اس نے اپنا راستہ کیوں بدلا؟ اور کیا انسانی مداخلت نے تباہی کو مزید سنگین بنایا؟
نیپال کی تباہی یاد دلاتی ہے کہ ہمالیائی خطہ صرف خوبصورت پہاڑوں اور وادیوں کا نام نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس جغرافیائی نظام بھی ہے۔ کشمیر، نیپال اور دیگر پہاڑی خطے بدلتے موسم، غیر معمولی بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور بے ہنگم تعمیرات جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم پہاڑوں کو جامد سمجھتے ہیں۔ مگر دریا راستے بدلتے ہیں، ڈھلوانیں اپنی حدود رکھتی ہیں اور زمین مسلسل حرکت میں رہتی ہے۔ جب انسان قدرتی حدود کو نظر انداز کرتا ہے تو تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہر قدرتی واقعہ لازماً قدرتی تباہی نہیں ہوتا۔ بارش اور دریا کا بہاؤ فطری ہیں، مگر جب بستیاں اور تعمیرات خطرناک مقامات پر قائم کی جائیں تو یہی فطری عمل انسانی سانحہ بن سکتا ہے۔
نیپال کی تصاویر کشمیر سے بھی سوال کرتی ہیں: کیا ہم اپنے ندی نالوں اور سیلابی میدانوں کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہماری منصوبہ بندی مستقبل کے موسمی خطرات کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے؟
موسمیاتی تبدیلی نے پرانے اندازوں کو بدل دیا ہے۔ چند گھنٹوں کی بارش تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لئے صرف امدادی کارروائیاں کافی نہیں، پیشگی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ نیپال کا سانحہ پورے ہمالیائی خطے کے لئے ایک وارننگ ہے۔ ہمیں قدرت کے ساتھ جنگ کرنے کے بجائے اس کے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ تصاویر لمحاتی صدمہ دیتی ہیں، مگر زمین کی کہانی سمجھنا مستقبل کو بچا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

تازہ ترین خبریں

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

نیپال کے سیلاب اور خاموش کشمیر

جب نیپال کے تباہ کن سیلاب کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو ان مناظر نے کشمیر کے ماہر ارضیات کے علاوہ ذی شعور لیڈران خاص کر میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کی توجہ فوراً اپنی جانب مبذول کرلی۔ پانی کے بے قابو ریلے اور لمحوں میں بدلتا منظرنامہ محض ایک آفت کی خبر نہیں تھا۔ ایک ماہراور مبلغ کی نظر اس تباہی کے پیچھے موجود زمین، پہاڑوں اور دریاؤں کی کہانی کو پڑھنے لگی۔ ہم عام طور پر سیلاب کو صرف موسلا دھار بارش کا نتیجہ سمجھتے ہیں، لیکن ایک ماہر کے لئے ہر آفت کئی سوالات اٹھاتی ہے: پانی کہاں سے آیا؟ اس نے اپنا راستہ کیوں بدلا؟ اور کیا انسانی مداخلت نے تباہی کو مزید سنگین بنایا؟
نیپال کی تباہی یاد دلاتی ہے کہ ہمالیائی خطہ صرف خوبصورت پہاڑوں اور وادیوں کا نام نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس جغرافیائی نظام بھی ہے۔ کشمیر، نیپال اور دیگر پہاڑی خطے بدلتے موسم، غیر معمولی بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور بے ہنگم تعمیرات جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم پہاڑوں کو جامد سمجھتے ہیں۔ مگر دریا راستے بدلتے ہیں، ڈھلوانیں اپنی حدود رکھتی ہیں اور زمین مسلسل حرکت میں رہتی ہے۔ جب انسان قدرتی حدود کو نظر انداز کرتا ہے تو تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہر قدرتی واقعہ لازماً قدرتی تباہی نہیں ہوتا۔ بارش اور دریا کا بہاؤ فطری ہیں، مگر جب بستیاں اور تعمیرات خطرناک مقامات پر قائم کی جائیں تو یہی فطری عمل انسانی سانحہ بن سکتا ہے۔
نیپال کی تصاویر کشمیر سے بھی سوال کرتی ہیں: کیا ہم اپنے ندی نالوں اور سیلابی میدانوں کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہماری منصوبہ بندی مستقبل کے موسمی خطرات کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے؟
موسمیاتی تبدیلی نے پرانے اندازوں کو بدل دیا ہے۔ چند گھنٹوں کی بارش تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لئے صرف امدادی کارروائیاں کافی نہیں، پیشگی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ نیپال کا سانحہ پورے ہمالیائی خطے کے لئے ایک وارننگ ہے۔ ہمیں قدرت کے ساتھ جنگ کرنے کے بجائے اس کے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ تصاویر لمحاتی صدمہ دیتی ہیں، مگر زمین کی کہانی سمجھنا مستقبل کو بچا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں