جنگ نیوز
سرینگر: جموں و کشمیر میں بجلی کے صارفین کو یکم ستمبر 2026 سے زیادہ قیمت ادا کرنی ہوگی، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (JERC) نے بجلی نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
کمیشن کے مطابق کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) اور جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) نے نرخوں میں 5 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم منظوری 6.83 فیصد اضافے کی دی گئی۔
نئے نرخوں سے بجلی شعبے کی آمدنی میں تقریباً 502 کروڑ روپے کا اضافہ متوقع ہے۔ کمیشن نے بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے 2,420.78 کروڑ روپے کی مالی معاونت کے باوجود آمدنی کا فرق برقرار تھا۔
JERC کے مطابق اگر پورا مالی بوجھ صرف صارفین سے وصول کیا جاتا تو بجلی نرخوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ کرنا پڑتا۔ کمیشن نے KPDCL اور JPDCL کو نئے ٹیرف آرڈر پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دی ہے۔
پہلی 200 یونٹس کے لیے جموں و کشمیر میں نرخ 2.45 روپے فی یونٹ، پنجاب میں 3.85، مہاراشٹر میں 3.25، کیرالہ میں 3.50 اور راجستھان میں 4.75 روپے
جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کے باوجود گھریلو صارفین کے لیے بجلی کئی بڑی ریاستوں کے مقابلے میں اب بھی نسبتاً سستی ہے۔
تازہ نرخوں کے مطابق جموں و کشمیر میں پہلی 200 یونٹس کے لیے بجلی کی قیمت 2.45 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ پنجاب میں یہ 3.85 روپے، مہاراشٹر میں 3.25 روپے، کیرالہ میں 3.50 روپے اور راجستھان میں 4.75 روپے فی یونٹ ہے۔
نرخوں میں حالیہ اضافے پر اگرچہ صارفین اور سیاسی حلقوں نے تنقید کی ہے، تاہم مختلف ریاستوں کے بنیادی گھریلو بجلی نرخوں کا موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ابتدائی استعمال کے لیے بجلی اب بھی کئی ریاستوں کے مقابلے میں کم قیمت پر دستیاب ہے۔
واضح رہے کہ مختلف ریاستوں میں بجلی کے بلوں پر فکسڈ چارجز، ایندھن ایڈجسٹمنٹ اور حکومتی سبسڈی بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے حتمی ماہانہ بل صارفین کے استعمال اور متعلقہ ریاست کی پالیسی کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
نرخوں میں اضافے پر حکومت تنقید کی زد میں!
جموں و کشمیر میں بجلی نرخوں میں6.83 فیصد اضافے پر اپوزیشن جماعتوں اور تاجر برادری نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 200 یونٹ مفت بجلی کے انتخابی وعدے پر سوال اٹھایا ہے۔
قائد حزب اختلاف سنیل شرما، پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون، NC کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی، PDP کے وحید الرحمٰن پرہ اور اپنی پارٹی کے الطاف بخاری نے اضافے کو عوام پر مزید بوجھ قرار دیا۔
کشمیر ٹریڈ الائنس (KTA) نے بھی کہا کہ بجلی نرخوں میں اضافہ کاروباری شعبے اور جموں و کشمیر کی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا۔


